ترک اور قطری وفود کا دورہ افغانستان: کیا اسلام آباد اور کابل کے درمیان بات چیت بحال ہو پائے گی؟

ترکی اور قطر کے اعلیٰ سطح کے وفود نے گذشتہ ہفتے افغانستان کا دورہ کیا جہاں انھوں نے طالبان حکومت کے سینیئر حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ قندھار میں ہونے والی اِن ملاقاتوں کا اصل ایجنڈہ کیا تھا اور آیا ان وفود کی طالبان کے رہبرِ اعلیٰ مولوی ہبت اللہ اخوندزادہ سے بھی ملاقات ہوئی یا نہیں، تاہم اس کے باوجود ان دوروں کو کئی حوالوں سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ترکی اور قطر کے اعلیٰ سطح کے وفود نے گذشتہ ہفتے افغانستان کا دورہ کیا جہاں انھوں نے طالبان حکومت کے سینیئر حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔

منگل (15 ستمبر) کے روز ترک انٹیلیجنس کے سربراہ ابراہیم قالن اور قطر کی قومی سلامتی کونسل کے نائب رکن حمد بن خمیس نے طالبان حکومت کے وزیرِ دفاع مولوی یعقوب مجاہد، وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی اور انٹیلیجنس کے سربراہ عبدالحق وثیق سے ملاقاتیں کیں۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ قندھار میں ہونے والی اِن ملاقاتوں کا اصل ایجنڈہ کیا تھا اور آیا ان وفود کی طالبان کے رہبرِ اعلیٰ مولوی ہبت اللہ اخوندزادہ سے بھی ملاقات ہوئی یا نہیں، تاہم اس کے باوجود ان دوروں کو کئی حوالوں سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

طالبان حکومت کے بیانات اور ترک حکومتی ذرائع سے اب تک سامنے آنے والی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کا مرکز زیادہ تر دوطرفہ تعاون تھا۔

تاہم کئی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعطل کے شکار مذاکرات اور دونوں ممالک کے تعلقات کی ممکنہ بحالی پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قطر اور ترکی کے اعلیٰ سطح کے سکیورٹی وفود نے افغانستان کا یہ اچانک دورہ کیوں کیا؟

میں نے ان ملاقاتوں میں شامل کم از کم تین ذرائع سے بات کی تاکہ یہ جانا جا سکے کہ دیگر امور کے علاوہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کے بارے میں کیا گفتگو ہوئی۔

کابل کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ابراہیم قالن اسلام آباد آئے تھے جہاں انھوں نے پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک سیمیت دیگر سینیئر حکام اور وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔

یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں سعودی عرب میں کابل اور اسلام آباد کے درمیان ہونے والی براہِ راست بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکی تھی، جس کے بعد دونوں فریقوں نے چین میں بھی طویل مذاکرات کیے۔

تاہم ایک ذریعے کے مطابق گذشتہ دس ماہ کے دوران قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات نے چین کے ساتھ مل کر مذاکرات کی بحالی کی کوششیں کیں، لیکن ان سے کوئی عملی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

قطر کی قومی سلامتی کونسل کے نائب رکن حمد بن خمیس اور ترک انَٹیلیجنس چیف کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب کابل اور اسلام آباد کے تعلقات اپنی تاریخ کے سرد ترین موڑ پر ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان درمیان تمام زمینی سرحدی راستے تقریباً ایک سال سے بند ہیں، تجارت بھی بند ہے اور سفارتی رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

قطر اور ترکی، جو ماضی میں بھی کابل اور اسلام آباد کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر چکے ہیں، اب اس تعطل کے شکار عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سنہ 2025 کے آخر میں ریاض میں ہونے والے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہونے کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ سعودی عرب کی قیادت میں بات چیت کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو گا۔ تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور افغانستان میں پاکستان کی فضائی کارروائیوں نے اس عمل کو متاثر کیا۔

’ہم بات چیت اور راستے کھولنے کے لیے تیار ہیں‘

اطلاعات کے مطابق کابل میں قطری اور ترک وفود اور طالبان حکومت کے حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران طالبان حکام نے کہا کہ وہ ’پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور راستے کھولنے کے لیے تیار ہیں‘۔ تاہم اس کے لیے ان کی شرط ہے کہ ’پاکستان سیاسی مقاصد کے لیے انھیں دوبارہ بند نہیں کرے گا۔‘

ان مذاکرات میں شامل ایک اور ذریعے کے مطابق طالبان حکومت کے اعلیٰ حکام نے ترک اور قطری وفود سے یہ بھی کہا کہ ’ہم پاکستان کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ افغان سرزمین اس کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، لیکن پاکستان کو بھی یہ ضمانت دینی ہو گی کہ اس کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔‘

پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے شدت پسند افغانستان میں رہ کر پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کرتے ہیں۔ اسلام آباد طالبان حکومت سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔

مذاکرات میں شریک ایک اور ذریعے نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان حکام نے وفد کے سامنے تجویز رکھی کہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان موجود تحفظات کا ازالہ کرنے کے لیے ایک باضابطہ یا ’رسمی فریم ورک‘ قائم کیا جائے۔

’اگر افغانستان دہشت گردی کے معاملے میں تعاون کرے تو پاکستان سرحدیں کھولنے کے لیے تیار ہے‘

