25 جون 1975 کو موزمبیق کی آزادی کے بعد یہ پاکستانی موزمبیقی شہریت حاصل کر سکتے تھے، لیکن آزاد موزمبیق نے لازمی فوجی خدمت کا قانون برقرار رکھا۔ پہلے پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کی تعداد تقریباً پانچ ہزار بتائی جاتی تھی بعد میں یہ تعداد بڑھ گئی۔
یہ کہانی ہے موزمبیق میں بسنے والے ایسے پاکستانیوں کی جن میں سے زیادہ تر نے پاکستان شاید کبھی دیکھا تک نہیں۔
تو اس جنوب مشرقی افریقی ملک کے یہ باسی پاکستان کے شہری کیسے بنے، آئیے جانتے ہیں۔
موزمبیق میں ہندوستانی تاجروں کی تاریخ
موزمبیق اور برصغیر کے درمیان سمندری تجارت کے روابط صدیوں پرانے ہیں، جب بحرِ ہند کی مون سون ہواؤں کے سہارے ہندوستانی تاجر مشرقی افریقہ کے ساحل تک پہنچتے تھے۔
بارہویں صدی کے عرب جغرافیہ دان الادریسی نے موزمبیق کے ساحلی شہر صوفالہ میں ہندوستانی آبادیوں کا ذکر کیا، جبکہ پندرہویں صدی کے اواخر میں پرتگالی مہم جُو واسکو ڈے گاما نے بھی وہاں ہندوستانی تاجروں کی موجودگی دیکھی۔
سولھویں صدی کے اوائل سے انیسویں صدی تک پرتگال نے موزمبیق میں بتدریج قلعے اور تجارتی مراکز قائم کر کے اپنے علاقائی اقتدار کو وسعت دی۔ لگ بھگ اسی عرصے میں بحرِہند کے مشرقی ساحل کے مقابل، برصغیر میں گوا، دَمن، دِیو، دادرا اور نگر حویلی بھی پرتگال کی نوآبادیاں تھے۔
سوزانا پیریرا باسٹوس کی تحقیق ہے کہ انیسویں صدی میں گجراتی تاجروں، خصوصاً کَچھ، دِیو اور دَمن سے آنے والوں، کی تعداد بڑھی۔
’انڈین ٹرانس نیشنلزمز اِن کولونیئل اینڈ پوسٹ کولونیئل موزمبیق‘ کے عنوان سے چھپی سوزانا کی تحقیق کے مطابق تجارت میں ہاتھی دانت، کاجو اور دیگر اشیا نمایاں تھیں۔
’سنہ 1911کے بعد جنوبی افریقہ میں ہندوستانی باشندوں کی موجودگی کے خلاف سفید فام آبادی کی بڑھتی ہوئی مخالفت کے باعث، زیادہ سے زیادہ گجراتی، جو ابتدا میں جنوبی افریقہ میں آباد ہونے کا ارادہ رکھتے تھے، اپنا رخ شمال کی جانب موڑ کر موزمبیق پہنچنے لگے، خصوصاً ڈیلاگوآ بے کے آس پاس کے علاقے میں۔‘
سوزانا لکھتی ہیں کہ سنہ 1929 سے 1934 کے عظیم کسادِ بازاری کے دوران بھی ہندوستانی کاجو کے تاجر خوش حال رہے، کیونکہ کاجو کی قیمت مستحکم رہی۔
'لیکن پرتگالی حکومت کی نئی پابندیوں کے باعث نہ صرف نئی آمد محدود ہو گئی بلکہ بیرونِ ملک موجود موزمبیق کے ہندوستانی باشندوں کی واپسی بھی روک دی گئی۔
’نتیجتاً، وہ تارکینِ وطن جو پہلے کاروبار کے لیے اکیلے موزمبیق آتے اور خاندان ہندوستان میں چھوڑ جاتے تھے، اب بیوی بچوں کو بھی ساتھ لانے لگے، جس سے وطن سے ان کے تعلقات مزید کمزور پڑ گئے۔
’سو پرتگالی نوآبادیاتی پابندیوں کے باوجود یہ تجارتی برادری قائم رہی اور رفتہ رفتہ مقامی معیشت کا اہم حصہ بن گئی۔‘
برصغیر کی تقسیم
سنہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم نے موزمبیق میں آباد جنوبی ایشیائی برادری کے سامنے پہلی بار قومی شناخت کا سوال کھڑا کیا۔
