دبئی سے روانہ ہونے والے اس مسافر طیارے پر سوار بیشتر مسافروں کا تعلق اسرائیل سے ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ واقعے کو طیارہ اغوا کیے جانے کا واقعہ تصور نہیں کیا جا رہا جبکہ اسرائیلی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ ہنگامی سگنل غالباً پائلٹ اور شریک پائلٹ کے درمیان پیش آنے والی تکرار اور جھگڑے کے بعد جاری کیا گیا تھا۔
فائل فوٹو: فلائی دبئی کے ایک بوئنگ 737 میکس طیارے کا کاک پٹ۔ یہ تصویر نومبر 2025 میں دبئی ایئر شو کے دوران لی گئی تھیدبئی سے اسرائیل کے شہر تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی ایک پرواز نے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کی۔
یہ طیارہ تقریباً 150 مسافروں کو لے جا رہا تھا، جن میں اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی۔
طیارے میں سوار مسافروں کا کہنا ہے کہ پرواز کے دوران کاک پٹ میں موجود دو پائلٹس کے درمیان جھگڑا ہوا اور ایک پائلٹ کو چاقو مارا گیا۔
اس واقعے کے ابتدائی ردعمل میں اسرائیلی فضائیہ نے اپنے جنگی طیارے روانہ کیے جبکہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فوری مشاورت بھی کی۔
بی بی سی عربی کے یروشلم میں موجود نامہ نگار کے مطابق یہ صورتحال اُس وقت پیش آئی جب ایک پائلٹ نے طیارے کا رُخ تبدیل کیا۔ طیارہ پہلے اُردن کی فضائی حدود میں داخل ہوا اور بعد ازاں اس کا راستہ سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا۔
فلائی دبئی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے صرف اتنا کہا ہے کہ پرواز کو سفر کے دوران ’ایک واقعے‘ کا سامنا کرنا پڑا، تاہم تمام مسافر محفوظ ہیں۔
اسرائیلی فوج کی ترجمان: اسرائیلی چیف آف سٹاف نے واقعے کی ابتدائی تفصیل ملنے کے بعد ایک اہم اجلاس منعقد کیا، جس میں فضائیہ کے کمانڈر، آپریشنز کے سربراہ، انٹیلیجنس کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے شرکت کی (فائل فوٹو)واقعہ کیسے پیش آیا؟
متحدہ عرب امارات کی ایئرلائن ’فلائی دبئی‘ کی پرواز نمبر ایف زیڈ 1073 بدھ کو علی الصبح دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہوئی تھی۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ ریڈار 24‘ کے مطابق روانگی کے تقریباً دو گھنٹے بعد طیارے کی جانب سے کوڈ نمبر 7700 نشر کیا گیا، جو ہنگامی صورتحال کی نشان دہی کرتا ہے۔
کچھ ہی منٹ بعد طیارے نے کوڈ نمبر 7500 بھی نشر کیا، جو عموماً طیارے میں غیر قانونی مداخلت یا ہائی جیکنگ جیسے واقعے کی اطلاع کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تاہم بعد میں اسے دوبارہ عمومی ہنگامی سگنل میں بدل دیا گیا۔

فلائٹ ریڈار 24 کے اعداد و شمار کے مطابق طیارے نے پرواز بھرنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد سعودی عرب کی فضائی حدود میں اچانک تیزی سے بلندی کم کرنا شروع کر دی اور پاکستانی وقت کے مطابق 10:21 بجے کے فوراً بعد طیارہ دو منٹ سے بھی کم وقت میں 17 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے آ گیا۔
اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پرواز مختصر وقت کے لیے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوئی، تاہم چند منٹ بعد دوبارہ سعودی عرب کی فضائی حدود میں واپس آ گئی۔
تل ابیب جانے والی اس پرواز نے سعودی عرب کے شمال مشرقی شہر تبوک کے ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کی۔
عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟
اسرائیلی شہری یاسمین ابو قسیس، جن کی بیٹی فلائی دبئی کی اس پرواز میں سفر کر رہی تھیخبر رساں اداروں اور اسرائیلی میڈیا سے گفتگو کرنے والے مسافروں اور ان کے اہل خانہ نے واقعے کی تفصیلات بتائی ہیں۔
پرواز میں سوار ایک خاتون مسافر مریم کی والدہ یاسمین ابو قسیس نے خبر رساں اداروں اے پی اور روئٹرز کو بتایا کہ ان کی بیٹی نے فون پر اطلاع دی کہ طیارے میں چیخ و پکار سنائی دے رہی تھی اور ایک پائلٹ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔
