برطانیہ میں حالیہ برسوں کے دوران ویڈیو گیمز کی صنعت نے نمایاں ترقی کی ہے۔
جاروز ٹاسکر، جاروز انڈی انسائٹس کی ڈائریکٹر اور بانی ہیں اور سات سال قبل تدریس کا پیشہ چھوڑ چکی ہیں۔2019 میں، جاروز ٹاسکر کو محض 28 برس کی عمر میں ایک دائمی بیماری کے باعث تدریس (بطورِ استاد) کا پیشہ چھوڑنا پڑا۔
سات سال بعد، وہ اب اُس سالانہ آمدنی سے دگنا کما رہی ہیں جو انھیں اُس وقت حاصل ہوتی تھی۔ وہ جاروز انڈی انسائٹس چلا رہی ہیں، جو ویڈیو گیمز کی صنعت میں روابط اور مارکیٹنگ کی خدمات فراہم کرنے والی ایک کمپنی ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میں پورے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ اگر میں تدریس کے شعبے میں رہتی تو میری آج جتنی آمدنی ہے، وہاں تک پہنچنے میں غالباً 20 سال لگ جاتے۔‘
پڑھانا چھوڑنے کے بعد انھوں نے پلے سٹیشن کے یوٹیوب چینل کے لیے رضاکارانہ کام شروع کیا اور انھیں محسوس ہوا کہ دونوں صنعتوں میں بہت سی چیزیں ایک جیسی ہیں۔
انھوں نے کہا: ’ایک کمیونٹی کو سنبھالنا بچوں سے بھری ایک جماعت کو سنبھالنے جیسا ہی ہے، اس لیے بہت سی مہارتیں ایک شعبے سے دوسرے میں منتقل ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ویڈیو گیمز اُن صنعتوں میں سے ایک ہے جن میں بہت سے لوگ زندگی کے نسبتاً بعد کے حصے میں آتے ہیں۔‘
مارک بیکلر، جو گیم اینگلیا سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ یہ گروپ ویڈیو گیمز کی صنعت میں پیشہ ورانہ مواقع کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے لیے کام کرتا ہے۔ٹاسکر، جو ایکسیٹر میں رہتی ہیں، سمجھتی ہیں کہ نوجوان شاید اس شعبے میں کام کرنے کے لیے موجود ’متعدد ذرائع‘ سے واقف نہیں۔
انھوں نے مزید کہا: ’ویڈیو گیمز کی کمیونٹی بہت مضبوط ہے اور اُن لوگوں کی حمایت کرتی ہے جو اپنے کام سے محبت کرتے ہیں، لیکن یہ کمیونٹی یہ بھی محسوس کر لیتی ہے کہ کوئی شخص صرف پیسے کے لیے اس شعبے میں آیا ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’جذبہ سب سے اہم چیز ہے۔‘
زندگی میں تبدیلی
مصنوعی ذہانت کے اثرات سے متعلق سوال کے جواب میں ٹاسکر نے کہا کہ اُن کے خیال میں صنعت اسے مسترد کرنے کے حوالے سے ’بہترین کام‘ کر رہی ہے کیونکہ کھلاڑی اسے پسند نہیں کرتے۔
انھوں نے مزید کہا: ’میرے خیال میں بطور صنعت ہمیں اس بات پر بہت فخر ہونا چاہیے کہ ہم اب بھی انسانی تخلیقی صلاحیتوں کا دفاع کر رہے ہیں اور یہ کہ عوام بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔‘
مارک بیکلر، گیم اینگلیا سے وابستہ ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ادارہ ویڈیو گیمز کی صنعت میں پیشہ ورانہ مواقع اجاگر کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔
ٹاسکر نے گیم اینگلیا کے زیرِ اہتمام ایک تقریب میں شرکت کی جس کا مقصد مشرقی انگلینڈ میں آزاد ویڈیو گیمز صنعت کی ترقی کو نمایاں کرنا تھا۔
