’امن و امان کے لیے خطرہ:‘ علیمہ خان 30 روز کے لیے نظر بند، کوٹ لکھپت جیل منتقل کرنے کا حکم

حکومتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے مطابق علیمہ خان سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنوں کو متحرک کر رہی تھیں اور عام لوگوں میں حکومت اور اداروں کے خلاف ’قابلِ اعتراض نعرے‘ لگوانے اور انھیں اشتعال دلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔
Aleema Khan
Getty Images

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کوپنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کی دفعہ تین (تھری ایم پی او) کے تحت گرفتار کر کے 30 روز کے لیے نظر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کی تاریخ سے لے کر 30 روز کے لیے علیمہ خان کوکوٹ لکھپت جیل لاہور کے سپرنٹنڈنٹ کی تحویل میں رکھا جائے گا۔

ادھر علیمہ خان کے رشتہ دار قاسم زمان خان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لاہور میں علیمہ خان کو لاہور جم خانہ کے باہر سے حراست میں لیا گیا ہے اور انھیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے علیمہ خان کی نظر بندی کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے اُن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈیٹینشن آرڈر کے مطابق لاہور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر نے ڈپٹی کمشنر کو ایک رپورٹ بھیجی تھی جس میں ایس پی سول لائنز ڈویژن اور انچارج ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ کی رپورٹس کا حوالہ دیا گیا ہے۔

پولیس کی رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ علیمہ خان نو مئی کے احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے واقعات میں ملوث تھیں اور انھوں نے کارکنوں کو سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے پر اکسایا تھا۔

حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس کے مطابق علیمہ خان سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ذریعے کارکنوں کو متحرک کر رہی تھیں اور عام لوگوں میں حکومت اور اداروں کے خلاف ’قابلِ اعتراض نعرے‘ لگانے اور انھیں اشتعال دلانے کی کوشش کر رہی تھیں۔

علیمہ خان کی نظر بندی کے احکامات ایسے وقت میں دیے گئے ہیں، جب پاکستان تحریکِ انصاف نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی اور ’آئین کی بالادستی‘ کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

Aleema Khan
Getty Images

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد کے مختلف مقامات پر کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی خبردار کر چکے ہیں کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں اسلام آباد پر کسی کو چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

لانگ مارچ کے پیشِ نظر پنجاب میں دفعہ 144 بھی نافذ کی گئی ہے۔

’بغیر نگرانی کہ چھوڑا گیا تو یہ عوامی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں‘

ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کیے گئے حکم کے مطابق پولیس نے اس سلسلے میں مختلف مقدمات کا حوالہ بھی دیا ہے، جن میں تھانہ ریس کورس میں درج مقدمہ نمبر 96/23 بھی شامل ہے۔

پولیس اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس برانچ نے اپنی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ اگر ان افراد کو ’بغیر نگرانی‘ چھوڑا گیا تو وہ عوامی امن اور سکون کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

رپورٹ میںعلیمہ خان کی 30 روزہ نظر بندی کی سفارش کی گئی تھی تاکہ شہر میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔

ڈیٹینشن آرڈر کے مطابق یہ معاملہ 20 ستمبر کو ڈپٹی کمشنر لاہور کی سربراہی میں ہونے والے ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کے اجلاس میں بھی زیرِ بحث آیا۔

PTI
Getty Images

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے ارکان نے پولیس کی جانب سے پیش کیا گیا مواد اور شواہد دیکھنے کے بعد علیمہکی نظر بندی کی متفقہ طور پر سفارش کی۔

ڈپٹی کمشنر لاہور نے حکمنامے میں کہا ہے کہ پولیس کی جانب سے پیش کیے گئے مواد اور ڈسٹرکٹ انٹیلیجنس کمیٹی کی سفارش کی بنیاد پر وہ اس بات پر ’قائل‘ ہیں کہ علیمہ خان اور محمد عامر کی کسی بھی عوامی مقام پر موجودگی عوامی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے اور اس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا امکان ہے۔

