کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک خاتون اور اُس کے تین بچوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔
فائل فوٹوکراچی پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک خاتون اور اُس کے تین بچوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا ہے۔
جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کراچی غربی کے آفس سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ پولیس ملزم محمد ہمایوں خان کو مبینہ آلہ قتل (وہ سریا جس کی مدد سے خاتون اور اُن کے تین بچوں کو قتل کیا گیا تھا) کی برآمدگی کے لیے لے کر گئی تھی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ جب اہلکار سریا تلاش کر رہے تھے تو ملزم نے ’موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے‘ ایک اہلکار کی پستول چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی اور اس دوران ملزم نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہو گیا جبکہ پولیس کی جانب سے اپنے دفاع میں کی گئی فائرنگ سے ملزم موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
ترجمان ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزم سے چھینا گیا سرکاری پستول بھی برآمد کر لیا گیا جبکہ پولیس مبینہ آلہ قتل یعنی سریا بھی تلاش کرنے میں کامیاب رہی۔
واقعے کی ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟
پیر کی شام سرجانی ٹاؤن میں ایک گھر کے اندر ایک خاتون اور اُس کے تین بچوں کا قتل کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے تین روز بعد جمعرات کو کراچی پولیس نے اس واقعے میں ملوث مبینہ ملزم کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
ملزم کی شناخت محمد ہمایوں خان کے نام سے کی گئی تھی اور پولیس کے مطابق ملزم مقتولہ کے شوہر کا رشتہ دار تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کچھ عرصہ قبل تک قتل ہونے والی خاتون کے گھر کے بالائی حصے میں کرائے دار کی حیثیت سے رہتا تھا تاہم بعد ازاں اُسے وہاں سے نکال دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود اس کا اس گھر میں آنا جانا تھا۔
14 ستمبر کی شام پیش آئے اس واقعے کی ایف آئی آر مقتولہ کے سُسر کی مدعیت میں تھانہ سرجانی ٹاؤن میں درج کی گئی تھی۔
34 سالہ مہوش اور اُن کے تین بچوں – آنھ سالہ میرہ، چھ سالہ حسنین اور ڈھائی سالہ اشمیرہ – کی لاشیں سرجانی ٹاؤن میں واقع اُن کے گھر سے برآمد ہوئی تھیں۔
ابتدائی طور پر پولیس کا کہنا تھا کہ ان چاروں افراد کو راڈ، ڈنڈے یا اِسی نوعیت کے کسی آوزار کی مدد سے قتل کیا گیا تھا۔
اس کیس کا مقدمہ قتل کی دفعات کے تحت نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا تھا۔
مدعی مقدمہ کے مطابق اُن کے بیٹے کی مقتولہ مہوش سے شادی ہوئی تھی اور دونوں میاں بیوی اپنے تین بچوں کے ساتھ سرجانی ٹاؤن میں واقع گھر میں رہتے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ واقعہ کے روز گھر والوں سے رابطہ کرنے پر جب انھیں جواب نہ ملا تو وہ سرجانی ٹاؤن گئے جہاں انھوں نے اپنی بہو مہوش اور اُس کے تین بچوں کو مردہ حالت میں پایا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر چھوٹی بچی زندہ تھی تاہم دوران علاج وہ بھی دم توڑ گئی۔
جمعرات کی صبح کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی ویسٹ عرفان بلوچ نے اس کیس میں ملوث ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اعترافِ جرم کر لیا ہے اور اب پولیس اُس آلہ قتل (سریا) کی تلاش میں ہے جو ملزم نے واردات کے بعد ایک نالے میں پھینک دیا تھا۔
یاد رہے کہ پولیس کی حراست میں کیے گئے اعتراف جرم کی قانونی حیثیت نہیں ہوتی جب تک کہ ملزم مجسٹریٹ کے سامنے اپنا یہ بیان ریکارڈ نہ کروا دے، جو کہ پولیس کی غیرموجودگی میں ریکارڈ کیا جاتا ہے۔
پولیس ملزم تک کیسے پہنچی؟
ڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق پولیس نے واقعے کے بعد گھر آنے جانے والے افراد اور دیگر گواہوں سے پوچھ گچھ شروع کی، جس کے دوران مقتولہ کی ایک دوست نے بتایا کہ وہ تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب مہوش کے گھر میں موجود تھی۔
ان کے مطابق اس وقت ملزم ہی وہ واحد شخص تھا جو وہاں آیا تھا۔ اس کے بعد پولیس کو ایک اور گواہ بھی ملا جس نے بتایا کہ قتل کے بعد ملزم کو ’گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا اور اسے سلام بھی کیا تھا۔‘
پولیس نے مزید بتایا کہ نیو کراچی میں رہنے والے ملزم نے وقوعے کے روز اپنا کیٹرنگ کا ٹھیلا بند رکھا اور وہاں سے چھٹی کی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے ’گھر سے نکلتے وقت اپنا موبائل فون بند کر دیا تھا۔ موٹر سائیکل بھی گھر پر چھوڑ دی اور چنگ چی رکشے کے ذریعے سرجانی ٹاؤن پہنچا۔‘
ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق تفتیش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ ملزم تقریباً ڈیڑھ بجے کے قریب مقتولہ کے گھر پہنچا تھا۔
ڈی آئی جی کے مطابق یہ دونوں معلومات ملزم کو پولیس کے لیے اہم مشتبہ شخص بنانے کا سبب بنیں۔ اس کے بعد پولیس نے اس سے پوچھ گچھ کی اور اس کے موبائل ڈیٹا سمیت دیگر تکنیکی شواہد کا تجزیہ کیا۔
پولیس کے مطابق عینی شواہد، تکنیکی معلومات اور تفتیش کے بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا اور دورانِ تفتیش اس نے قتل کے بارے میں پولیس کو معلومات دیں۔

’بچوں نے ماں اور چھوٹی بہن کو مردہ دیکھ کر شور مچایا‘
واقعے کے روز کیا ہوا، اس بارے میں ڈی آئی جی ویسٹ نے بتایا کہ ملزم اور مہوش کے درمیان وقوعے کے روز معمولی بات چیت بھی ہوئی۔ مہوش نے اسے بتایا کہ اسے بازار سے کپڑوں یا گھر کا کچھ سامان لانا ہے، جس پر ملزم نے کہا کہ وہ خود سامان لے آتا ہے۔
ڈی آئی جی کے مطابق ملزم تقریباً ڈیڑھ، دو بجے گھر سے نکلا اور سامان لے کر واپس آیا تو مہوش کے دو بچے مدرسے جا چکے تھے، جبکہ مہوش اور تقریباً 18 ماہ کی بچی گھر میں موجود تھیں۔
ملزم کے دوران تفتیش بیان کی روشنی میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے مہوش کو ریپ کرنے کی کوشش کی جس پر مہوش نے مزاحمت کی تھی۔ تاہم اس حوالے سے دیگر شواہد پیش نہیں کیے گئے۔
پولیس کے مطابق دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا اور ملزم نے گھر میں موجود سریے سے مہوش کے سر پر وار کیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئی۔
ڈی آئی جی کے مطابق مہوش کی موت کے بعد اس کی چھوٹی بچی رونے اور شور کرنے لگی، جس پر ملزم نے مبینہ طور پر بچی کا سر دیوار سے مارا، جس کے نتیجے میں بچی بے ہوش ہو گئی تھی، لیکن ملزم نے اسے بھی مردہ سمجھا۔
پولیس کے مطابق تقریباً تین بجے مہوش کے دو بچے مدرسے سے واپس گھر آئے۔ ڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق ملزم نے خود دروازہ کھولا۔ بچوں نے جب اپنی ماں اور چھوٹی بہن کو مردہ حالت میں دیکھا تو انھوں نے شور مچانا شروع کر دیا۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے دونوں بچوں کو بھی اسی سریے سے قتل کیا اور بعد میں لاشیں صوفوں پر لٹا دیں۔ ڈی آئی جی کے مطابق پولیس کو ابتدا ہی سے شبہ تھا کہ بچوں اور خاتون کی لاشوں کو جس انداز سے صوفوں پر رکھا گیا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں قتل کی اصل جگہ سے منتقل کیا گیا تھا۔
ملزم نے ’شواہد مٹانے کی کوشش کی‘
پولیس کے مطابق چاروں افراد کو قتل کرنے کے بعد ملزم نے واقعے کو ڈکیتی کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ ڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق ملزم نے کباڑ اور کپڑے باہر نکالے جبکہ بچوں کے وہ ڈبے بھی توڑے جن میں وہ رقم جمع کرتے تھے، تاکہ گھر میں ڈکیتی کی واردات کا تاثر پیدا کیا جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی معائنے ہی میں اسے ڈکیتی کی واردات نہیں بلکہ قتل کا واقعہ سمجھا گیا تھا۔
ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق قتل کے بعد ملزم نے گھر کے واش روم میں خود کو صاف کیا، سریا دھویا اور فرش پر موجود خون بھی صاف کیا، اور اس طرح اس نے کرائم سین سے شواہد ختم کرنے کی کوشش کی۔