نفیسہ ایلن کے مطابق انھیں پاکستانی یا انڈین شہریت اختیار کرنے کا موقع ملا، جبکہ بعض بڑے تاجروں نے برطانوی شہریت برقرار رکھی اور موزمبیق میں پیدا ہونے والے بچوں کو پرتگالی شہری کے طور پر درج کرایا۔
پاکستانی سفارت کار نذر عباس کے مطابق برصغیر سے آنے والے ان لوگوں میں سے کوئی بھی موجودہ پاکستان سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔

پاکستانی شہریت کی ابتدا؟
نفیسہ کی کتاب ’اِنڈو-موزمبیقن اِن میپوٹو، 1947–1992: اورل نیریٹوز آن آئیڈینٹی اینڈ مائیگریشن‘ سے علم ہوتا ہے کہ اگرچہ بیشتر ہندوؤں نے انڈین اور بعض مسلمانوں نے بھی انڈین شہریت اختیار کی، مسلمانوں کی ایک قابلِ ذکر تعداد نے پاکستانی شہریت حاصل کی۔
لیکن نذرعباس سنہ 2015 میں ’میموائرزآف این ایمبیسیڈر‘ کے عنوان تلے چھپیاپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ سنہ1947 میں انڈیا اور پاکستان کی آزادی کے بعد بھی دارالحکومت لورینسو مارکیز (جس کا نام بعد میں ماپوتو ہو گیا تھا) یا موزمبیق کے کسی دوسرے حصے میں پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے کسی شخص کی موجودگی کا کوئی معلوم ریکارڈ نہیں تھا۔
نفیسہ کے مطابق سنہ 1950کی دہائی میں کاجو کی تجارت کے فروغ کے ساتھ انڈین نژاد تجارتی برادری مضبوط ہوئی اور دہائی کے اختتام تک موزمبیق میں ان کی تعداد تقریباً 12,000 تک پہنچ گئی۔
نئی مشکل
نذر عباس لکھتے ہیں کہ سنہ 1961 میں انڈیا نے پرتگالی مقبوضہ گوا اور دیگر علاقوں کو اپنے ساتھ ضم کر لیا تو تکنیکی طور پر پرتگال اور انڈیا حالتِ جنگ میں آ گئے۔
’موزمبیق میں پرتگالی حکام نے انڈین شہریوں کو حراستی کیمپوں میں نظر بند کیا اور ان کے بینک کھاتے منجمد کر دیے۔ بعد میں انھیں موزمبیق چھوڑنے یا پرتگالی شہریت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا۔ بعض لوگ جنوبی افریقہ، برطانیہ اور دیگر ملکوں چلے گئے، جبکہ مقیم غیر مسلموں نے پرتگالی شہریت لے لی۔‘
’تاہم نسلوں سے موزمبیق میں آباد ہندوستانی مسلمانوں کے لیے یہ فیصلہ دشوار تھا، کیونکہ انڈین شہری کی حیثیت سے رہنا ممکن نہ تھا اور پرتگالی شہریت لینے کی صورت میں ان کے نوعمر بچوں کو لازمی فوجی خدمت کرنا پڑتی۔‘
یہ حکم دیگر غیر ملکی مستقل رہائشیوں پر لاگو نہیں ہوتا تھا۔
نذر عباس لکھتے ہیں کہ چونکہ وہ اور ان کے آباواجداد پاکستانی نژاد نہیں تھے، انھوں نے پاکستان دیکھا تک نہیں تھا اور نہ ہی اردو یا پاکستان کی کوئی دوسری زبان بولتے تھے— ان کی مادری زبان گجراتی اور دوسری زبان پرتگالی تھی— اس لیے وہ پاکستانی شہریت کے لیے درخواست بھی نہیں دے سکتے تھے۔
’انھوں نے اپنے رہنماؤں کا ایک وفد پاکستان بھیجا۔ وفد نے صدر جنرل ایوب خان سے ملاقات کی، انھیں اپنی مشکل صورتِ حال سے آگاہ کیا اور پاکستانی شہریت اور پاسپورٹ دینے کی درخواست کی۔‘
’ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان اور پرتگال کے درمیان تجارت اور دیگر تعلقات کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
’اگر تقسیمِ ہند کے وقت وہ انڈیا میں ہوتے تو ان میں سے بہت سے، بلکہ شاید اکثریت، پاکستان منتقل ہو جاتی اور آج ویسے بھی پاکستانی ہوتے۔
’صدر محمد ایوب خان نے ان کی درخواست منظور کر لی۔
’ہندوستانی پس منظر رکھنے والے وہ تمام مسلمان جو پاکستانی بننا چاہتے تھے، انھیں ہدایت کی گئی کہ وہ تنزانیہ میں پاکستان کے سفارتی مشن سے رجوع کریں، جہاں انھیں پاکستانی پاسپورٹ جاری کیے گئے۔‘
نفیسہ کی تحقیق کے مطابق پاکستانی شہریوں کو اس عرصے میں انڈین شہریوں کے برعکس حراست، اثاثوں کی ضبطی اور بے دخلی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ایک ایسے ہی پاکستانی عبدُل سلیمان نے نفیسہ کو بتایا: قبضے کے وقت ہمیں کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا، کیونکہ ہمارے پاس پاکستانی دستاویزات تھیں۔ کسی غلط فہمی سے بچنے کے لیے ہم نے اپنے گھروں اور دکانوں پر پاکستانی پرچم لگا دیے اور پوسٹر آویزاں کیے جن پر لکھا تھا ’پاکستان پرتگالی مہمان نوازی کا شکر گزار ہے۔‘
یوں پاکستانی شہریت محض شناخت نہیں رہی بلکہ پرتگالی موزمبیق میں ایک عملی اور سیاسی اہمیت بھی اختیار کر گئی۔
سنہ 1964 سے 1974 تک غیر ملکی پرتگالی حکمرانی کو استحصالی سمجھنے والے موزمبیقیوں میں بڑھتی بے چینی نے مسلح جدوجہد کی شکل اختیار کی، جو بالآخر موزمبیق کی جنگِ آزادی کا سبب بنی۔
سنہ 1975 میں جنگِ آزادی کے بعد موزمبیق ایک آزاد ملک تو بن گیا مگر موزمبیق لبریشن فرنٹ، یعنی فریلیمو، کی جانب سے یک جماعتی نظام قائمکرنےسے خانہ جنگی نے جنم لیا۔
نذر عباس 1986 سے 1990 تک موزمبیق میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی چیف آف مشن کے عہدے پر فائز رہے۔
وہ اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں کہ تب موزمبیق شدید خانہ جنگی، غربت اور تباہی کا شکار تھا۔ اس سنگین انسانی بحران میں غیر ملکی برادری اور اقوامِ متحدہ کے ادارے، خصوصاً یونیسیف اور عالمی خوراک پروگرام، امداد فراہم کر رہے تھے۔
’میری اہلیہ (کارٹونسٹ) نگار نذر (جن کا تخلیق کردہ کردار ’گوگی‘ سماجی اور تعلیمی مسائل، خصوصاً صنفی امتیاز، کو اجاگر کرنے کے لیے مشہور ہے) نے بھی امدادی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور پاکستانی اور سفارتی برادری کی خواتین کو ساتھ ملایا۔
’ماپوتو کی گجراتی بولنے والی پاکستانی برادری نے بھی فراخ دلی سے عطیات دیے۔ خواتین نے خیراتی تقریبات اور نگار نذر کی فن پاروں کی نمائشوں کے ذریعے خاصی رقم جمع کی۔
