دمے کا حل اور جنسی صلاحیت میں اضافہ: لومڑی کے گوشت اور چھپکلی کے تیل سے جڑے عقائد کی حقیقت کیا ہے؟

ان عقائد کے پیچھے سائنسی بنیاد کتنی مضبوط ہے؟ کیا واقعی ان جانوروں یا ان کے جسم سے حاصل کی جانے والی کوئی چیز انسانوں کی بیماریوں کا علاج کر سکتی ہے؟
سائنس
Getty Images

لومڑی کا گوشت کھانے سے گٹھیا کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے، ایک مخصوص چھپکلی کو دمے سے لے کر جنسی صلاحیت تک مختلف مسائل کی دوا سمجھا جاتا ہے، جبکہ جونک کا تیل درد اور دیگر بیماریوں کے علاج کے لیے مؤثر مانا جاتا ہے۔ اس طرح کے عوامی عقائد بنگلہ دیش سمیت برِ صغیر کے ممالک انڈیا اور پاکستان کے بھی مختلف علاقوں میں طویل عرصے سے رائج ہیں۔

ان علاقوں میں بڑی تعداد میں ٹوکے گیکو چھپکلی پائی جاتی ہے، لیکن روایتی ادویات کی تیاری میں خام مال کے طور پر ان کی مانگ اور استعمال سے متعلق رائج عقائد کی وجہ سے انھیں چین، تائیوان، ویتنام سمیت مشرقی ایشیا کے مختلف ممالک میں سمگل کیا جانے لگا۔

جنگلی حیات کے ماہرین کے مطابق اس کے نتیجے میں یہاں ٹوکے گیکو چھپکلی کی تعداد میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔

دوسری جانب مختلف علاقوں میں آج بھی جونک کے تیل کے نام سے مختلف مصنوعات فروخت ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ فروخت کنندگان کا دعویٰ ہے کہ یہ تیل گٹھیا، جوڑوں کے درد، کمر درد اور دیگر کئی بیماریوں میں مؤثر ہے۔

اسی طرح لومڑی کے گوشت کے بارے میں بھی مختلف علاقوں میں عوامی عقائد پائے جاتے ہیں۔

لیکن ان عقائد کے پیچھے سائنسی بنیاد کتنی مضبوط ہے؟ کیا واقعی ان جانوروں یا ان کے جسم سے حاصل کی جانے والی کوئی چیز انسانوں کی بیماریوں کا علاج کر سکتی ہے؟

بہت سے لوگ بنگال لومڑی کو سرخ لومڑی سمجھ لیتے ہیں
Getty Images
بہت سے لوگ بنگال لومڑی کو سرخ لومڑی سمجھ لیتے ہیں

لوگ لومڑی کو کیوں مارتے ہیں؟

خواہ گیدڑ نما لومڑی ہو یا عام لومڑی، بنگلہ دیش میں لومڑیوں کو مارنے کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔

اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ لومڑی ایک نقصان دہ جانور ہے۔

دیہی علاقوں میں اکثر یہ شکایت کی جاتی ہے کہ لومڑیاں بطخیں، مرغیاں یا دیگر پالتو جانور اٹھا لے جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے لوگ لومڑی دیکھتے ہی اسے پیٹ پیٹ کر مار دیتے ہیں۔ تاہم ایسی زیادہ تر وارداتوں کا ذمہ دار عام لومڑی کو سمجھا جاتا ہے۔

بنگلہ دیش کی جہانگیر نگر یونیورسٹی کے شعبۂ حیوانیات کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالعزیز نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ گیدڑ نما لومڑی کے بارے میں لوگوں میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔

ان کے مطابق ’کسان سمجھتے ہیں کہ گیدڑ نما لومڑی ان کی مرغیاں کھا جاتی ہے، لیکن ہماری تحقیق میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ گیدڑ نما لومڑی بہت ہی کم ایسا کر سکتی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ عام لومڑی جسامت میں بڑی ہونے کی وجہ سے نسبتاً بڑا شکار پکڑ سکتی ہے، اور گھریلو بطخوں اور مرغیوں پر حملوں کے الزامات بھی زیادہ تر اسی پر لگتے ہیں۔

اس کے علاوہ، بنگلہ دیش کے بہت سے علاقوں میں آج بھی رات کے وقت لومڑی کی آواز کو نحوست یا بدشگونی کی علامت سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اس عقیدے کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں ہے۔

لومڑیوں کے قتل کی سب سے بڑی وجہ ان کے گوشت کی مبینہ دواؤں جیسی خصوصیات کے بارے میں رائج مختلف عوامی عقائد ہیں۔ بہت سے لوگ یقین رکھتے ہیں کہ لومڑی کا گوشت کھانے سے دمہ، گٹھیا یا دیگر دائمی بیماریوں میں شفا ملتی ہے۔ تاہم ان دعوؤں کے حق میں بھی کوئی قابلِ اعتماد سائنسی ثبوت موجود نہیں ہے۔

