اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری سروسز (پپس) میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی بھرتی کے نتائج میں مبینہ ردوبدل کے خلاف درخواست پر ادارے سے بھرتیوں کا ریکارڈ دوبارہ طلب کرلیا۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے امیدوار احمد مجتبیٰ کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت کے سابقہ حکم کے باوجود پپس کی جانب سے بھرتیوں کا ریکارڈ پیش نہیں کیا جا سکا، جس پر عدالت نے دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 اکتوبر تک مکمل ریکارڈ طلب کرلیا۔
درخواست گزار احمد مجتبیٰ خود عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل بھی عدالت میں موجود تھے۔ سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ ”یہ بچہ اپنے حق کے لیے کھڑا ہے، یہ کیس یہاں لایا ہے، اچھی بات ہے“۔
جسٹس ارباب محمد طاہر نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ کیا انہوں نے کبھی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ملازمین کا ریکارڈ چیک کیا ہے؟ عدالت نے ریمارکس دیے کہ کبھی یہ بھی چیک کریں کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں کتنے ملازمین رکھے گئے ہیں اور گنجائش کتنی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے انفارمیشن کمیشن کے ذریعے سینیٹ اور اس کے ماتحت ادارے پپس کے ملازمین کا ریکارڈ طلب کیا تھا، تاہم چیئرمین سینیٹ کی جانب سے جواب دیا گیا کہ پپس کا تمام ریکارڈ کلاسیفائیڈ ہے۔
سماعت کے دوران وکیل شہزاد شوکت عدالت میں پیش نہ ہوئے اور ان کی جانب سے التوا کی درخواست جمع کرائی گئی۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا کہ آج شہزاد شوکت موجود نہیں ہیں اور انہوں نے التوا کی درخواست کی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے 4 نومبر 2025 کے تبدیل شدہ بھرتی نتائج پر عملدرآمد فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا بھی کی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