ڈی آئی جی کے مطابق ملزم تقریباً چھ بجے گھر سے نکلا اور واپسی پر قتل میں استعمال ہونے والا سریا راستے میں ایک نالے میں پھینک دیا اور نیو کراچی میں واقع اپنے گھر چلا گیا جہاں اپنی بیوی سے واقعے کے بارے میں معلوم کیا، کیونکہ مقتولہ کا شوہر دانش اس کی بیوی کا بھائی ہے۔
ڈی آئی جی کے مطابق واقعے کی اطلاع پھیلنے کے بعد ملزم دوبارہ جائے وقوعہ پر آیا اور وہاں پولیس کی کارروائی کو دیکھتا رہا۔ بعد ازاں وہ عباسی شہید ہسپتال بھی گیا اور پولیس کے مطابق اس نے ایسے ظاہر کیا جیسے اسے واقعے کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہ ہو۔
مقتولہ مہوش کا موبائل فون بھی تاحال پولیس کو نہیں ملا۔ ڈی آئی جی عرفان بلوچ کے مطابق پولیس نے ملزم سے بھی اس بارے میں پوچھ گچھ کی اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے موبائل فون نہیں اٹھایا۔
پولیس کا خیال ہے کہ واقعے کے بعد جب پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو وہاں تقریباً دو سے ڈھائی ہزار افراد جمع ہو چکے تھے، اس لیے امکان ہے کہ ان افراد میں سے کسی نے موبائل فون اٹھایا ہو۔
سنگین جرائم کے ملزمان کی مشکوک حالات میں موت
یاد رہے کہ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں سنگین جرائم، بالخصوص خواتین اور بچوں کے ساتھ ریپ جیسے جرائم، کے الزام میں گرفتار ہونے والا ملزم پولیس کی حراست نء مشکوک حالات میں مارا گیا ہو۔
11 ستمبر کو پاکستان میں صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور کی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ طور پر ایک گھر میں گھس کر دو خواتین کا گینگ ریپ کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے چار ملزمان اُس وقت نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے جب انھیں جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے الزام میں گرفتار ملزمان کی پولیس تحویل میں ہوتے ہوئے مشکوک حالات میں ہلاکت کی خبریں بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔
اس نوعیت کے کیسز میں پولیس ملزم کی گرفتاری کا اعلان کرتی ہے، اُس کا اعترافی بیان حاصل کرنے کا دعویٰ کرتی ہے اور پھر جائے وقوعہ کی نشاندہی یا آلہ قتل کی برآمدگی یا پولیس حراست سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران ملزمان مشکوک حالات میں مارے جاتے ہیں۔
گذشتہ سال پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی جانب سے جاری کی گئی ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے مبینہ مقابلوں کی ایک دانستہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو بہت سے معاملات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں پر منتج ہوتی ہے جو صوبے میں قانون کی حکمرانی اور آئینی تحفظات کو بنیادی طور پر کمزور کرتی ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کی بنیاد پر، ایچ آر سی پی نے 2025 کے آٹھ ماہ کے عرصے میں کم از کم 670 سی سی ڈی مقابلوں کو دستاویزی شکل دی، جن میں 924 ملزم ہلاک ہوئے۔
ادارے کے مطابق ہلاکتوں کا یہ شدید عدم توازن یعنی اوسطاً روزانہ دو سے زیادہ جان لیوا مقابلے اور مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے انداز میں یکسانیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ انفرادی بے ضابطگی کے واقعات نہیں بلکہ ایک ادارتی طرزِ عمل ہے۔
ایچ آر سی پی کے فیکٹ فائنڈنگ مشن نے ان ہلاکتوں پر فوری اعلیٰ سطح کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا اور اس کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پورے پنجاب میں پولیس مقابلوں پر پابندی عائد کی جائے۔
ادھر کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے سربراہ سہیل ظفر چھٹہ کا کہنا تھا کہ ایچ آر سی پی کی یہ رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں ہے اور ان کا ادارہ ایسا کوئی کام نہیں کرتا جو کہ ملکی آئین سے متصادم ہو۔