جنوبی کوریا کے ایک ریسٹورنٹ پر کھانوں کو چیونٹیوں سے سجانے پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ جہاں تقریباً چار سال کے دوران 49 ہزار چیونٹیاں بطور گارنش استعمال کی گئیں۔ تاہم جنوبی کوریا میں چیونٹیوں کو خوراک کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں ایک میکلین سٹار والے ریسٹورنٹ کو میٹھا سجانے کے لیے چیونٹیوں کا استعمال کرنا مہنگا پڑ گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق عدالت نے ’ایویٹ‘ نامی ریسٹورنٹ کے مالک پر 15 ملین وون، یعنی تقریباً 30 لاکھ پاکستانی روپے جرمانہ عائد کیا ہے۔
ریسٹورنٹ چلانے والی کمپنی کو بھی فوڈ سینیٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی پر 10 ملین وون، تقریباً 20 لاکھ پاکستانیروپے جرمانہ کیا گیا ہے۔
جنوبی کوریا میں انسانوں کے کھانے کے لیے 10 اقسام کے حشرات کے استعمال کی اجازت ہے، لیکن چیونٹیاں ان میں شامل نہیں ہیں۔ جن حشرات کی اجازت دی گئی ہے اُن میں ٹڈیاں اور ریشم کے کیڑوں کی بعض اقسام شامل ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ’ایویٹ‘ کو میکلین گائیڈ نے دو سٹار دے رکھے ہیں۔ میکلین گائیڈ کے مطابق دو سٹار ایسے ریسٹورنٹس کو دیے جاتے ہیں جہاں کھانا بہترین ہو اور جس کے لیے خاص طور پر راستہ بدل کر جانا بھی قابلِ قدر ہو۔
میکلین گائیڈ ریسٹورنٹس کو کھانے کے معیار، اجزا کے انتخاب، ذائقے، پکانے کی مہارت، شیف کے منفرد انداز اور معیار میں مستقل مزاجی کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ تین سٹار دیتا ہے۔
واضح رہے کہ ’میکلین سٹار‘ دنیا کے معروف ریسٹورنٹس کو دی جانے والی ایک عالمی درجہ بندی ہے۔ یہ میکلین گائیڈ کی جانب سے دی جاتی ہے۔
چار سال میں تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں استعمال ہوئیں

ریسٹورنٹ ’ایویٹ‘ میں سوربیٹ، یعنی آئس کریم کی ایک قسم، پر چیونٹیوں کو بطور ٹاپنگ استعمال کیے جانے کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب وزارتِ فوڈ اینڈ ڈرگ سیفٹی کو تصاویر کے ساتھ آن لائن جائزے موصول ہوئے۔
بتایا گیا ہے کہ ریسٹورنٹ کے مالک نے تقریباً چار سال تک بعض کھانوں میں کھٹاس ڈالنے کے لیے ہر ڈش پر تین سے پانچ چیونٹیاں مسل کر پیش کیا۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں بطور گارنش یا سجاوٹ استعمال کی گئیں۔
وزارت کے مطابق ان میں سے زیادہ تر چیونٹیاں امریکہ سے درآمد کی گئی تھیں، جبکہ کچھ تھائی لینڈ سے منگوائی گئی تھیں۔
ریسٹورنٹ مالک نے اپنے دفاع میں کیا کہا؟
عدالت کو بتایا گیا کہ ریسٹورنٹ کے مالک کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ جنوبی کوریا میں کھانے میں چیونٹیاں پیش کرنا ممنوع ہے، کیونکہ بعض دیگر مقامات پر انھیں بطور خوراک استعمال کیا جاتا ہے۔
مالک نے اپنے دفاع میں مؤقف اختیار کیا کہ چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ کے 15 کورسز پر مشتمل مینو کی صرف چند ڈشز میں اور بہت کم مقدار میں کیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین کو یہ اختیار بھی دیا جاتا تھا کہ وہ چیونٹیوں کے بغیر ڈش کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
مالک کے مطابق صرف 60 فیصد صارفین نے چیونٹیوں کی سجاوٹ والے کھانے کا انتخاب کیا، جبکہ باقی صارفین کو خمیر شدہ سرکے اور کھانے کے قابل پھولوں سمیت دیگر آپشنز دیے گئے۔
چیونٹیوں کو سوربیٹ پر بطور ٹاپنگ استعمال کیا جاتا تھا اور صارفین کو بتایا جاتا تھا کہ وہ چیونٹیوں کے علاوہ دوسری ٹاپنگز کا انتخاب بھی کر سکتے ہیں۔
سوربیٹ ایک ٹھنڈی میٹھی ڈش ہے جو چینی کے شربت اور پھلوں کے رس یا پیوری سے بنائی جاتی ہے۔ اس میں عام طور پر دودھ یا کریم شامل نہیں ہوتی۔ اسے ابتدا میں مختلف کھانوں کے درمیان تازگی بخش مشروب کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، تاہم اب اسے میٹھی ڈش کے طور پر کھایا جاتا ہے۔

’یہ معمولی جرم نہیں‘
استغاثہ نے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور 20 ملین وون جرمانے کی سزا دینے کی درخواست کی تھی۔
تاہم جج نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ ریسٹورنٹ کے مالک نے جرم قبول کر لیا تھا اور اس کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔
اس کے باوجود جج نے کہا کہ ’کھانے سے متعلق مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کے علاوہ چیونٹیوں کے ٹیسٹ میں ان میں بھاری دھاتوں کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی، اس لیے ’یہ معمولی جرم نہیں‘۔‘
جنوبی کوریا میں حکام کسی کیڑے کو خوراک کے طور پر استعمال کرنے کی منظوری دینے سے قبل کئی عوامل کو مدنظر رکھتے ہیں۔
ان میں خوراک سے متعلق ممکنہ حفاظتی خطرات، زہریلا پن، غذائی افادیت اور اس بات کا جائزہ بھی شامل ہے کہ آیا اس کیڑے کو صاف ستھرے طریقے سے پالا اور پروسیس کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
کئی ممالک میں چیونٹیاں کھانے کا رواج
ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی کئی ثقافتوں میں چیونٹیاں کھائی جاتی ہیں اور بعض جگہوں پر انھیں خاص پکوان کے طور پر بھی پسند کیا جاتا ہے۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا میں ’ویور چیونٹیوں‘ اور ان کے انڈوں کو کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ کولمبیا میں چیونٹیوں کی ملکہ کو مچھلی کے انڈوں، یعنی کیویار جتنی قیمتی سمجھا جاتا ہے۔