’میں نے تو اپنی جان ہتھیلی پر رکھی ہوئی ہے‘: کوہاٹ دھماکے میں ہلاک ہونے والے اکبر شنواری جو ’اپنے گاؤں کے پہلے ایس پی تھے‘

جمعے کے روز کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز مسجد دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں خیبر پختونخوا پولیس کے ایس پی اکبر شنواری بھی شامل تھے۔ اکبر شنواری صوبے میں دہشت گردوں کے خلاف متعدد آپریشنز میں بھی حصہ لے چکے تھے جس پر اُن کے اہلخانہ کے مطابق اُنھیں دھمکیاں بھی ملتی رہتی تھیں۔

مردان کے گاؤں ہاتھیان میں کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز دھماکے میں مارے جانے والے ایس پی اکبر محمد شنواری کے گھر کے باہر تعزیت کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز دھماکے کے اگلے روز گھر میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا، مگر اس ہجوم کے درمیان اکبر محمد شنواری کے بھتیجے طفیل اکبر کے ذہن میں اپنے چچا کی ایک بات بار بار گونج رہی تھی۔

یہ وہی بات تھی جو ان کے چچا نے چند ہفتے پہلے اپنے سب سے چھوٹے بھائی، موٹروے پولیس کے سب انسپکٹر جاوید اکبر کی موت پر کہی تھی۔

15 جولائی کو ایک ڈمپر نے جاوید اکبر کو کچل دیا تھا۔ انتہائی بہادر سمجھے جانے والے اکبر محمد شنواری اس صدمے سے ٹوٹ گئے تھے اور بار بار کہتے تھے، ’جاوید مجھے کیوں چھوڑ کر چلا گیا؟ اس کی جگہ اگر میں چلا جاتا تو اچھا ہوتا۔‘

18 ستمبر کو اکبر محمد شنواری خود کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز دھماکے میں جان کی بازی ہار گئے۔

طفیل اکبر کے مطابق اکبر محمد شنواری نے اپنی پولیس سروس کا زیادہ تر حصہ دیر، باجوڑ اور سوات جیسے علاقوں میں دہشت گردی کے دور میں گزارا۔

’اُنھوں نے ان علاقوں میں بڑے اور خطرناک آپریشنز میں حصہ لیا۔ وہ بہت بہادر تھے۔ انھیں دھمکیاں بھی ملتی تھیں، لیکن وہ ان کا ذکر کم ہی کرتے تھے۔‘

جاوید اکبر کی موت کے بعد اکبر محمد شنواری نے کہا تھا: ’میں نے تو اپنی جان ہتھیلی پر رکھی ہوئی ہے۔ مگر میں بچ گیا اور میرا بھائی، دوست، یار، غم خوار مارا گیا۔‘

خیال رہے کہ 18جمعے کی نماز کے دوران کوہاٹ پولیس لائنز دھماکے میں 17 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 23 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ جوابی کارروائی کے دوران سکیورٹی حکام نے آٹھ حملہ آوروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے بتایا تھا کہ پہلے اولڈ پولیس لائنز کے ساتھ بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی جس کے بعد خودکش حملہ اور سمیت سات مسلح دہشت گردوں نے کمپاؤنڈ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔

پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’مسجد پر دھماکے کے بعد کچھ شدت پسند سپیشل برانچ کی عمارت میں داخل ہو گئے تھے، جس کے بعد پولیس، ایلیٹ فورس، کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور سکیورٹی فورسز نے کارروائی شروع کی۔‘

ترجمان خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کلیئرنس آپریشن رات گئے جاری رہا اور سنیچر کی صبح اس علاقے کو کلیئر قرار دیا گیا۔

Kohat
Getty Images

علاقے کا پہلا ایس پی افسر

اکبر محمد شنواری کا آبائی تعلق ضلع باجوڑ سے ہے۔ 60 سال پہلے ان کے آباؤ اجداد ملازمت، روزگار کے لیے مردان کے ہاتھیان گاؤں آئے تھے۔ مگر ان کا ابھی بھی اپنے آبائی علاقے سے گہرا تعلق تھا۔

طفیل احمد کا کہنا تھا کہ ’میرے والد سب سے بڑے ہیں جبکہ یہ چھ بھائی تھے۔ جس میں اکبر محمد شنواری اور جاوید اکبر دونوں پانچویں اور آخری نمبر پر تھے اور اب دونوں اس دنیا میں نہیں رہے۔‘

اکبر شنواری کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جبکہ ان کی سب سے کم عمر بیٹی صرف چھ ماہ کی ہے۔

