کراچی پولیس کے افسر کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار جب دروازہ توڑ کر فلیٹ میں داخل ہوئے تو انھیں ’ڈاکٹر عمر اور ان کی اہلیہ کی لاشیں ایک کمرے میں، جبکہ تینوں بچیوں کی لاشیں دوسرے کمرے سے ملیں۔‘
اس رپورٹ میں موجود تفصیلات قارئین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں۔
کراچی کے علاقے احسن آباد کے ایک فلیٹ سے میاں، بیوی اور اُن کی تین بیٹیوں کی لاشیں ملنے کا معمہ تاحال حل نہیں ہو سکا ہے، تاہم پولیس کا دعویٰ ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں انھیں گھر کے اندر کسی واردات کے شواہد نہیں ملے ہیں۔
پولیس کے مطابق ڈاکٹر عمر، اُن کی اہلیہ اور تین کم بیٹیوں کی لاشیں اتوار کے روز احسن آباد میں واقع رہائشی عمارت ’لاکھانی ٹاورز‘ کے فلیٹ سے برآمد ہوئی تھیں۔
علاقے کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) اورنگزیب خٹک نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ پانچوں افراد کی لاشیں ’تین سے چار روز پرانی ہیں اور خراب حالت میں ہیں۔‘
اُن کے مطابقپانچوں افراد کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے، تاہم موت کی اصل وجہ کا تعین کیمیکل تجزیے کی رپورٹ آنے کے بعد ہی پتہچلے گا، جس میں تین سے چار روز لگیں گے۔
اُن کے مطابق تاحال اس کیس کی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔
اورنگزیب خٹک کے مطابق اس عمارت کے رہائشیوں نے ’فلیٹ سے بدبو آنے پر پولیس کو 15 پر اطلاع دی تھی جس کے بعد پولیس نے فلیٹ کا دروازہ توڑا جہاں سے پانچوں افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں۔‘
پولیس نے فلیٹ کے اندر کیا دیکھا؟

کراچی پولیس کے افسر کا کہنا تھا کہ جب پولیس اہلکار دروازہ توڑ کر فلیٹ میں داخل ہوئے تو انھیں ’ڈاکٹر عمر اور اُن کی اہلیہ کی لاشیں ایک کمرے سے، جبکہ تینوں بچیوں کی لاشیں دوسرے کمرے سے ملیں۔‘
اُن کے مطابق ’ایک بچی کی لاش بستر پر جبکہ دو کی لاشیں گدے پر پڑی تھیں۔‘
سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) جاوید عالم اوڈھو نے معاملے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا حکم دیا ہے، جس میں سینیئر تفتیشی اور فارنزک ماہرین شامل ہوں گے۔
ڈی ایس پی اورنگزیب خٹک کا کہنا ہے کہ ’فلیٹ کے اندر تشدد، چوری یا ڈکیتی کے کوئی واضح شواہد نہیں ملے ہیں۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ فی الحال یہ معاملہ زیر تفتیش ہے اور مزید حقائق جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ڈاکٹر عمر کا فلیٹ ’لاکھانی ٹاورز‘ نامی رہائشی عمارت کی ساتویں منزل پر واقع ہے، جسے اب پولیس کی جانب سے سِیل کر دیا گیا ہے، جبکہ اس منزل پر موجود دیگر فلیٹس بھی خالی ہیں۔
لاکھانی ٹاورز کی چھٹی منزل پر رہائش پزیر کامران بخاری نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ڈاکٹر عمر کا آبائی تعلق بہاولنگر سے تھا۔ پولیس نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔
کامران بخاری کے مطابق ’فلیٹ سے آنے والی بدبو انتہائی شدید تھی اور وہاں موجود رہنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ یہ ’یہ خاندان تقریباً ڈھائی سے تین برس سے یہاں رہ رہا تھا اور اُن کا رویہ انتہائی سادہ اور اچھا تھا۔‘
تاہم کامران بخاری کا کہنا ہے کہ اس فلیٹ کے اندر کیا ہوا، یہ اس ٹاور میں کسی کو نہیں معلوم ہے۔
دوسری جانب ڈی ایس پی اورنگزیب خٹک کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عمر احسن آباد میں واقع سٹی ہسپتال میں ملازمت کرتے تھے، تاہم ان کے ساتھیوں نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ ایک ماہ قبل ملازمت چھوڑ گئے تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اُن کے پاس موجود معلومات کے مطابق ڈاکٹر عمر کچھ عرصے سے بیمار تھے اور اُن کو کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔
دوسری جانب کراچی کے ضلع غربی کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) زبیر نذیر شیخ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ڈاکٹر عمر کے بھائی پنجاب میں موجود ہیں۔ تاہم جب اُن سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اپنے بھائی سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس اب خاندان کے مزید رشتہ داروں سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