یاسمین کے مطابق ان کی بیٹی نے بتایا کہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے طیارہ قابو سے باہر ہو رہا ہو، جس پر مسافروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
یاسمین ابو قسیس کے مطابق اُن کی بیٹی مریم نے انھیں بتایا کہ ایک شخص نے چاقو کے زور پر پائلٹوں میں سے ایک کو زمین پر گرایا ہوا تھا، جبکہ طیارے کے اندر ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔
یاسمین ابوقسیس نے روئٹرز کو بتایا کہ بعد ازاں دو دیگر پائلٹس نے طیارے کا کنٹرول سنبھال لیا جبکہ مسافر ایک ایسے شخص کی طرف بڑھے جس کے ہاتھ میں چاقو تھا۔
اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ سے گفتگو کرنے والے ایک مسافر نے کہا کہ ایک پائلٹ کو دوسرے پائلٹ نے چاقو مارا تھا، تاہم طیارے کے اگلے حصے میں موجود مسافروں نے مبینہ حملہ آور کو کاک پٹ سے باہر نکالنے میں مدد دی۔
انھی مسافر کا مزید کہنا تھا کہ طیارے کے پچھلے حصے میں موجود دو دیگر پائلٹس نے بعد میں پرواز کی ذمہ داری سنبھالی اور طیارے کو بحفاظت اتارنے میں مدد کی۔
طیارے میں موجود ایک اسرائیلی مسافر نے صحافیوں کو بتایا کہ عملے نے مسافروں سے مدد طلب کی، جس کے بعد بعض مسافروں نے مبینہ حملہ آور کو قابو کیا اور اسے باندھ دیا۔
اخبار اسرائیل ہیوم سے بات کرنے والی ایک خاتون مسافر نے کہا کہ مسافروں نے یہ سمجھا کہ پائلٹس طیارے کا کنٹرول کھو بیٹھے ہیں۔ ان کے بقول ایک پائلٹ کو چاقو کے زخم آئے تھے جو سنگین نوعیت کے تھے، اور کچھ مسافروں کے کپڑوں پر خون بھی لگا ہوا تھا۔
حکام کا کیا کہنا ہے؟
فلائی دبئی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 30 ستمبر کو دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسرائیل کے بین گوریون ایئرپورٹ جانے والی اس کی پرواز کو راستے میں ’ایک واقعے کا سامنا کرنا پڑا۔‘
کمپنی کے مطابق طیارہ بحفاظت تبوک ایئرپورٹ پر اترا اور تمام مسافر محفوظ ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ مسافروں اور عملے کی سلامتی اور فلاح و بہبود کمپنی کی اولین ترجیح ہے۔
فلائی دبئی کا کہنا ہے کہ اس کی ٹیمیں متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہیں اور مزید تصدیق شدہ معلومات دستیاب ہونے پر جاری کی جائیں گی۔
سعودی عرب کے شہر تبوک کے ہوائی اڈے کو چلانے والی کمپنی نے کہا ہے کہ فلائی دبئی کی پرواز کے کپتان اور فرسٹ آفیسر دونوں زخمی ہوئے اور انھیں علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق تبوک ایئرپورٹ کے فضائی ٹریفک کنٹرول مرکز کو مقامی وقت کے مطابق صبح 8:44 بجے فلائی دبئی کے طیارے سے ہنگامی کال موصول ہوئی، جس میں طیارے نے ہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی۔
بیان کے مطابق اس کے تقریباً ایک گھنٹے بعد طیارہ بحفاظت تبوک ہوائی اڈے پر اتر گیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ایک بیان میں کہا کہ صورتحال قابو میں ہے اور سعودی عرب میں موجود اسرائیلی مسافروں کو وطن واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
طیارے میں سوار مسافروں کے اہل خانہ اور میڈیا کے نمائندے اسرائیل کے بین گوریون ائیرپورٹ پر جمع ہیںاسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ کے مطابق اسرائیلی چیف آف سٹاف نے واقعے کی ابتدائی تفصیل ملنے کے بعد ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد کیا، جس میں فضائیہ کے کمانڈر، آپریشنز کے سربراہ، انٹیلیجنس کے سربراہ اور دیگر اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے شرکت کی۔
ترجمان نے بتایا کہ اجلاس کے دوران واقعے سے متعلق تازہ ترین معلومات، ممکنہ سکیورٹی خدشات اور فوجی ردعمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی حکام طیارے سے موصول ہونے والے ہنگامی سگنلز کے بعد صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔
اس دوران بعض اسرائیلی حکام نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ ایک ’بڑا سانحہ‘ ٹل گیا۔
سعودی عرب میں اتاری جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے ایک متبادل طیارہ تبوک روانہ کر دیا گیا۔