طفیل کہتے ہیں کہ ’بیٹی کی پیدائش پر میرے چچا نے بہت خوشیاں منائی تھیں اور یہ ان کی آنکھوں کا تارا تھی۔‘

طفیل احمد کا کہنا تھا کہ ہمارے اس علاقے میں یہ پہلے افسر تھے، لیکن علاقے میں لوگ ان کو ایس پی افسر نہیں بلکہ اپنا ساتھی، دوست اور غم خوار سمجھتے تھے۔

علاقے میں لوگوں کا کوئی بھی مسئلہہسپتال، ڈاکٹر، سرکاری ادارے، کچھ بھی ہو وہ ان کے پاس آتے تھے۔ یہ اکثر صرف ویک اینڈ میں گھر آتے اور ہمیں پتا ہوتا تھا کہ اب لوگ ان سے ملنے کے لیے آئیں گے تو ہم پہلے ہی سے مہمانوں کے لیے انتظام کر کے رکھتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم سے زیادہ علاقے کے لوگ غم اور دکھ میں مبتلا ہیں۔

اکلوتے بیٹے اور بھتیجے کے ساتھ ہلاک ہونے والے ’رضا کار‘

’میں کافی دیر سے لقمان کو فون کر رہی ہوں، مگر وہ فون نہیں اُٹھا رہے۔ ان کے ساتھ بچے بھی ہیں۔ وہ نماز پڑھنے نکلے تھے جس کے بعد اُنھوں نے روٹیاں لے کر گھر آنا تھا۔‘

محمد تنویر کوہاٹ میں اپنے دفتر میں کام کر رہے تھے، جب اُن کی بہن نے گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں اپنے شوہر اور بچوں کے حوالے سے اُن سے استفسار کیا۔

فون رکھتے ہی محمد تنویر نے اپنے بہنوئی لقمان کے نمبر پر کال کی تو کوئی جواب نہیں آیا۔ دو، تین مرتبہ کال ملانے کے بعد بھی جب لقمان نے فون نہ اُٹھایا تو اسی دوران تنویر کو کوہاٹ پولیس لائنز دھماکے کی اطلاع مل گئی۔

تنویر نے یہ خبر سنتے ہی ہسپتال کا رُخ کیا اور اس دوران متعدد بار اپنے بہنوئی لقمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو اس دوران کسی اور شخص نے فون اُٹھایا اور کہا کہ ’آپ جو بھی ہیں فوراً ہسپتال آ جائیں۔‘

محمد تنویر ہسپتال پہنچے تو انھیں وہاں پر محمد لقمان کی لاش نظر آئی اور کچھ ہی دیر بعد اُنھیں دو ننھے بچوں کی بھی لاشیں مل گئیں۔

تنویر نے بی بی سی نیوز اُردو کو بتایا کہ عبداللہ کی عمر تقریباً ساڑھے چار سال ہے اور وہ لقمان کا بیٹا ہے جبکہ دوسرے بچے کا نام اسد ہے جو لقمان کا بھتیجا ہے اور اس کی عمر ساڑھے تین سال ہے۔

تنویر کے مطابق عبداللہ لقمان کا اکلوتا بیٹا تھا اور اُنھوں نے سوگواروں میں بیوہ اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں جس میں سب سے چھوٹی بیٹی نو ماہ کی ہے۔

’مسجد کے درمیان میں تھا کہ زوردار دھماکہ ہوا‘

کوہاٹ دھماکے میں لقمان کے دوست مسکین بھی زخمی ہوئے، جنھیں ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔

بی بی سی نیوز اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے محمد مسکین نے بتایا کہ لقمان نے اپنے بچوں کو سکول سے سے لیا تھا اور راستے میں نماز کا وقت ہوا تو وہ نماز کے لیے چلے گئے، جہاں اُن کی ملاقات لقمان سے ہوئی۔

محمد مسکین کا کہنا تھا کہ ’میں نماز کی تیاری کر کے آیا تھا۔ میں نے لقمان کو کہا کہ وہ وضو وغیرہ کر لے اور پھر نماز کے بعد ملتے ہیں اور ان بچوں کو کچھ کھانے پینے کی چیزیں دلا دیتے ہیں اور ہم چائے وغیرہ پی لیں گے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ اس کے بعد ’میں نماز کے لیے چلا گیا اور مسجد کے درمیان میں تھا کہ اچانک دھماکہ ہوگیا۔ چند لمحوں تک کچھپتہ نہیں چل رہا تھا۔ میں ہوش و حواس کھو چکا تھا۔ چند لمحے تو اسی طرح گزر گئے، مجھے ہوش اس وقت آیا جب وہاں پر موجود ایک شخص نے مجھے بازو سے پکڑ کر ایمبولینس میں ڈالا اور میں ہسپتال پہنچ گیا۔‘

