واشنگٹن کی جانب سے خلا میں تعینات کیا گیا ہتھیار کیا ہو سکتا ہے؟ خلا میں فوجی کارروائیوں سے کیا مراد ہے؟ اور امریکہ کے علاوہ وہ کون کون سے ممالک ہیں جن کے پاس اس نوعیت کے ہتھیار موجود ہو سکتے ہیں؟

رواں ہفتے امریکہ کی جانب سے اس اعلان کے بعد کہ اس نے زمین کے مدار میں ایک خلائی ہتھیار تعینات کر دیا ہے، سوالات اٹھ رہے ہیں کہ خلا میں درحقیقت کون سے ہتھیار موجود ہیں اور یہ ہتھیار خلا میں برتری حاصل کرنے کی کوششوں میں دنیا کی بڑی طاقتوں کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔
امریکی فضائیہ کے سیکریٹری ٹرائے مینک نے کہا ہے کہ مدار میں موجود یہ ہتھیار امریکی افواج کو دشمن کی ممکنہ جارحانہ کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
پیر کے روز ایئر، سپیس اینڈ سائبر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرائے مینک کا کہنا تھا کہ امریکہ 'بدلتے ہوئے خطرات' سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم انھوں نے زمین کے مدار میں تعینات اس نئے ہتھیار کی صلاحیتوں یا اسے کب مدار میں تعینات کیا بھیجا گیا، اس بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
امریکی فوج کے اعلیٰ حکام ماضی میں بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ خلا میں اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا موقف رہا ہے کہ روس اور چین مستقبل کے کسی ممکنہ تنازع میں امریکی سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے اور ان کے کام میں خلل ڈالنے کی صلاحیتیں حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
تو واشنگٹن کی جانب سے خلا میں تعینات کیا گیا ہتھیار کیا ہو سکتا ہے؟ خلا میں فوجی کارروائیوں سے کیا مراد ہے؟ اور امریکہ کے علاوہ وہ کون کون سے ممالک ہیں جن کے پاس اس نوعیت کے ہتھیار موجود ہو سکتے ہیں؟

سنہ 1967 کے ایک بین الاقوامی معاہدے کے تحت مدار میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے امریکہ، روس اور چین سمیت بڑی طاقتیں ایسے دیگر نظاموں پر کام کرتی رہی ہیں جو اس معاہدے کے دائرہ کار سے باہر ہیں، مثلاً حریف ممالک کے سیٹلائٹس کو نشانہ بنانے کی صلاحیت۔ یاد رہے کہ فوجی مواصلات، نگرانی اور نیویگیشن کے لیے سیٹلائٹس کلیدی اہمیت رکھتے ہیں۔
سوویت دور کا اسٹریبیٹل سپوتنیکوف (آئی ایس) پروگرام ایسے سیٹلائٹس پر مشتمل تھا جو دھماکا خیز گولے چھوڑتے جن کے پھٹنے سے دھاتی ٹکرے بکھر کر کسی دوسرے، عموماً امریکی، سیٹلائٹ کے راستے میں آ جاتے۔
جنگی ٹیکنالوجی میں مسلسل ترقی کے ساتھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مستقبل میں خلا میں فوجی ساز و سامان اور عسکری صلاحیتوں کا استعمال مزید بڑھ جائے گا۔
ڈاکٹر بلیڈن بووَن رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ میں عسکری علوم کے ایسوسی ایٹ فیلو اور ڈرہم یونیورسٹی میں ایسٹروپولیٹکس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ اس ہتھیار کے بارے میں فی الحال صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔
بی بی سی ریڈیو فور کے ٹوڈے پروگرام میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ کسی قسم کا الیکٹرانک وارفیئر یا ریڈیو جیمنگ پلیٹ فارم ہو سکتا ہے۔ ممکنہ طور پر یہ سیٹلائٹس کے خلاف استعمال ہونے والا ایسا ہتھیار ہوگا جو تباہی نہ پھیلائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کی ٹیکنالوجی پہلے ہی زمین پر موجود ہے اور سیٹلائٹ مواصلاتی نظام میں خلل ڈال سکتی ہے۔ ’اگر آپ ریڈیو لنک منقطع کر دیں تو سیٹلائٹ تقریباً ناکاہر ہو جاتا ہے۔‘
تاہم بووَن ایسے خطرناک اور تباہ کن ہتھیاروں کے امکان کو بھی مسترد نہیں کرتے جو خلا میں ملبہ اور تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔
ان کے مطابق اس بات کا امکان کم ہے کہ یہ کسی قسم کا کائنیٹک کِل وہیکل ہو، یعنی ایسا نظام جو کوئی پروجیکٹائل چھوڑے جو سیٹلائٹ سے ٹکرا کر اسے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک اور امکان یہ ہے کہ یہ قریب سے معائنہ کرنے اور کسی دوسرے سیٹلائٹ کو پکڑنے یا اس سے جکڑنے کی صلاحیت رکھنے والا کوئی سیٹلائٹ بھی ہو سکتا ہے۔

اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے کہ آیا روس اور چین جیسے حریف ممالک کے پاس پہلے ہی خلا میں اسی نوعیت کے ہتھیار موجود ہیں۔
رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کی سابق ریسرچ فیلو اور جرمن انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی و سکیورٹی امور کی محقق جولیانا سُویس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’اگر ہم چین اور روس پر نظر ڈالیں تو دونوں ممالک نے اس طرز کی سرگرمیاں دکھائی ہیں۔‘
’مثال کے طور پر روس کے معاملے میں ہم نے کچھ ایسی سرگرمیاں دیکھی ہیں جو مدار میں گردش کرنے والے ہتھیاروں کے تجربے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شاید روس نے خلا میں آزمائشی طور پر کوئی پروجیکٹائل فائر کیا تھا۔‘
ان کے مطابق دیگر ممالک کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں موجود ہیں، لیکن جب تک امریکہ کے اعلان کردہ ہتھیار کی نوعیت اور صلاحیتوں کی تفصیلات سامنے نہیں آ جاتیں، براہ راست موازنہ کرنا مشکل ہے۔

بعد ازاں بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بووَن نے خلا میں اسلحے کی دوڑ کے حوالے سے امریکی اعلان پر چین کے ردِعمل کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔ چین نے خبردار کیا تھا کہ اس طرح کے اقدامات خلا میں ہتھیاروں کی نئی دوڑ کو جنم دے سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ پہلے ہی اس شعبے کے ماہر ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ روسی اور چینی حکومتوں کی جانب سے آنے والے ایسے بیانات کتنے کھوکھلے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ، روس، چین اور انڈیا، سب نے سیٹلائٹس کے خلاف یا خلا میں فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے مختلف قسم کے ہتھیار تیار کیے ہیں، جبکہ روس اور چین نے خلا میں ایسی کئی ٹیکنالوجیز تعینات کی ہیں جنھیں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ دس برسوں کے دوران روس اور چین کی جانب سے خلا میں ایسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں ان کے سیٹلائٹس مغربی سیٹلائٹس کے بہت قریب جا کر ان کا معائنہ یا تعاقب کرتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کو رینڈے وو اور پراکسیمٹی آپریشنز (آر پی اوز RPOs) کہا جاتا ہے۔ بعض ماہرین کے نزدیک یہ صلاحیتیں ضرورت پڑنے پر عسکری مقاصد کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔
لندن کے کنگز کالج میں روسی دفاع اور سکیورٹی سٹڈیز کے ماہر ڈاکٹر راڈ تھورنٹن نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’نظریاتی طور پر یہ آر پی او سیٹلائٹس شکاری اور ہدف کو تباہ کرنے والے سیٹلائٹس میں تبدیل ہو سکتے ہیں، جو یا تو دوسرے سیٹلائٹ براہِ راست ٹکرا کر اس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں یا اسے اس کے مدار سے ہٹا سکتے ہیں۔‘
بووَن نے کہا کہ چینی ماہرین ’سپیس ٹگ‘ (خلا میں کھینچا تانی) کی صلاحیت کا بھی مظاہرہ کر چکے ہیں۔
’ایک خلائی گاڑی کسی سیٹلائٹ تک پہنچ سکتی ہے، اسے پکڑ کر اور پھر اسے کسی دوسرے مدار میں منتقل کر سکتی ہے۔‘
ان کے مطابق یہ صلاحیت مثبت مقاصد کے لیے بھی استعمال ہو سکتی ہے، مثلاً خلا میں موجود ناکارہ ملبہ ہٹانے کے لیے۔ تاہم اس ہی ٹیکنالوجی کو فعال سیٹلائٹس کو ناکارہ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بعض خلائی ہتھیار بڑی مقدار میں خلائی ملبہ پیدا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
کنگز کالج میں خلائی سکیورٹی اور خلا میں ہتھیاروں کے استعمال کے ماہر ڈاکٹر مارک ہل بورن کے مطابق، زمین سے داغے جانے والے اینٹی سیٹلائٹ میزائلوں کے تجربات، جیسے 2007 میں چین کی جانب سے کیا گیا تجربہ، زمین کے مدار میں بڑی مقدار میں ملبہ چھوڑ دیتے ہیں جو طویل عرصے تک وہاں موجود رہتا ہے۔
سوئس نے کہا کہ اس تجربے سے پیدا ہونے والا ملبہ آج بھی مدار میں موجود ہے اور اب بھی خطرہ بنا ہوا ہے۔
’نقصان پہنچانے کے لیے دھات کا بہت بڑا ٹکڑا ہونا ضروری نہیں۔ مدار میں چیزوں کی رفتار اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ پلاسٹک کا ایک نہایت چھوٹا ٹکڑا بھی بہت زیادہ نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔‘
جوہری خطرہ
تھورنٹن کا کہناہے کہ روس کے پاس خلائی ہتھیاروں اور سیٹلائٹس کی جس چیز کی کمی ہے، وہ اسے میزائل صلاحیت کے ذریعے کسی حد تک پورا کر لیتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’روسیوں کے پاس زمین سے داغے جانے والے ایسے میزائل موجود ہیں جو خلا میں جا کر زمین کے نچلے مدار میں موجود سیٹلائٹس کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس اینٹی سیٹلائٹ (اے سیٹ) میزائل بھی ہیں جنھیں طیاروں کی مدد سے فضا میں بلندی پر لے جا کر داغا جا سکتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا روس کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو نیٹو کے پاس روسی فوج کے مقابلے میں کہیں زیادہ اور بہتر سیٹلائٹس ہیں، اسی لیے روس نے میدانِ جنگ میں اس فرق کو کسی حد تک کم کرنے کے لیے اینٹی سیٹلائٹ صلاحیتوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔
تھورنٹن نے ایک تشویش ناک امکان کی طرف بھی اشارہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آخری چارۂ کار کے طور پر روس خلا میں جوہری ہتھیار بھی داغ سکتا ہے، اور جوہری برقی مقناطیسی جھٹکا (ای ایم پی) ایک وسیع علاقے میں موجود ایسے سیٹلائٹس کو ناکارہ بنا سکتا ہے جو اس کے خلاف محفوظ نہ ہوں۔
تو پھر خلا میں جوہری تصادم کے امکانات کتنے ہیں؟ ماہرین کے مطابق ایسا اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب زمین پر بھی جوہری جنگ جاری ہو۔
بووِن کا کہنا ہے کہ خلا میں جو کچھ بھی ہو گا وہ زمین سے الگ تھلگ نہیں ہو سکتا۔
’شاید کچھ بھی نہ ہو، یا بہت کچھ ہو سکتا ہے۔‘