’اس رقم سے کینتھ کاؤنڈا روڈ پر واقع ایک سرکاری سکول کی خستہ حال عمارت کی مرمت کرائی گئی، جس میں غریب خاندانوں کے سینکڑوں بچے زیرِ تعلیم تھے۔ اجازت کے لیے اُس وقت کی وزیرِ تعلیم گراسا مچیل، جو بعد میں نیلسن منڈیلا کی اہلیہ بنیں، سے رابطہ کیا گیا۔ انھوں نے نہ صرف اجازت دی بلکہ سکول کی افتتاحی تقریب میں شرکت بھی کی۔
’تقریب میں گراسا مچیل نے نقشے پر پاکستان کی نشان دہی کرتے ہوئے طلبہ کو بتایا کہ یہ پاکستان ہے اور ’یہ خاتون پاکستان سے ہیں، جنھوں نے آپ کا سکول مرمت کرایا ہے۔‘
’پاکستانی برادری کی اس خدمت کا یہ اعتراف ہمارے لیے باعثِ فخر تھا۔‘
نذر لکھتے ہیں کہ ’موزمبیق میں میری ساڑھے تین سالہ تعیناتی شاید ملک کی تاریخ کا بدترین دور تھا… بازار میں کچھ بھی دستیاب نہیں تھا، حتیٰ کہ روٹی، سافٹ ڈرنکس، قلم اور کاغذ جیسی عام اشیا بھی نہیں ملتیں تھیں۔
’ماپوتو غربت میں ڈوبا ایک بے رونق شہر تھا۔
’گجراتی بولنے والے پاکستانی مسلمان اور انڈین ہندو چھوٹی دکانیں چلاتے تھے اور جنوبی افریقہ، انڈیا اور پاکستان سے کپڑے، مسالے اور دوسری ضروری اشیا لاتے تھے۔ مگر جوتے، ہارڈویئر اور برقی سامان تک نایاب تھا۔
’بنیادی سہولتیں نسبتاً بہتر تھیں، اگرچہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی اور بلند عمارتوں کی بیشتر لفٹیں خراب پڑی تھیں۔ ایک پاکستانی شہری نے شہر کی بلند ترین عمارت کی 33 منزلیں محض اس لیے دو بار چڑھنے سے گریز کیا کہ چابی گاڑی میں بھول آیا تھا۔

نذر کے مطابق پاکستان اور پاکستانیوں کو وہاں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
’مئی 1989 میں نوبیل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام ماپوتو آئے تو پاکستانی سفارت خانے کی تقریب میں مہمانِ خصوصی بنے۔ ان کی موجودگی اور پاکستان کے بارے میں گفتگو نے مقامی اشرافیہ اور حکام کو خاصا متاثر کیا اور ہمارے لیے باعثِ فخر بنی۔‘
نذر عباس کے مطابق 25 جون 1975 کو موزمبیق کی آزادی کے بعد یہ پاکستانی موزمبیقی شہریت حاصل کر سکتے تھے، لیکن آزاد موزمبیق نے لازمی فوجی خدمت کا قانون برقرار رکھا اور ملک خانہ جنگی کا شکار بھی ہو گیا۔
’چنانچہ انھوں نے اپنے پاکستانی پاسپورٹ برقرار رکھے اور پہلے کی طرح مستقل رہائشی کی حیثیت سے موزمبیق میں رہتے رہے۔‘
نذر نے لکھا کہ جب وہ ماپوتو میں تعینات ہوئے تو پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کی تعداد تقریباً پانچ ہزار بتائی جاتی تھی۔ بعد میں یہ تعداد بڑھ گئی ہو گی۔
’ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر کسی نے پاکستان دیکھا تک نہیں۔ وہ پاکستان کی کوئی زبان بھی نہیں بولتے۔ جن لوگوں کو ٹیلی ویژن یا وی سی آر تک رسائی حاصل تھی، انھیں اردو اور ہندی کے کچھ الفاظ آتے تھے، کیونکہ وہ باقاعدگی سے پاکستانی ٹی وی ڈرامے اور انڈین فلمیں دیکھتے تھے۔
’ان میں سے بیشتر چھوٹے تاجر اور دکاندار تھے۔ کراچی میں موجود دوستوں سے ان کا باقاعدہ رابطہ رہتا تھا۔ کراچی میں ڈراموں کی ویڈیو جاری ہوتے ہی تقریباً فوراً ماپوتو پہنچ جاتی تھی۔ وہ گھروں میں گجراتی اور عوامی زندگی میں پرتگالی بولتے تھے۔