اسی بنیاد پر انھوں نے دونوں افراد کو 30 روز کے لیے گرفتار کر کے نظر بند کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

تحریکِ انصاف کا ردِعمل

پاکستان تحریکِ انصاف نے علیمہ خان کی نظر بندی کے احکامات کی مذمت کی ہے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریکِ انصاف نے واضح کیا ہے کہ ہمارا مارچ پرامن اور سیاسی ہو گا۔

ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہہمارا مقصد اپنے آئینی اور سیاسی مطالبات کے لیے پرامن جدوجہد کرنا ہے، ہم کسی قسم کا تصادم یا تشدد نہیں چاہتے۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ تھری ایم پی او کے تحت علیمہ خان کی گرفتاری یا انھیں نظر بند رکھنا تشدد اور کشیدگی کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ صورتحال کو مزید خراب کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما زلفی بخاری نے ایکس پر اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ علیمہ خان کو ’غیر قانونی‘ طور پر گرفتار کیا گیا ہے، ’جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’27 ستمبر کے احتجاج کا خوف واضح طور پر اثر دکھا رہا ہے۔‘

PTI
Getty Images
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی 27 ستمبر کے مارچ سے قبل عوامی رابطہ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں

وزیرِ داخلہ کی وارننگ

اس سے پہلے جمعے کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی صورت میں بھی دارالحکومت پر دھاوا نہیں بولا جا سکتا۔

اُن کا کہنا تھا کہ کسی نے بھی عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی تو اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہاتھا کہ ’آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی نے جو احتجاج کی کال دی ہے تو اس کے حوالے سے تفصیلی اجلاس کیا گیا ہے۔ کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں، یہ ہم پہلے بتا رہے ہیں بعد میں گلہ نہ کریں۔‘

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’سکیورٹی فورسز کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اس کو ہر ممکن طریقے سے روکیں گے۔‘

محسن نقوی کے مطابق ’ماضی میں بھی ہمارے نقصان بہت زیادہ ہوتے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب سے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ ہم نے اپنے جوانوں کو واضح ہدایات دی ہیں کہ ایسا نہیں ہو گا کہ وہ آپ پر گولی چلائیں اور آپ چپ کر کے بیٹھے رہیں۔ ان پر گولی چلائی گئی تو وہ چپ کرکے نہیں بیٹھیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جو بھی ان کی قیادت ہے ان سے درخواست کروں گا کہ آپ ضرور احتجاج کریں مگر اپنے شہر اور اپنے علاقے میں کریں۔ آپ کو زیب نہیں دیتا کہ ایک جانب ہم شہدا کے جنازے اٹھائیں اور دوسری جانب آپ دھرنوں کی تیاری کریں۔‘

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’سیاسی جلسے جلوس اور جتھوں کی یلغار مییں فرق ہوتا ہے۔ اگر ایک بھی جان گئی تو اس کے ذمہ دار وہ ہوں گے جو جتھے جمع کر رہے ہیں۔‘

تھری ایم پی او کیا ہے؟

تھری ایم پی او کا قانون پاکستان میں حکومت کو ایسے افراد کو حفاظتی حراست میں رکھنے کے لیے وسیع اختیارات دیتا ہے، جنھیں عوامی تحفظ یا نظم کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ قانون ایک طے شدہ مدت کے لیے کسی بھی شخص کی گرفتاری اور نظربندی کی اجازت دیتا ہے، جسے بڑھایا جا سکتا ہے۔

یہ حراست ایک وقت میں لگاتار چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ تاہم، تین ماہ سے زیادہ طویل حراست کے لیے عدالتی نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان میں اس سے پہلے بھی عوامی احتجاج یا سیاسی جماعتوں کے جلسوں سے قبل سیاسی رہنماؤں کو نظر بند کیا جاتا رہا ہے۔

تھری ایم پی او کے قانون کے مطابق متاثرہ شخص اس فیصلے کو صوبائی حکومت کے سامنے چیلنج کر سکتا ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US