اگر خلا میں استعمال ہونے والے ہتھیار اگر اتنے عرصے سے موجود ہیں تو پھر امریکہ نے یہ اعلان اب کیوں کیا؟
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ کوئی غیر معمولی تکنیکی پیش رفت نہیں، بلکہ ایک سیاسی پیغام معلوم ہوتا ہے۔
بووَن کے مطابق یہ ممکنہ طور پر چین کی حالیہ پیش رفتوں کے جواب میں کیا گیا اقدام ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا ’چین نے گذشتہ 30 برسوں میں اپنی فوجی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر جدید بنایا ہے۔ اس نے خلا میں کہیں زیادہ فوجی سیٹلائٹس تعینات کیے ہیں اور اس طرح ایسے بہت سے اہداف پیدا ہوگئے ہیں جنھیں امریکی فوج ضرورت پڑنے پر نشانہ بنا سکتی ہے۔‘
بووَن کا مزید کہنا ہے کہ اب امریکہ کے لیے خلائی ہتھیاروں میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ وجوہات پائی ہیں کیونکہ اب چین کی بھی خلا میں ویسی ہی کمزوریاں موجود کیس کسی زمانے میں صرف امریکہ کی ہوتی تھیں۔
یہ صورتِ حال ایک دلچسپ عدم توازن کو جنم دیتی ہے۔
تھورنٹن کے مطابق اگر خلا میں کبھی جنگ ہوتی ہے تو روس کو شاید ’سب سے زیادہ فائدہ‘ ہو گا، کیونکہ چین اور امریکہ کے برعکس اس کے پاس نسبتاً کم سیٹلائٹس ہیں۔
ان کے بقول ایسی جنگ میں ’خلا کی جانب داغے جانے والے میزائل، دوسرے سیٹلائٹس کو دھکیلنے یا تباہ کرنے کے لیے تیار کردہ صلاحیت رکھنے والے سیٹلائٹس، اور زمین پر نصب لیزر نظام‘ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