وزیر موزمبیق کے، والدین پاکستانی شہری
نذر کے مطابق ان پاکستانیوں میں اس وقت کے وزیرِ خزانہ عبدالمجید کے والدین بھی شامل تھے، جبکہ خود وزیرِ خزانہ موزمبیقی شہری تھے۔
’وزیر کے والد ایک سے زیادہ مرتبہ میرے دفتر آئے تاکہ اپنا اور اپنی اہلیہ کا پاسپورٹ تجدید کرا سکیں۔
’پاکستان کے سفارت خانے میں ہمیں پاکستانیوں سے بھی پرتگالی-انگریزی مترجم کے ذریعے بات چیت کرنا پڑتی تھی۔ کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی، قومی اور بین الاقوامی قانون کے تحت ہماری ذمہ داری تھے۔ وہ پاکستانی نہیں تھے، پھر بھی وہ پاکستانی تھے— اور ہیں۔‘
نذر عباس بتاتے ہیں کہ ایک بار موزمبیق میں رینامو کے باغیوں کے قبضے سے اقوامِ متحدہ کی کوششوں سے مختلف قومیتوں کے تقریباً 75 قیدی رہا ہوئے، جن میں تقریباً ایک درجن پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے مرد، خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
’حکومتِ پاکستان اور سفارت خانے کے نمائندے کی حیثیت سے میں نے انھیں اقوامِ متحدہ کے نمائندے سے وصول کیا۔‘ ماپوتو کے ایک ہوٹل میں ضروری دستاویزات پر دستخط کیے، ان کا خیرمقدم کیا اور مختصر استقبالیہ دیا، مگر ’ان سے بھی مترجم کے ذریعے گفتگو کی۔‘
’انھیں پاکستان واپس تو بھیجنا نہیں تھا سو وہ موزمبیق میں اپنے گھروں اور رشتہ داروں کے پاس چلے گئے۔‘
نذر عباس بتاتے ہیں کہ سفیر کے ساتھ وہ واحد دوسرے سفارتی افسر تھے، اس لیے قونصلر امور سمیت متعدد ذمہ داریاں بھی ان کے پاس تھیں۔
’روزانہ اوسطاً پاسپورٹ کی تجدید کی پانچ، چھ درخواستیں آتی تھیں اور ضرورت کے مطابق درخواست گزاروں کے انٹرویو بھی کیے جاتے تھے۔‘
انتونیو عبدالسکور بھلا کیا نام ہوا؟
نذر عباس لکھتے ہیں کہ ایک روز انتونیو عبدالسکور(گجراتی میں نام اسی طرح لکھا جاتا ہے، اصل عبدالشکور ہے)نامی نوجوان نے پاکستانی پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست دی۔
’ان کا نام دیکھ کر مجھے تجسس ہوا، میں نے انھیں بلایا۔ وہ تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ کار مکینک تھےاور ماپوتو میں اپنی ورکشاپ چلاتےتھے۔‘
انتونیو نے بتایا کہ ان کے والد نے انھیں پرتگالی عیسائی نام اس لیے دیا تھا تاکہ نوآبادیاتی دور میں، جب مقامی اور ہندوستانی نژاد مسلمانوں کے لیے چوتھی جماعت سے آگے تعلیم کے مواقع محدود تھے، وہ تعلیم جاری رکھ سکیں۔
کچھ عرصے بعد سادہ لباس میں خفیہ اہل کار انھیں گھر سے لے گئے۔
نذر عباس کہتے ہیں، ’ان کی والدہ کی فریاد پر پاکستانی سفیر کرنل نصیر نے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا اور ان کی گرفتاری اور خیریت کی وضاحت طلب کی۔‘
بعد ازاں معلوم ہوا کہ انھیں ایک انتہائی حفاظتی جیل میں رکھا گیا ہے۔ سفارت خانے کو قونصلر رسائی ملی اور نذر عباس سفیر کے ساتھ ان سے ملنے گئے۔
