خیبر پختونخوا حکومت کا اپنے صوبائی وزیر فضل شکور کے پشاور سے ’اغوا‘ کا دعویٰ: ’نقاب پوش افراد نے گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کی‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اُن کی جماعت سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر فضل شکور خان کو نامعلوم افراد نے صوبائی دارالحکومت پشاور سے ’اغوا‘ کر لیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اُن کی جماعت سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر فضل شکور خان کو نامعلوم افراد نے صوبائی دارالحکومت پشاور سے ’اغوا‘ کر لیا ہے۔

پیر کو پشاور میں تحریک انصاف کے دیگر سینیئر رہنماؤں کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ ’ہمارے صوبائی وزیر (فضل شکور خان) کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے اغوا کیا اور اُن کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ اس سے اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری تحریک ناکام ہو جائے گی تو ایسا نہیں ہو گا۔‘

دوسری جانب پی ٹی آئی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایک دوسرے صوبائی وزیر شکیل احمد کو اتوار کے روز اسی انداز میں ’اغوا‘ کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس موقع پر فائرنگ بھی ہوئی، تاہم شکیل احمد بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔

ان دونوں معاملات پر بحث کے لیے پیر کی شام خیبرپختونخوا اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا جو اس رپورٹ کے فائل ہونے تک جاری تھا۔

اس اجلاس کے دوران سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے سٹاف کو اسمبلی ہال میں وہ ویڈیو چلانے کی ہدایت کی، جو اُن کے مطابق صوبائی وزیر فضل شکور خان کے مبینہ اغوا کے موقع پر بنائی گئی تھی۔

بی بی سی آزادانہ طور پر اسمبلی میں چلائی گئی اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کر سکتا ہے۔

فضل شکور خان کے سیکریٹری محمد عالم نے بی بی سی اُردو کو بتایا ہے کہ اس واقعے کے خلاف تھانہ چمکنی میں اندراج مقدمہ کی درخواست دے دی گئی ہے۔ بی بی سی نے اس واقعے پر پشاور پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور سوالات بھی بھجوائے، تاہم اُن کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

فضل شکور خان کے بھائی فضل محمود نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ وہ خود حیران ہیں کہ ان کے بھائی کے ساتھ ایسا کیوں کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فضل شکور خان اپنی گاڑی میں ایک گن مین اور ڈرائیور کے ساتھ چارسدہ سے پشاور پارلیمانی کمیٹی اور صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔

ان کے مطابق جب وہ پشاور موٹروے کے ٹول پلازہ پر پہنچے تو اُن کو روکنے کی کوشش کی گئی اور گاڑی کے ٹائروں پر فائرنگ کی گئی۔

فضل شکور کے سیکریٹری محمد عالم کے مطابق بعدازاں نامعلوم افراد نے فضل شکور خان کے ساتھ موجود ڈرائیور اور ایک گن مین کو تھوڑا آگے لے جا کر چھوڑ دیا مگر فضل شکور کو وہ نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’انھیں یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کون لوگ تھے لیکن وہ کالے رنگ کی یونیفارم میں ملبوس تھے۔‘

خیال رہے کہ صوبائی وزرا فضل شکور خان اور شکیل احمد سے متعلق یہ واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم وفاقی حکومت نے واضح کر رکھا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پی ٹی آئی کو کسی صورت اسلام آباد میں احتجاج یا سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پیر کی شام ہونے والے خیبرپختونخوا اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ ’آج صوبائی کابینہ کے ممبران بھی محفوظ نہیں ہیں، اُن پر حملے ہو رہے ہیں اور سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد انھیں اغوا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ تین دن سے خیبرپختونخوا میں کارروائیاں جاری ہیں، پہلے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے فلیکس اُتارے، پھر ڈی آئی خان میں یوتھ کنونش پر حملہ ہوا اور اب صوبائی وزرا پر۔‘

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال سب کے سامنے ہے اور جب کوئی سادہ کپڑوں میں ملبوس ہو کر کسی کو پکڑنے آئے گا، تو حق دفاع میں جوابی کارروائی تو ہو گی، کیونکہ نہیں معلوم کے حملہ آور ہونے والا شخص یا اشخاص کون ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ یہ سب معاملات تحریک انصاف کو 27 ستمبر کے احتجاج سے نہیں روک سکتے۔ ’تحریک انصاف پرُامن تھی، پرامن ہے اور آئندہ بھی پرامن رہے گی۔ ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے 27 ستمبر کا احتجاج کریں گے۔‘

پیر کی رات ہونے والے خیبرپختونخوا اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں اراکین صوبائی اسمبلی نے ان واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے ارکان نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپیکر کی اجازت کے بغیر رُکن اسمبلی کو گرفتار کرنا اسمبلی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

فضل شکور خان کون ہیں؟

خیبر پختونخوا اسمبلی کی ویب سائٹ کے مطابق فضل شکور خان سنہ 2024 کے انتخابات میں چار سدہ سے رُکن اسمبلی منتخب ہوئے اور وہ اس وقت وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ہیں۔

وہ سنہ 2008 سے لے کر اب تک مسلسل چار مرتبہ رُکن خیبر پختونخوا اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں۔ وہ اس سے قبل عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔

سنہ 2018 کے انتخابات سے قبل اُنھوں نے تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی۔

فضل شکور خان پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US