پوتن کے پسندیدہ تفریحی مقام پر واقع رہائش گاہ کی خفیہ تعمیرِ نو کے بارے میں بی بی سی کو کیسے معلوم ہوا؟

بی بی سی کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بوچاروف روچے کو ترک کرنے کے بجائے ریاست اسے ازسرِ نو تعمیر کر رہی ہے اور وہ بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر اور کہیں زیادہ سخت سکیورٹی انتظامات کے ساتھ۔
Copilot said:A close-up image of Russian President Vladimir Putin's face has been superimposed on a satellite image highlighting the newly constructed presidential residence at Bocharov Ruchey in Sochi.
BBC/Planet.com/Getty

عدالتی مقدمات، سیٹیلائٹ تصاویر اور ایسی آسامیوں کی تشہیر جن میں تعمیرات کا کام کرنے والوں کو سوئمنگ پول کے قریب رہائش، مفت کھانے اور نقد ادائیگی کی پیشکش کی گئی ہے۔

ان سب نے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی بحیرۂ اسود کے کنارے واقع سرکاری رہائش گاہ بوچاروف روچے کی بڑے پیمانے پر توسیع کا پردہ فاش کر دیا ہے۔

سوچی کے علاقے میں واقع تفریح اور سکون کی غرض سے بنائی گئی یہ سرکاری رہائش گاہ ماضی میں نکیتا خروشیف، لیونید بریژنیف اور سوویت یونین کے خاتمے کے بعد بورس یلسن بھی استعمال کرتے رہے تھے۔

پوتن نے پہلی مرتبہ مئی 2000 میں اپنی پہلی حلف برداری سے قبل اس رہائش گاہ میں قیام کیا تھا اور وہ یہاں متعدد بار غیر ملکی رہنماؤں کی میزبانی بھی کر چکے ہیں۔

2008 میں اسے باضابطہ طور پر صدارتی رہائش گاہ قرار دیا گیا۔ روسی فیڈریشن کے صدارتی محکمہ برائے املاک کے سربراہ ولادیمیر کوژن کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر وہاں ’قیام کر سکتے ہیں، کام کر سکتے ہیں، رہ سکتے ہیں اور اپنے تمام فرائض انجام دے سکتے ہیں، جن میں مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔‘

اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق، پوتن نے 2021 میں، یعنی یوکرین پر مکمل پیمانے کی روسی جارحیت سے ایک سال پہلے، سوچی کے 24 دورے کیے تھے۔ لیکن وہ 2024 اور 2025 میں صرف دو بار وہاں گئے۔

بحیرۂ اسود کے ساحلی علاقے کے دوروں میں یہ نمایاں کمی ایسے وقت میں آئی جب یوکرینی ڈرونز تیزی سے اس ساحلی خطے تک پہنچنے لگے تھے۔

تاہم بی بی سی کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بوچاروف روچے کو ترک کرنے کے بجائے ریاست اسے ازسرِ نو تعمیر کر رہی ہے اور وہ بھی پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر اور کہیں زیادہ سخت سکیورٹی انتظامات کے ساتھ۔

2024 میں حکام کی جانب سے کسی پیشگی اعلان کے بغیر عمارتوں کو گرانے کا کام شروع کیا گیا۔ ستمبر 2025 تک اس مقام پر کھدائی کے باعث ایک بڑا گڑھا بن چکا تھا۔

اسی سال روسی ریاستی سکیورٹی ادارے ایف ایس او نے بوچاروف روچے کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا اور رہائش گاہ کے گرد تین مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر مشتمل ایک سکیورٹی زون قائم کر دیا۔

اور 2026 کے موسمِ خزاں تک، بی بی سی روس کی جانب سے تجزیہ کی گئی سیٹیلائٹ تصاویر میں کئی نئی بڑی عمارتوں کی چھتیں نظر آ رہی تھیں، جو سابقہ رہائش گاہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع علاقے پر تعمیر کی جا رہی ہیں۔

تاہم اصل کمپلیکس کے تمام حصے منہدم نہیں کیے گئے۔ 2014 کے سوچی سرمائی اولمپکس کے لیے تعمیر کی گئی عمارت بوچاروف روچے-2 اب بھی موجود ہے۔ پوتن وہاں اب بھی اعلیٰ سطح کے مہمانوں سے ملاقات کرتے ہیں، جن میں 2024 میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی بھی شامل تھے۔

A series of three satellite images of Bocharov Ruchey, the official residence of Russian President Vladimir Putin in Sochi on the Black Sea coast. The images compare the site over time and show buildings being demolished, land being excavated, and new structures under construction as part of a major redevelopment project. Construction equipment, cleared ground and newly built sections are visible within the residential compound
BBC

