کوہاٹ مسجد حملے کے بعد کلیرئنس آپریشن مکمل: 17 پولیس اہلکاروں سمیت 23 افراد ہلاک، ’جوابی کارروائی میں آٹھ شدت پسند مارے گئے‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے کے بعد عمارت میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کے خلاف پولیس اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے، جس میں حکام کے مطابق آٹھ شدت پسند مارے گئے ہیں۔
ecurity officials inspect the site of a blast at a mosque near the Old Police Lines in Kohat district of Khyber Pakhtunkhwa province
Getty Images
جمعہ کے روز کوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 23 ہوگئی ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے کے بعد عمارت میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کے خلاف پولیس اور سکیورٹی فورسز کا آپریشن مکمل ہو گیا ہے، جس میں حکام کے مطابق آٹھ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر کوہاٹ محمد نواز وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب 23 ہو گئی ہے جن میں 17 پولیس اہلکار اور چھ عام شہری شامل ہیں۔ اُن کے بقول 130 افراد زخمی ہیں۔

خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور نے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مسجد پر دھماکے کے بعد کچھ شدت پسند سپیشل برانچ کی عمارت میں داخل ہو گئے تھے، جس کے بعد پولیس، ایلیٹ فورس، کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سکیورٹی فورسز نے کارروائی شروع کی۔‘

پولیس کے مطابق رات بھر جاری رہنے والے آپریشن کے بعد عمارات کے اہم حصوں کو کلیئر کر لیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کوہاٹ کے مطابق تقریباً 21 گھنٹے پر مشتمل آپریشن اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے جبکہ اس دوران آٹھ شدت پسند، جن میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا، ہلاک ہو گئے۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی پر گرینیڈ حملہ بھی کیا گیا، جس میں وہ زخمی ہوئے۔

پولیس کے مطابق انھیں ابتدائی طبی امداد دی گئی، جس کے بعد وہ دوبارہ آپریشن کی نگرانی کے لیے فرنٹ لائن پر پہنچ گئے۔

انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ پرانی پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی جبکہ دھماکے کے بعد مسلح شدت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

ترجمان خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق سات مسلح دہشت گردوں نے پولیس لائنز میں دراندازی کی جس کے بعد پولیس اور سی ٹی ڈی نے حملہ آوروں کا بھرپور مقابلہ کیا۔

دھماکہ
Getty Images
ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا کر دی گئی ہے اور میتیں تدفین کے لیے آبائی علاقوں کو روانہ کی جا چکی ہیں

ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کے علاوہ ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کوہاٹ نے بھی آپریشن کی قیادت کی جبکہ جی او سی کوہاٹ بھی موقع پر موجود رہے۔

آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید بھی آپریشن کے دوران جائے وقوعہ پر موجود رہے اور جوانوں کا حوصلہ بڑھایا۔

آئی جی نے آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز نے بہادری سے مقابلہ کیا، ہمارے جانباز جوان قوم کا فخر ہیں۔‘

پولیس کے مطابق آئی جی خیبر پختونخوا نے آپریشن میں حصہ لینے والے افسران کے لیے انعامات کا بھی اعلان کیا ہے۔

Kohat
Getty Images
شدت پسندوں کا ہدف پولیس لائنز اور وہاں واقع مسجد تھی، اور جب واقعہ پیش آیا تو نمازِ جمعہ جاری تھی۔

ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا کر دی گئی ہے اور میتیں تدفین کے لیے آبائی علاقوں کو روانہ کی جا چکی ہیں۔

ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز خیبر پختونخوا پولیس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ نماز جنازہ میں انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید، صوبائی وزیرِ اطلاعات شفیع اللہ جان، صوبائی وزیرِ قانون آفتاب عالم، جنرل آفیسر کمانڈنگ، کمشنر کوہاٹ، سیاسی و سماجی شخصیات، شہدا کے اہلِ خانہ اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

بیان کے مطابق آئی جی ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔

Kohat
Getty Images

ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق دھماکہ دوپہر ایک بج کر 15 منٹ کے قریب ہوا۔

آئی جی خیبر پختونخوا کے مطابق دھماکے کے بعد ایک خودکش حملہ آور نے سپیشل برانچ کے قریب خود کو دھماکے سے اُڑایا۔

بی بی سی نیوز کے عثمان زاہد سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز سینٹرل پولیس آفس عبد السلام خالد نے بتایا کہ شدت پسندوں کا ہدف پولیس لائنز اور وہاں واقع مسجد تھی، اور جب واقعہ پیش آیا تو نمازِ جمعہ جاری تھی۔

’یہ گنجان آباد اور مصروف علاقہ ہے‘

کوہاٹ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والی مسجد اولڈ پولیس لائنز انتہائی اہم سمجھی جانے والی مصروف ترین اور کوہاٹ کی تاریخی شاہراہ ہنگو روڈ پر واقع ہے۔