دوسری جانب جمعرات (17 ستمبر) کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا تھا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تجارتی راستے کھولنے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ’افغان سرزمین‘ سے پاکستان کے خلاف ہونے والے حملے مکمل طور پر بند کیے جائیں۔

ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفترِ خارجہ کے ترجمان سے ترک اور قطری وفود کے دورۂ افغانستان کے حوالے سے سوال کیا گیا۔

اس پر ترجمان دفترِ خارجہ سجاد حیدر خان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں دیکھی ہیں تاہم وہ اس دورے کے مقاصد سے آگاہ نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی اور قطر نے ثالثی کے حوالے سے تعمیری کردار ادا کیا ہے اور گذشتہ برس ترکی اور قطر میں طالبان حکام سے مذاکرات بھی ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے صورتِحال یہ رہی ہے کہ استحکام لانے کے لیے خطے کے ممالک کی کوششوں اور ان دوست ممالک کی مثبت کاوشوں کے باوجود افغان فریق کا ردِعمل منفی رہا ہے اور انھوں نے یہ یقین دہانی کروانے سے انکار کیا ہے کہ ان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کو روکا جائے گا۔‘

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے علاوہ چین نے بھی اس معاملے تصفیے کے لیے تینوں ممالک کو ارومچی میں ایک ساتھ بٹھایا۔

’پاکستان تمام مسائل کو پُرامن ذرائع سے، یعنی مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے، حل کرنے کا خواہاں ہے۔‘

’ہم اپنی ریڈ لائن واضح کر چکے ہیں، اور اب افغانستان کو دیکھنا ہے کہ وہ دہشت گردی کو کیسے روکتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک طرف اپنی سرزمین سے شدت پسندوں کی آمدورفت مسلسل جاری رہنے دیں اور پھر پاکستان سے مختلف ردِعمل کی توقع رکھیں۔

طالبان حکومت ہمیشہ سے ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔

Chaman Border
AFP via Getty Images

بریفنگ کے دوران ترجمان سے سوال کیا گیا کہ آیا طالبان دورِ حکومت میں دونوں ملکوں کے تعلقات کشیدگی کا ہی شکار رہیں گے یا تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کی بحالی کے حوالے سے کوئی امکان موجود ہے۔

سوال کے جواب میں سجاد حیدر خان کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار افغانستان گئے تھے جہاں انھوں نے ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے متعدد سہولتیں دینے اور محصولات کم کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔

انھوں نے ایک بار پھر موقف اپنایا لیکن ہماری درخواست رہی ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی مکمل طور پر بند ہونی چاہیے۔

’اب اگلا قدم دوسرے فریق کو اٹھانا ہے۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے براہِ راست بات چیت کے علاوہ دوست ممالک بشمول قطر، ترکی اور چین کے ذریعے بھی کوششیں کی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام کوششیں ناکام رہیں اور اس کی وجہ ’افغان فریق کی ہچکچاہٹ ہے، وہ تعاون کے لیے تیار نہیں۔‘

سجاد حیدر خان کا کہنا تھا کہ اگر افغانستان دہشت گردی کے معاملے میں تعاون کرے تو پاکستان سرحدیں کھولنے، تجارت کرنے اور افغانستان کو علاقائی رابطوں کے مرکز کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

'ہماری پالیسی ہمیشہ ایک پُرامن افغانستان کی رہی ہے، ایسا افغانستان جو اندرونی طور پر بھی پُرامن ہو اور اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی پُرامن تعلقات رکھتا ہو۔'

ترجمان نے دعویٰ کیا کہ صرف پاکستان کو ہی نہیں بلکہ چین کو بھی وہاں ہونے والی شدت پسند سرگرمیوں پر تحفظات ہیں جبکہ وسطی ایشیا کے شمالی ممالک بھی افغانستان میں سکیورٹی کی صورتِ حال سے مطمئن نہیں ہیں۔

مکہ معاہدہ، پاکستان اور ترکی کا کردار

پاکستان میں افغانستان اور پاکستان کے امور کے تجزیہ کار احسان ٹیپو محسود کہتے ہیں کہ مکہ معاہدے میں ترکی کی شمولیت کو دیکھتے ہوئے توقع کی جاتی ہے کہ انقرہ کابل اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو ترکی ممکنہ طور پر یہ ضروری سمجھے گا کہ خطے میں پاکستان کے لیے ایک اور محاذ یا مسئلہ پیدا نہ ہو، اور شاید اسی لیے وہ کابل اور اسلام آباد کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کے مطابق ’پاکستان میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافے کے باوجود پاکستان نے افغانستان پر دوبارہ حملہ نہیں کیا۔ حقانی کے حالیہ بیانات، جن میں انھوں نے دونوں ممالک کے دعوؤں کی جانچ کے لیے ایک باضابطہطریقۂ کار قائم کرنے کی بات کی ہے، اور ترک انٹیلی جنس سربراہ کا تیسرا دورہ، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق بات چیت پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم ان تمام کوششوں کے باوجود کابل اور اسلام آباد کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار نظر آتا ہے، اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب تک دونوں فریق اپنی اپنی شرائط اور مطالبات پر نظرثانی نہیں کرتے، مستقل حل کے آثار کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US