انتونیو نے بتایا کہ انھیں بغیر کسی باقاعدہ الزام کے حراست میں رکھا گیا تھا، جبکہ ان کی گرفتاری ان کے ایک گرفتار فوجی افسر پڑوسی سے تعلق کی بنا پر ہوئی تھی۔
نذر عباس کے مطابق، سفیر کی کوششوں سے کچھ تاخیر کے بعد انھیں بغیر کسی الزام کے رہا کر دیا گیا؛ ’وہ اپنی والدہ کے ساتھ سفارت خانے آئے تو ان دونوں کو خوش دیکھ کر ہمیں جو خوشی ہوئی، اسے میں آج تک نہیں بھول سکتا۔‘
ماپوتو میں واقع جمعہ مسجدآج کے موزمبیق میں موجود پاکستانیوں میں سے کتنے خاندانوں کی پاکستانی شناخت کی جڑیں اسی 1947–61 کے دور میں ملتی ہیں، اور کتنے بعد میں پاکستان سے وہاں پہنچے؟
محمد آصف پنجوانی موزمبیق چیمبر آف کامرس میں بین الاقوامی تعاون کے شعبے کے صدر ہیں اور افریقی خطے میں بین الاقوامی کرکٹ امپائر بھی رہے ہیں۔
ان کے مطابق موزمبیق میں گجراتی نسل کے پاکستانیوں کی اولاد سمیت پاکستانی برادری کی تعداد اندازاً 20,000 سے 30,000 ہے، تاہم درست اعداد دستیاب نہیں کیونکہ کئی افراد نے بعد میں دوسری شہریت اختیار کر لی۔
آصف خود پاکستان سے گئے ہیں اور میمن ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی برادری مذہبی اور سماجی تقریبات میں اکٹھی ہوتی ہے۔ سماجی کاموں میں بھی حصہ لیتی ہے اور پاکستان میں سیلاب جیسی آفات کے موقع پر امداد بھیجتی ہے۔
’پاکستان سے موزمبیق کو کپڑے، بسکٹ اور جوس برآمد ہوتے رہے ہیں، جبکہ موزمبیق سے پاکستان کو کپاس آتی ہے۔ نئے پاکستانی زیادہ تر گاڑیوں اور موبائل فون کے کاروبار سے وابستہ ہیں، جبکہ پرانی نسل نے مختلف شعبوں میں کاروبار پھیلایا۔‘
آصف نے عبد الواحد زویری کا تذکرہ کیا جنھوں نے 1971 میں موزمبیق میں کاروبار شروع کیا اور بعدازاں نامپولا اور ماپوتو کی مسلم برادریوں کی قیادت کی۔
’سنہ 1984 میں ماپوتو منتقل ہونے کے بعد عبدالواحد نے پاکستان ایسوسی ایشن آف موزمبیق قائم کی اور تقریباً 12 سال اس کے صدر رہے۔ موزمبیقی شہریت حاصل کرنے اور عہدوں سے سبکدوش ہونے کے باوجود وہ پاکستانی برادری کی خدمت، دستاویزی و قونصلر معاملات اور نئے آنے والے پاکستانیوں کی آبادکاری میں فعال رہے۔ 2012 میں ان کا انتقال ہوا۔‘
نذرعباس نے لکھا ہے کہ آج موزمبیق کثیر جماعتی جمہوریت ہے، معیشت بحالی کی جانب گامزن ہے اور ملک میں امن و امان کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے۔ پاکستان نے بھی برسوں موزمبیق کے ساتھ تعاون جاری رکھا ہے، جن میں ماہرینِ حساب و آڈٹ، وظائف اور تربیتی مواقع شامل ہیں۔ تاہم اب ماپوتو میں پاکستان کا مستقل سفارتی مشن موجود نہیں۔
موزمبیق کے سفارتی اور قونصلر امور جنوبی افریقہ میں پاکستانی ہائی کمیشن، پریٹوریا، دیکھتا ہے۔ پاکستان کے ہائی کمشنرموزمبیق میں بھی غیر مقیم سفیر کی حیثیت سے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں۔