تاہم حکام نے اب تک اس نئی تعمیر کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا، لیکن بی بی سی کی تحقیق میں دستاویزی شواہد سامنے آئے ہیں۔

ٹھیکیداروں کے درمیان ایک تنازع سے متعلق عدالتی فیصلے میں بی بی سی کو ریاستی دفاعی خریداری کے پروگرام کے ایک معاہدے کا حوالہ ملا، جس کا کوڈ نمبر 2327202903572000000000000 ہے۔

اس نوعیت کے معاہدوں کی معلومات محدود ہوتی ہیں۔ لیکن اس کوڈ نمبر سے کئی اہم تفصیلات سامنے آتی ہیں۔

پہلے چار ہندسے اس سال کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں معاہدے پر دستخط کیے گئے اور جس سال یہ ختم ہو گا، یعنی 2023 اور 2027۔ اس کے بعد آنے والے تین ہندسے، 202، معاہدہ کرنے والے ادارے ایف ایس او کا کوڈ ہے۔

بوچاروف روچے میں کام کرنے والے ذیلی ٹھیکیداروں کے ساتھ تنازعات سے متعلق مزید عدالتی فیصلوں تک رسائی حاصل کر کے بی بی سی نے یہ معلوم کیا ہے کہ اس تعمیراتی منصوبے کا مرکزی ٹھیکیدار ٹی ایس آئی گروپ ہے، جو روس کے زیرِ قبضہ کریمیا میں رجسٹرڈ ہے۔

ان تنازعات میں سے ایک سیواستوپول کے ڈیزائن ادارے ووین مور پرویکٹ-30 کے ساتھ تھا، جو 2025 کے اوائل میں تعمیراتی کام شروع ہونے کے چند ماہ کے اندر ہی مقررہ شیڈول سے پیچھے رہ گیا تھا۔

بی بی سی کے ایک نقشے میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کی بحیرہ اسود کی سرکاری رہائش گاہ بوچاروف روچے، سوچی، کراسنودار کرائی میں دکھائی گئی ہے۔ اوپر بی بی سی لوکیٹر کا نقشہ دنیا کے خطے کو نمایاں کرتا ہے۔ براہِ کرم اپنے تمام الفاظ کا ترجمہ ان لوگوں کے لیے درج کریں جو بینائی سے محروم ہیں۔
BBC

بی بی سی کو سوشل میڈیا اور ملازمتوں کی ویب سائٹس پر تعمیرات کے کام سے منسلک کارکنوں کے لیے دیے گئے اشتہارات تک رسائی بھی ملی جن میں مستریوں، آہنی ڈھانچے کے ماہرین اور کنکریٹ کا کام کرنے والے کارکنوں کی ضرورت کو ظاہر کیا گیا تھا۔

ان میں سے بعض اشتہارات میں بوچاروف روچے کا نام بھی درج تھا۔

ایک اشتہار میں لکھا تھا کہ ’ایک رہائش گاہ تعمیر کی جا رہی ہے۔ داخلے کے لیے خصوصی اجازت نامہ درکار ہے، مقام: بوچاروف روچے۔‘

ایک اور اشتہار میں خبردار کیا گیا تھا کہ ’یہ ایک حساس تنصیب ہے۔‘

جنوری 2025 میں شائع ہونے والے ایک اشتہار میں کہا گیا تھا کہ سوچی میں ’محدود رسائی والے مقام، جہاں داخلے کے لیے اجازت نامہ درکار ہے‘ پر ایک دو منزلہ عمارت کی تعمیر کے لیے فوری طور پر مزدوروں کی ضرورت ہے، اور اجرت نقد ادا کی جائے گی۔

اسی سال کے آخر میں شائع ہونے والے ایک اور اشتہار میں چار منزلہ عمارت کا ذکر تھا، جو ایسے مقام پر تعمیر کی جا رہی تھی جہاں داخلے کے لیے پاس اور پاسپورٹ کی جانچ ضروری تھی۔

Russian President Vladimir Putin stands leaning on a weight machine in his private gym at his official Black Sea residence, in Bocharov Ruchey, Sochi, in 2015, watching his then Prime Minister, Dmitry Medvedev working out, seated on another machine. Both men wear grey tracksuit bottoms, white training shoes and T-shirts - Putin's white, Medvedev's black. Putin wears grey, black and yellow weight-lifting gloves. Behind them, a glass wall reveals a sunny glade.
Kremlin
2015 میں بوچاروف روچے میں واقع اپنی نجی جم میں ورزش کرتے ہوئے پوتن (دائیں) اپنے اُس وقت کے وزیرِ اعظم دمتری مدویدیف کے ساتھ۔

انھیں فلیٹس میں رہائش، روزانہ تین وقت کا کھانا، مفت اوزار اور کام کے کپڑے فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی۔