بیکلر نے کہا کہ یہ صنعت اس وقت برطانیہ کی اہم ترین صنعتوں میں شمار ہوتی ہے اور اگرچہ یہ ایک مسابقتی شعبہ ہے، لیکن ’اپنے آزاد ویڈیو گیمز تیار کرنا اور ریلیز کرنا اب پہلے سے کہیں زیادہ ممکن ہے۔‘
ڈویلپر سیم ریڈ گریوز کہتے ہیں کہ یہ شعبہ انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں ترقی کر رہا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے کہ مصنوعی ذہانت اس شعبے کو کس طرح تبدیل کرے گی، اگرچہ بہت سے کھلاڑی اس کے استعمال کے مخالف ہیں۔
تقریب کے دوران انھوں نے بتایا کہ ویڈیو گیمز کا شعبہ ’گذشتہ دس برسوں میں بے حد ترقی کر چکا ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’مشرقی انگلینڈ میں گیم اینگلیا جیسے اقدامات کی بدولت مضبوط ماحولیاتی نظام وجود میں آئے ہیں جہاں بہت سے طلبہ اور ڈویلپر موجود ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کے نتیجے میں ایسے سٹوڈیوز کو بھی راغب کیا گیا ہے جو بڑے ویڈیو گیمز تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
ایبی گیل ڈن نے یونیورسٹی میں ویڈیو گیمز ڈیزائن اور پروگرامنگ کی تعلیم حاصل کی۔انھوں نے مزید کہا: ’جب ہم کال آف ڈیوٹی یا فیفا جیسے عنوانات کی بات کرتے ہیں تو فی الحال مشرقی انگلینڈ میں اس نوعیت کے کھیل سامنے نہیں آئیں گے کیونکہ ہمارے پاس بڑے سٹوڈیوز موجود نہیں ہیں۔‘
’لیکن آزاد ڈویلپرز کے لیے ایسی کوئی وجہ نہیں کہ اُن کے کھیل بھی مالی طور پر اتنے ہی کامیاب نہ ہو سکیں۔‘
خواتین کے لیے جگہ
ایبی گیل ڈن نے یونیورسٹی میں ویڈیو گیمز ڈیزائن اور پروگرامنگ کی تعلیم حاصل کی ہے۔
22 سالہ ڈن، ایسیکس میں قائم آزاد ویڈیو گیمز ڈویلپمنٹ کمپنی آسٹرل فورج کی بانی اور ڈائریکٹر ہیں۔
ان کے مطابق آج اس صنعت میں ’خواتین کے لیے بے پناہ مواقع‘ موجود ہیں۔
انھوں نے یاد کرتے ہوئے کہا: ’یقیناً کچھ جھجک محسوس ہوتی ہے۔ جب میں تعلیم حاصل کر رہی تھی تو میرے کورس میں صرف تین خواتین تھیں۔‘
انھوں نے کہا: ’سب لوگ بہت اچھے ہیں، حقیقت میں یہ اتنا برا نہیں جتنا محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر آج کے دور میں۔‘
ویڈیو گیمز ٹیلنٹ سکاؤٹ عمر خلیل کا خیال ہے کہ شاید اگلی بڑی گیم تخلیق کرنا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔ڈن نے کہا: ’میں خود ایک پروگرامر ہوں، ایک ایسا شعبہ جہاں خواتین اب بھی نسبتاً کم دکھائی دیتی ہیں، اور میں نے کبھی خود کو اجنبی محسوس نہیں کیا۔`
اینٹیٹی سے وابستہ گیم سکاؤٹ عمر خلیل کا کہنا ہے کہ شاید اگلی بڑی گیم تخلیق کرنا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔
خلیل نے کہا کہ برطانیہ میں ’صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے‘، تاہم انھوں نے تسلیم کیا کہ اگلی بڑا ویڈیو گیم تیار کرنا ایک چیلنج ہے۔
انھوں نے کہا: ’اس وقت مارکیٹ میں بے شمار ویڈیو گیمز موجود ہیں۔ مسئلہ اچھے گیمز کی کمی کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ان گیمز کو نمایاں مقام کیسے دلایا جائے۔‘
انھوں نے کہا: ’میرے خیال میں یہی سب سے بڑا چیلنج ہے۔‘