حال ہی میں باریسال میں سات لومڑیوں کو مار دیا گیا تھا۔ اس موقع پر دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں نے مختلف ذرائع ابلاغ کو یہ بھی بتایا کہ بعض افراد کا عقیدہ ہے کہ لومڑی کا گوشت کھانے سے مختلف بیماریاں ٹھیک ہو جاتی ہیں، اسی لیے کسی نے رات کے وقت لومڑی کا گوشت پکا کر اس کے ساتھ روٹی اور پٹھا کھایا تھا۔

اس قسم کے واقعات کے بارے میں اکثر سننے میں آتا ہے۔ تاہم جہانگیر نگر یونیورسٹی کے شعبۂ حیوانیات کے پروفیسر اور جنگلی حیات کے ماہر ڈاکٹر منیرالحق خان نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا، ’لومڑی کے گوشت میں کوئی دوائی خصوصیت نہیں ہے۔ یہ ایک غلط تصور ہے کہ اسے کھانے سے بیماریاں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔‘

ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبۂ کلینیکل فارمیسی اور فارماکولوجی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالمحیط کا بھی کہنا ہے کہ لومڑی کا گوشت بیماریوں کا علاج کرتا ہے، اس دعوے کے حق میں کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں۔ ادویات کی دریافت یا جدید فارماکولوجی میں بھی ایسی کوئی معلومات نہیں ملتیں۔

ان کے الفاظ میں، ’یہ سب بنیادی طور پر توہمات اور عوامی عقائد سے پیدا ہونے والی باتیں ہیں۔‘

بنگلہ دیش کی نجی جامعہ ہمدرد یونیورسٹی بنگلہ دیش کے شعبۂ آیورویدک میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر احمد نے بھی بتایا کہ ان کے پاس لومڑی کے گوشت کی دوائی خصوصیات کے بارے میں کوئی سائنسی معلومات موجود نہیں ہیں۔

افواہوں کو بنیاد بنا کر نہ صرف دھوکا دہی کی جاتی رہی ہے بلکہ ٹوکے گیکو چھپکلی پکڑنے کا رجحان بھی بڑھا ہے
Getty Images
افواہوں کو بنیاد بنا کر نہ صرف دھوکا دہی کی جاتی رہی ہے بلکہ ٹوکے گیکو چھپکلی پکڑنے کا رجحان بھی بڑھا ہے

ٹوکے گیکو چھپکلی کیا واقعی کروڑوں کی ہے؟

ٹوکے گیکو چھپکلی کے بارے میں طویل عرصے سے ایسی متعدد دھوکا دہی کی کہانیاں سامنے آتی رہی ہیں جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اسے کروڑوں روپے میں فروخت کیا جا سکتا ہے۔

مختلف اوقات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ کینسر سمیت لاعلاج بیماریوں کے علاج یا جنسی صلاحیت میں اضافے جیسی مبینہ دوائی خصوصیات کا حوالہ دے کر ٹوکے گیکو چھپکلی کی قیمت کئی کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔

یہاں تک کہ ممکنہ خریداروں سے پیشگی رقم وصول کرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

تاہم ان دعوؤں کے حق میں نہ کوئی قابلِ اعتماد سائنسی بنیاد موجود ہے اور نہ ہی اس طرح کی قیمتوں کے لیے کسی قانونی منڈی کا ثبوت ملتا ہے۔

بلکہ ایسی افواہوں کو بنیاد بنا کر نہ صرف دھوکا دہی کی جاتی رہی ہے بلکہ ٹوکے گیکو چھپکلی پکڑنے کا رجحان بھی بڑھا ہے۔

خاص طور پر روایتی ادویات کے خام مال کے طور پر استعمال کیے جانے کے عقیدے کی وجہ سے ٹوکے گیکو چھپکلی کو طویل عرصے سے چین، تائیوان، ویتنام اور مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک میں سمگل کیا جاتا رہا ہے۔

اس کے نتیجے میں، جو جانور ایک وقت میں بنگلہ دیش میں بڑی تعداد میں پایا جاتا تھا، اب اس کی تعداد میں نمایاں کمی آ چکی ہے۔

تقریباً بارہ سال قبل بی بی سی بنگلہ کی ایک رپورٹ میں اُس وقت کے سرکاری حکام نے بھی بتایا تھا کہ ٹوکے گیکو چھپکلی (مقامی طور پر ٹکشک) کی آٹھ اقسام پائی جاتی ہیں اور اگرچہ انھیں بنگلہ دیش میں ابھی معدوم قرار نہیں دیا گیا، لیکن ان کی بقا خطرے میں ہے۔