ترجیح ایسی ٹیموں کو دی جاتی تھی جو ’اپنے انجینیئر اور فورمین‘ کے ساتھ کام کر سکیں، تاہم فری لانس بنیادوں پر کام کرنے والے مزدوروں کو بھی رکھا جاتا تھا۔

ایک اشتہار میں کہا گیا تھا کہ ’تکنیکی نگرانی زیادہ سخت نہیں ہے۔ روسی سکیورٹی ادارے مالی لین دین پر نظر رکھتے ہیں، اس لیے ہر چیز صاف اور شفاف ہے۔‘

2026 تک اس مقام پر ایسے تعمیراتی کاموں کے لیے بھی مزدوروں کو ڈھونڈا گیا جو لائٹس، پلمبنگ اور دروازوں کی تنصیب کا کام کر سکیں۔

ایک بھرتی کرنے والے نے لکھا کہ ’کام بہت زیادہ ہے، اس لیے ہمیں بڑی تعداد میں لوگوں کی ضرورت ہے، لیکن وہ ماہر کاریگر ہونے چاہییں۔‘

انھوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ یہ ایک محدود رسائی والی جگہ ہے اور تمام ملازمین کی سکیورٹی جانچ کی جائے گی۔

ابتدا میں مجرمانہ ریکارڈ کے بغیر صرف روسی شہری ہی درخواست دے سکتے تھے۔ ایک اشتہار میں لکھا تھا کہ ’پس منظر کی جانچ کی جائے گی۔‘

لیکن بعد میں تقاضے کم سخت ہو گئے۔ بیلاروسی، قازق اور کرغیز شہریوں کو بھی درخواستیں دینے کا کہا گیا۔ انھیں رہائش کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔

onstruction Minister Irek Faizullin, in glasses, dark suit, white shirt and blue tie, and TSI Group property developer Alexei Fomenko, in a cream-coloured jumper and trousers, sit, in matching cream-coloured chairs, across a desk of documents, in a panelled office with the Russian coat of arms and a portrait of President Vladimir Putin, in a dark brown suit, white shirt and matching tie, in front of the flag, on the wall. A matching but larger desk, with flags, and chair sits behind them.
Minstroy RF
وزیرِ تعمیرات ایرک فائزولین (بائیں) اور ٹی ایس آئی کے الیکسی فومینکو آرتیک بچوں کے بین الاقوامی مرکز کی تعمیرِ نو کے منصوبے پر بات کرتے ہوئے

ٹی ایس آئی اور اس سے وابستہ کمپنی ٹرانس سٹروئی اِنویسٹ اس سے پہلے بھی حکومت اور سکیورٹی اداروں کے تعمیراتی منصوبوں پر کام کر چکی ہیں۔

بوچاروف روچے کے منصوبے سے پہلے ٹرانس سٹروئی اِنویسٹ پوتن کے لیے ایک اور رہائش گاہ بھی تعمیر کر چکی تھی۔

2019 میں روسی تحقیقاتی ادارے پراجیکٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ کمپنی روس کے زیرِ قبضہ کریمیا کے جنوبی ساحل پر واقع اولیوا نامی علاقے میں ایک سرکاری رہائش گاہ کی تعمیر میں شامل تھی۔

یہ منصوبہ ان سرکاری تفریحی رہائش گاہوں کی جگہ بنایا گیا تھا جو پہلے سوویت دور کی قیادت اور بعد میں یوکرین کے اعلیٰ حکام استعمال کرتے تھے۔

اب بی بی سی کو ایسے عدالتی فیصلے ملے ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ عدالتی دستاویزات میں اس مقام کو ’صدارتی رہائش گاہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

ٹرانس سٹروئی اِنویسٹ اب بھی روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقوں میں کام کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر، کمپنی ماریوپول کے قدیم ترین سینیما ’پوبیدا‘ کی بحالی کے منصوبے میں شامل ہے، جس پر روس نے 2022 میں قبضہ کر لیا تھا۔

سرکاری معاہدوں کے ریکارڈ کے مطابق، 2022 سے 2025 کے درمیان ٹی ایس آئی کو روس کے زیرِ قبضہ کریمیا میں واقع آرتیک انٹرنیشنل چلڈرن سینٹر کی تعمیرِ نو کے 54 معاہدے ملے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 33 کروڑ ڈالر تھی۔

بی بی سی نے بوچاروف روچے کی تعمیر سے متعلق سوالات ٹرانس سٹروئی اِنویسٹ کے نمائندوں کو بھیجے، جن میں 47 سالہ کاروباری شخصیت الیکسی فومینکو بھی شامل تھے، جنھیں ٹی ایس آئی کا اصل مالک تصور کیا جاتا ہے۔

یہ سوالات پوتن کے قریبی ساتھی آرکادی روٹنبرگ اور کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کو بھی بھیجے گئے، لیکن کسی کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US