حوثیوں نے بدھ کو جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اس نے یہ امریکی ساختہ طیارہ ’مقامی طور پر تیار کیے گئے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ صوبہ مارب کے علاقے میں جارحانہ کارروائیاں انجام دے رہا تھا۔‘
بی بی سی نے ایک ویڈیو کی تصدیق کی ہے جس میں سعودی عرب کے ایک ایف-15 لڑاکا طیارے کا ملبہ دکھائی دے رہا ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کا کہنا ہے کہ اس طیارے کو یمن کی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
حوثیوں نے بدھ کو جاری اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اس نے یہ امریکی ساختہ طیارہ ’مقامی طور پر تیار کیے گئے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ صوبہ مارب کے علاقے میں جارحانہ کارروائیاں انجام دے رہا تھا۔‘
ماہرین نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ حوثیوں کے لیے ایک ’کامیابی‘ ہے جسے ’پروپیگنڈا‘ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور وہ سعودی عرب کے ساتھ جاری تنازع میں مزید شدت لانے کے لیے تیار ہیں۔
بی بی سی ویریفائی نے ویڈیو میں نظر آنے والے زمینی خد و خال کا سیٹیلائٹ تصاویر سے موازنہ کرتے ہوئے اس مقام کی نشاندہی کی ہے۔ اس تجزیے کے مطابق طیارہ یمن کے شہر مارب کے مغرب میں واقع پہاڑی اور نسبتاً ویران علاقے میں گر کر تباہ ہوا تھا۔
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد اور حوثیوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع گذشتہ ہفتے اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب حوثیوں نے حکومت نواز افواج کے خلاف نئی عسکری کارروائیاں شروع کیں۔
اس پیش قدمی کے نتیجے میں حوثیوں نے یمن کے جنوب مغربی ساحلی علاقے میں اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا، جن میں آبنائے باب المندب کے قریب واقع سٹریٹیجک مقامات بھی شامل ہیں۔
سعودی ایف 15 طیارے کا ملبہحوثیوں کی جانب سے جاری کی گئی متعدد ویڈیوز میں مسلح جنگجوؤں کو جائے وقوعہ پر تباہ شدہ طیارے کا معائنہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیوز میں جنگجو خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لڑاکا طیارے کے اس پرزے کو اٹھائے نظر آتے ہیں، جس پر سعودی عرب کا پرچم اور چار ہندسوں پر مشتمل سیریئل نمبر واضح طور پر دکھائی دیتا ہے۔
طیارے کے عملے کے بارے میں فوری طور پر کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
حوثیوں نے مبینہ طور پر طیارہ مار گرائے جانے کی ایک تھرمل ویڈیو بھی جاری کی ہے، تاہم بصری تفصیلات کی کمی کے باعث اس کی مکمل اور آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ ویڈیو میں بظاہر ایک لڑاکا طیارہ دورانِ پرواز میزائل کی زد میں آتا دکھائی دیتا ہے۔
بی بی سی ویریفائی نے اس دعوے پر مؤقف جاننے کے لیے سعودی وزارتِ دفاع سے رابطہ کیا ہے۔
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ (روسی) میں یمن امور کے تجزیہ کار برا شیبان نے بی بی سی ویریفائی کو بتایا کہ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ ’حوثی ایران کی جانب سے ملنے والی رہنمائی اور تکنیکی معاونت سے واضح طور پر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حوثی اپنی فوجی صلاحیتوں اور ہتھیاروں کے ذخیرے کو مسلسل بڑھا رہے ہیں تاکہ سعودی عرب کے لیے صورتحال کو مزید سے مزید مشکل اور تکلیف دہ بنایا جا سکے۔‘
دوسری جانب واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک نیو امریکہ کے یمن امور کے ماہر ایڈم بیرن کے مطابق ایف-15 طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ حوثیوں کے لیے ایک ’بڑی پروپیگنڈا کامیابی‘ ہے۔
ان کے مطابق ’آنکھ کے بدلے آنکھ‘ کی حکمت عملی حوثی گروپ کے عوامی بیانیے کا ایک اہم جزو رہی ہے۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ سعودی عرب کو یہ پیغام دیا جائے کہ ’فضائی طاقت کے استعمال کی ایک قیمت ادا کرنا پڑے گی۔‘
بی بی سی نے ویڈیو میں دکھائے گئے مقام کی تصدیق کی ہے بی بی سی ویریفائی نے ویڈیو میں نظر آنے والے منفرد جغرافیائی خد و خال، جن میں پہاڑی ڈھلوانیں اور چٹانی چہرے شامل تھے، کا سورج کی پوزیشن اور سیٹیلائٹ تصاویر کی مدد سے تجزیہ کیا اور طیارہ گرنے کے مقام کی نشاندہی کی۔
اس تجزیے کے مطابق جائے وقوعہ یمن کے شہر مارب سے تقریباً 40 کلومیٹر مغرب میں واقع ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے میں ہے۔
بدھ کے روز شائع ہونے والی سیٹیلائٹ تصاویر میں بھی اسی مقام پر ایک نیا سیاہ نشان دکھائی دیتا ہے، جو بظاہر طیارہ گرنے کے مقام پر آگ یا دھماکے سے پیدا ہونے والے جلنے کے آثار سے مطابقت رکھتا ہے۔
جینز کے عسکری انٹیلی جنس ادارے سے منسلک ہتھیاروں کے ماہر نک براؤن نے ملبے میں موجود طیارے کی آزادانہ طور پر شناخت ایف-15 اسٹرائیک ایگل کے طور پر کی ہے۔
انھوں نے جہاز کی شناخت کرنے کے لیے طیارے کی دم کے ڈیزائن، ریڈار اینٹینا اور میزائل وارننگ سسٹم کے سینسرز کا جائزہ لیا۔
ان چیزوں کا جائزہ لینے کے بعد براؤن اس نتیجے پر پہنچے کہ ملبے میں دکھایا گیا طیارہ ایف 15 سٹرائیک ایگل ہے، جو سعودی فضائیہ کے زیرِ استعمال امریکی ساختہ لڑاکا طیاروں میں شامل ہے۔
سعودی عرب کے زیر استعمال ایف 15 طیارہملبے میں نظر آنے والا چار ہندسوں پر مشتمل ٹیل نمبر بھی بظاہر رائل سعودی ایئر فورس کے 55ویں سکواڈرن کے ایک ایف-15 اسٹرائیک ایگل طیارے سے مطابقت رکھتا ہے، جو جنوب مغربی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کے قریب واقع کنگ خالد ایئربیس پر تعینات ہے۔
یہ فضائی اڈہ، جو طیارے کے مقام سے تقریباً 392 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، گذشتہ ہفتے حوثیوں کے بقول ’میزائلوں اور ڈرونز‘ کا نشانہ بنا تھا۔
بی بی سی ویریفائی کی جانب سے تجزیہ کی گئی سیٹیلائٹ تصاویر سے بظاہر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں کم از کم تین طیارہ ہینگرز یا حفاظتی شیلٹرز کو نقصان پہنچا تھا۔
کنگ خالد ایئربیس اور جازان کی تنصیبات پر حملے صرف عسکری نہیں بلکہ توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

سعودی عرب نے بدھ کے روز دعویٰ کیا تھا کہ اس نے منگل کو مقدس شہر مکہ کے قریب ایک حوثی ڈرون تباہ کر دیا تھا، تاہم حوثیوں نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا نشانہ مکہ نہیں تھا۔
دوسری جانب حوثی گروپ نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب نے یمن کے مختلف علاقوں پر 40 فضائی حملے کیے ہیں۔