اس وقت حکام کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک زیادہ طلب کے باعث جس تیزی سے اس جانور کا شکار اور خاتمہ کیا جا رہا ہے، اس سے خدشہ ہے کہ جلد ہی اسے معدوم ہونے والے جانوروں کی فہرست میں شامل کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس بارے میں جہانگیر نگر یونیورسٹی کے شعبۂ حیوانیات کے پروفیسر اور جنگلی حیات کے ماہر ڈاکٹر منیرالحق خان نے کہا، ’یہ افواہ ایک منظم دھوکے باز گروہ نے پھیلا رکھی ہے۔ یہ سلسلہ گزشتہ سات آٹھ برس سے جاری ہے۔ پہلے لوگ بہت زیادہ ٹکشک پکڑتے تھے، لیکن اب یہ رجحان کم ہو گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا، ’کیونکہ اب لوگ سمجھ چکے ہیں کہ ان کے ساتھ دھوکا کیا جا رہا ہے۔‘

اس بارے میں ڈھاکا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالمحیط کا کہنا ہے، ’ممکن ہے بعض علاقوں میں لوگ ٹکشک کھاتے ہوں، اسی لیے شاید جان بوجھ کر اس کی قیمت کے بارے میں اس طرح کی باتیں پھیلائی گئی ہیں۔‘

زندہ جونکوں کو استعمال کرکے جسم سے آلودہ خون یا اضافی مائعات نکالے جاتے رہے ہیں
Getty Images
زندہ جونکوں کو استعمال کرکے جسم سے آلودہ خون یا اضافی مائعات نکالے جاتے رہے ہیں

جونک کا تیل یا لیچ تھراپی؟

اگرچہ لومڑی کے گوشت اور ٹکشک (چھپکلی) کی دوائی خصوصیات کے حق میں کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملتا، لیکن برصغیر کے قدیم یونانی نظامِ طب میں جونک کے ذریعے علاج کا ذکر ہزاروں سال سے موجود ہے۔

یونانی طریقۂ علاج میں زندہ جونکوں کو استعمال کرکے جسم سے آلودہ خون یا اضافی مائعات خارج کرنے کے ایک طریقے کا تذکرہ ملتا ہے۔

ہمدرد یونیورسٹی بنگلہ دیش کے شعبۂ آیورویدک میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد منیر احمد نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ ’جسم کے کسی حصے میں اگر خون جم جائے، مثلاً جوڑوں میں، تو ہم (بیرونی) لیچ تھراپی کے ذریعے اس خون کو جسم سے خارج کر دیتے ہیں۔‘

انھوں نے وضاحت کی کہ اس تھراپی کے لیے مخصوص قسم کی جونک درکار ہوتی ہے۔

’دواؤں کے مقصد کے لیے تیار کی گئی جونک وہ خون چوس لیتی ہے۔ یہ کام ہر قسم کی جونک سے نہیں ہوتا۔ عام جونکوں میں زہریلا پن ہو سکتا ہے، اس لیے ہم انھیں استعمال نہیں کرتے۔ ان جونکوں کی باقاعدہ افزائش کی جاتی ہے۔ زیادہ تر انھیں انڈیا سے لایا جاتا ہے، البتہ اب ملک میں بھی بعض لوگ ان کی افزائش کرتے ہیں۔‘

ان کے مطابق ایک ’میڈیکیٹڈ‘ جونک کو صاف کرنے کے بعد تین ماہ کے وقفے سے دوبارہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ایک بار استعمال کے بعد اگر اسے ہلدی ملے پانی میں رکھا جائے تو جونک قے کر دیتی ہے۔ اس طرح وہ صاف ہو جاتی ہے۔ پھر تین ماہ بعد اسے دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لیچ تھراپی صرف مختلف جسمانی دردوں کے علاج ہی کے لیے نہیں، بلکہ ذیابیطس کے باعث پاؤں میں ہونے والے زخم (ڈایابیٹک فٹ السر) اور یہاں تک کہ مہاسوں کے علاج کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

تاہم جونک کے تیل کے ذریعے گٹھیا، درد، جنسی مسائل اور دیگر بیماریوں کے علاج کے دعوے بھی طویل عرصے سے کیے جاتے رہے ہیں، لیکن ان کی افادیت پر سوالات موجود ہیں۔

ڈھاکا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر محمد عبدالمحیط کہتے ہیں ’جونک کا تیل حکیم فروخت کرتے ہیں۔ سانپ کے زہر، مچھلی کے تیل اور شہد کی مکھی کے ڈنک سے بعض دوائیں یا تریاق حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ بیرونِ ملک بعض جانوروں کے زہروں سے بھی ادویات تیار ہوتی ہیں۔ لیکن جونک کے تیل کی کوئی ثابت شدہ دوائی خصوصیت نہیں ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US