محمد مسکین کا کہنا تھا کہ ’مجھے زیادہ چوٹ نہیں لگی تھی معمولی خراشیں تھیں جن پر مرہم پٹی کردی گئی اور پھر میں ہسپتال ہی میں رک گیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئی تھی جو زخمیوں کی خدمت کررہے تھے، خون دے رہے تھے۔ اس دوران میں نے دیکھا کہ لقمان کی ڈیڈ باڈی کو ایمولینس سے اتارا جا رہا ہے اور پھر تھوڑی دیر بعد ان کے بچوں کی ڈیڈ باڈیز بھی ہسپتال منتقل کر دی گئیں۔

محمد مسکین کا کہنا تھا کہلقمان الخدمت کا رضا کار بھی تھے اور الخدمت کی ایمبولینس میں ہی ان کی ڈیڈ باڈی کو آبائی علاقے لیجایا گیا۔

Kohat Blast
Getty Images

’کوہاٹ میں جب بھی کسی کو خون کی ضرورت پڑتی تو وہ لقمان سے رابطہ کرتا تھا‘

محمد لقمان پیشے کے لحاظ سے لیبارٹی ٹیکیشن تھے۔ وہ ایک نجی لیبارٹری کے علاوہ رفاہی تنظیم الخدمت فاونڈیشن کے رضا کار اور بلڈ ڈونیشنکے ضلعی صدر بھی تھے۔

محمد تنویر کا کہنا تھا کہ ’لقمان الخدمت ہسپتال میں لیبارٹری ٹیکنیشن کی ملازمت کرتے ہیں جبکہ محمد لقمان الخدمت فاونڈیشن کے رضا کار تھے اور میرے بہنوئی ہونے کے علاوہ وہ میرے ماموں زاد بھی تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کوہاٹ میں جب بھی کسی کو خون کی ضرورت پڑتی تو وہ فوراً لقمان سے رابطہ کرتا تھا اور لقمان فوری طور پر ان کے لیے خون کا انتظام کرتے تھے۔

تنویر کہتے ہیں کہ دن ہو یا رات لقمان ہر وقت سر گرم عمل رہتے تھے۔ کوہاٹ میں کوئی بھی حادثہ ہو جاتا تو یہ فوراً موقع پر پہنچ جاتے یا ہسپتال پہنچ جاتے تھے اور وہاں جا کر خدمت کیا کرتے تھے۔

’لقمان کی عمر 37 برس تھی، انھوں نے ماسٹر کیا ہوا تھا مگر انھیں ملازمت نہیں ملی تو انھوں نے لیبارٹری ٹیکنیشن کا کورس کرکے کام شروع کر دیا تھا۔‘

تنویر کہتے ہیں کہ لقمان بچوں کے حوالے سے بہت حساس تھے اور اُنھیں اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے۔

محمد تنویر کا کہنا تھا کہ ’اس سال انھوں نے عبداللہ کا داخلہ کروایا تھا۔ اس داخلے کی فیس انھوں نے ادھار لی تھی یہ بات انھوں نے کسی کو نہیں بتائی تھی مگر مجھے میری بہن نے بتایا تھا اور جب میںنے پوچھا تو کہنے لگے کہ ایک کمیٹی ڈال دی ہے، مجھے دوسری کمیٹی ملی گئی تو یہ قرض اتار دوں گا۔‘

’میں نے کہا کہ اتنے مہنگے سکول میں داخلہ کروانے کی کیا ضرورت تھی تو کہنے لگے کہ بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلانی تاکہ وہ زندگی میں کچھ بن جائے۔‘

محمد تنویر کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنی بچیوں کی تعلیم پر بھی بہت توجہ دیتے تھے۔ اپنی بڑی بیٹی کو روزانہ خود پڑھاتے تھے اور اس سے کہتے تھے کہ اس نے بیٹی نہیں بیٹا بننا ہے اور پڑھائی کر کے اپنا مستقبل بنانا ہے۔‘

محمد تنویر کا کہنا تھا کہ محمد لقمان کی والدہ چار ماہ پہلے وفات پا گئیں تھیں جس کے بعد وہ اپنے بوڑھے والد کا بھی سہارا تھے اوروالد کی خدمت کیا کرتے تھے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US