ترجمان کوہاٹ پولیس کے مطابق پرانا پولیس لائنز کا علاقہ گنجان آباد اور مصروف ہے اور یہاں پرانی پولیس لائنز میں سی ٹی ڈی کے دفتر کے علاوہ دیگر اہم دفاتر بھی موجود ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے سے مسجدکی بیرونی دیوار اور کچھ عمارتوں کو نقصاں پہنچا ہے اور اب بھی دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ جاری ہے جبکہ پشاور-کوہاٹ روڈ کو عام ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

ہنگو روڈ کوہاٹ کو ضلع ہنگو، اورکزئی اور کرم سے ملاتی ہے اور اسے کوہاٹ کی سکیورٹی کے لیے اہمتصور کیا جاتا ہے۔

اولڈ پولیس لائنز کا علاقہ کوہاٹ کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہیں سے شہر کے تجارتی مراکز، سول انتظامی دفاتر اور ملٹری کینٹ کے راستے نکلتے ہیں۔

یہ علاقہ کوہاٹ کے پرانے شہری علاقے اور ملٹری کینٹونمنٹ زون کے بالکل سنگم پر واقع ہے۔ اولڈ پولیس لائنز کے عقب میں کوہاٹ کینٹ کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔

ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز سے چند منٹ کی مسافت پر واقع ہے۔

اسی ایک زون اور ہنگو روڈ کے حصے میں نہ صرف اولڈ پولیس لائنز ہے بلکہ کینٹ پولیس سٹیشن، سٹی پولیس سٹیشن، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کا دفتر بھی واقع ہے۔

’دھماکے کے بعد پولیس لائنز پہنچے تو شدید فائرنگ شروع ہو گئی‘

دھماکے کے بعد اولڈ پولیس لائنز پہنچنے والے الخدمت فاؤنڈیشن کے رضاکار نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ وہاں پہنچے تو زخمیوں کی بڑی تعداد مدد کے لیے پکار رہی تھی۔

نوید کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے کے وقت وہ ایک کلو میٹر دُور ایک اور مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے اور دھماکے کی آواز سن کر فوراً وہ اولڈ پولیس لائنز پہنچے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہاں ریسکیو 1122 کے اہلکار ریسیکو آپریشن میں مصروف تھے اور ہمیں ہر طرف سے ایمبولینسز کیآوازیں آرہی تھیں۔

’ہر طرف زخمی افراد تھے۔ کچھ مدد کے لیے پکار رہے تھے اور کچھ پانی مانگ رہے ہیں۔ ہم نے ریسکیو 1122 والوں کے ساتھ مل کر امدادی کام شروع کر دیا۔ کچھ دیر بعد مزید ایمبولینسز اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی۔‘

نوید کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے سویلینز کو وہاں سے ہٹ جانے کا کہا جس کے فوری بعد شدید فائرنگ شروع ہو گئی۔

نوید کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہم جس مسجد میں موجود تھے وہاں پر در و دیوار ہل کر رہ گے تھے۔

قریبی رہائشی مصطفی خان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ابھی تک فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں ا ور ہم لوگ اپنے گھروں میں محصور ہو چکے ہیں۔‘

مصطفی خان کا کہنا تھا کہ ’جس مسجد میں دھماکہ ہوا ہے میں اس سے آدھا کلو میٹر دور مسجد میں اپنے بچوں کے ساتھ نماز کے لیے موجود تھا۔ جب دھماکہ ہوا تو ہم لوگ مسجد سے باہر نکل آئے۔ میرے ساتھ چھوٹے بچوں تھے جنھیں لے کر میں گھر آ گیا۔‘

ان کا کہنا تھا کہگھر پہنچا تو اس وقتبھی فائرنگ کی آوازیں آ رہی تھیں اور ابھی بھی آ رہی ہیں جبکہ پولیس اور سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کر رکھی ہے وہ کسی کو بھی باہر نہیں نکلنے دے رہے ہیں۔

Kohat
Getty Images

صدر، وزیرِ اعظم اور دیگر حکام کی مذمت

صدرِپاکستان آصف علی زرداری نے بھی کوہاٹ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خارجی حمایت سے سرگرم خارجی فتنہ اور دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔‘

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کوہاٹ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہلاکتوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعظم آفس سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق شہباز شریف نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ طلب کر لی ہے۔ وزیرِ اعظم نے امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ افراد کا ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھِی کوہاٹ پرانی پولیس لائنز دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

ترجمان خیبر پختونخوا پولیس کے مطابق سی ٹی ڈی کے ماہرین نے آئی جی پولیس اور ایڈیشنل آئی کو صورتحال پر بریفنگ دی ہے۔

آئی جی خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگا رہے ہیں اور ان کا مکمل خاتمہ یقینی بنائیں گے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US