امریکا نے دنیا بھر کے مالیاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے پابندیوں کی زد میں موجود بینکوں کے ساتھ کاروباری تعلقات جاری رکھنا ان کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایسے اداروں کے خلاف پیشگی اطلاع دیے بغیر بھی پابندیوں کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ غیرملکی بینک اگر ایرانی مالیاتی اداروں، ان کی بیرون ملک شاخوں یا ذیلی کمپنیوں کو خدمات فراہم کررہے ہیں تو انہیں اپنے معاملات کا فوری جائزہ لینا چاہیے۔ خاص طور پر وہ سرگرمیاں خطرے میں آسکتی ہیں جن کے ذریعے ایران کو عالمی مالیاتی نظام تک رسائی حاصل ہو۔
امریکی حکام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر کسی غیرملکی ادارے کی سرگرمی کے باعث امریکی بینک یا شہری پابندیوں کی خلاف ورزی میں شامل ہوتے ہیں تو معاملہ صرف مالی جرمانے تک محدود نہیں رہ سکتا، بلکہ سول یا فوجداری کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا رہا ہے۔ حالیہ اقدامات میں ایران کے آٹو موبائل، ریلوے، مینوفیکچرنگ اور اسٹیل سے منسلک نیٹ ورکس کو بھی پابندیوں کے دائرے میں لایا گیا ہے، جبکہ مالیاتی اور اسلحہ سازی سے متعلق مختلف نیٹ ورکس پہلے ہی امریکی اقدامات کا سامنا کرچکے ہیں۔
امریکی حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایسے مالی اور تجارتی راستوں کو محدود کرنا ہے جنہیں تہران پابندیوں سے بچنے، آمدنی حاصل کرنے یا رقوم منتقل کرنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ اسی حکمت عملی کے تحت اب غیرملکی بینکوں اور کمپنیوں پر بھی دباؤ بڑھایا جارہا ہے کہ وہ ایرانی مالیاتی اداروں کے ساتھ اپنے کاروباری روابط ختم کریں۔