اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے خلاف دائر درخواست پر 37 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت عالیہ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو شاہراہیں اور راستے بند کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔ عدالتی حکم کے مطابق ایسی کوئی بھی سرگرمی جس سے عام شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں، آئین کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی اور اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق متاثر ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تفصیلی فیصلے میں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ لانگ مارچ کے لیے سرکاری وسائل، فنڈز، گاڑیوں اور مشینری کا استعمال بالکل نہ کریں۔ عدالت نے آئین اور قانون کے خلاف ورزی پر مبنی غیر قانونی احکامات کی صورت میں سرکاری ملازمین کی رہنمائی اور امداد کے لیے ایک فوری ہیلپ لائن قائم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
عدالت عالیہ نے اپنے حکم نامے میں مزید کہا کہ اگر کوئی بھی عوامی عہدے دار آئین و قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے یا اس کی وجہ سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں تو اسے اس کے حلف سے انحراف شمار کیا جائے گا اور آئین و قانون کی پاسداری نہ کرنے والے ذمہ دار سرکاری افراد کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