کراچی کے علاقے احسن آباد کے ایک فلیٹ سے میاں بیوی اور ان کے تین بچوں کی لاشیں ملنے کے افسوسناک واقعے میں جاں بحق خاندان کے پانچوں افراد کی تدفین کردی گئی۔
متوفین کی لاشیں ان کے اہل خانہ نے گزشتہ رات ایدھی سرد خانے سے وصول کیں۔ ڈاکٹر عمر کے بھائی ابوبکر اور ان کی اہلیہ مہوش کے والد جمشید اقبال واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد کراچی پہنچے تھے۔
میڈیا سے گفتگو میں ڈاکٹر عمر کے بھائی ابوبکر نے بتایا کہ انہیں واقعے کا علم پڑوسیوں اور پولیس کے ذریعے ہوا۔ خاندانی مسائل کے باعث کچھ عرصے سے ان کا بھائی سے رابطہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق ڈاکٹر عمر کا تعلق ہارون آباد، بہاولنگر سے تھا اور وہ کراچی میں رہائش پذیر تھے۔
ابوبکر نے بتایا کہ ڈاکٹر عمر کی شادی خاندان میں ہی ہوئی تھی اور انہیں صرف ایک بیٹی کے بارے میں معلوم تھا جبکہ دیگر دو بچوں کے بارے میں انہیں پہلے علم نہیں تھا۔ اہل خانہ نے باہمی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ میتیں پنجاب لے جانے کے بجائے کراچی ہی میں تدفین کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی اصل وجہ کے بارے میں اس وقت کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ پولیس تحقیقات کر رہی ہے جبکہ میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد موت کی وجوہات سے متعلق صورتحال مزید واضح ہوسکے گی۔
پولیس کے مطابق پانچوں میتیں ایدھی سرد خانے سہراب گوٹھ سے سیفل گوٹھ منتقل کی گئیں جہاں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ بعد ازاں میاں، بیوی اور تینوں بچوں کو نیو کراچی صنعتی ایریا کے صدیق آباد قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