برطانیہ میں تین افغان شہریوں کو ایک نوعمر لڑکی کا ریپ کرنے کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔یہ افراد بعد میں ایک لاری کے پچھلے حصے میں چھپ کر برطانیہ سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران فرانسیسی پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔
عوض احمدزئی، سلمان حبیب خیل اور محراب صافی نے 17 سالہ لڑکی کے خلاف متعدد جنسی جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد برطانیہ سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔انتباہ: اس خبر میں بعض پریشان کن تفصیلات شامل ہیں۔
برطانیہ میں تین افغان شہریوں کو ایک نوعمر لڑکی کا ریپ کرنے کے جرم میں قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
یہ افراد بعد میں ایک لاری کے پچھلے حصے میں چھپ کر برطانیہ سے فرار ہونے کی کوشش کے دوران فرانسیسی پولیس کے ہاتھوں پکڑے گئے تھے۔
26 جون کو 21 سالہ محراب صافی، 19 سالہ عوض احمدزئی اور 19 سالہ سلمان حبیب خیل کو گذشتہ برس برسٹل کے علاقے سینٹ وربرگز میں ایک گھر میں ایک لڑکی کے خلاف متعدد جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔
صافی کی ملاقات 17 سالہ لڑکی سے، جس کی قانونی وجوہات کی بنا پر شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی، کرسمس کی خریداری کے دوران ہوئی تھی۔ اس کے بعد اس نے سنیپ چیٹ پر اس کا اعتماد حاصل کیا اور ٹیکسی کا کرایہ ادا کر کے اسے برسٹل بلوایا۔
منگل کے روز برسٹل کراؤن کورٹ میں صافی کو 15 سال قید کی سزا سنائی گئی جبکہ حبیب خیل اور احمدزئی کو نو، نو سال کے لیے نوجوانوں کے حراستی مرکز بھیج دیا گیا۔
تینوں افراد کو سزا سناتے ہوئے جج مائیکل کلم نے کہا کہ ان افراد کے ہاتھوں سمگل کیے جانے اور ریپ کا نشانہ بننے سے لڑکی کو ’ناقابلِ تصور‘ ذہنی صدمہ پہنچا ہو گا۔
ایک 17 سالہ لڑکا، جو افغان شہری ہے لیکن قانونی وجوہات کی بنا پر اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی، ریپ کے جرم میں قصوروار قرار پایا تھا تاہم اس نے برطانیہ سے فرار ہونے کی کوشش نہیں کی تھی۔
اسے نوجوانوں کے حراستی مرکز میں دو سال اور سات ماہ کی سزا سنائی گئی۔
عدالت میں پڑھے گئے متاثرہ لڑکی کے بیان میں اس نے کہا کہ اس حملے نے اسے ’ذہنی طور پر شدید صدمے سے دوچار‘ کر دیا ہے اور وہ گھر سے نکلنے سے ڈرتی ہے۔
صافی نے لڑکی کو سمرسٹ سے ٹیکسی کے ذریعے برسٹل کے ایک گھر منتقل کیا جہاں ان افراد اور ایک لڑکے نے اس کا ریپ کیا۔اس نے مزید کہا کہ وہ اب ویسی نہیں رہی جیسی ایک سال پہلے تھی اور اب ایک مختلف شخصیت ہے۔
’میرے بہت زیادہ دوست تھے، میں زیادہ باہر جاتی تھی، زیادہ خوش رہتی تھی۔ اب میں باہر جانا چھوڑ چکی ہوں، عام طور پر گھر سے بھی نہیں نکلتی۔‘
’اگر کبھی گھر سے باہر نکلتی ہوں تو صرف اپنی بہترین دوست یا اپنی والدہ کے ساتھ۔۔ میں اکیلے باہر نہیں جا سکتی، اس کا خیال ہی بھی مجھے گھبراہٹ میں مبتلا کر دیتا ہے۔‘
’بیشتر وقت میرا دماغ میرے ساتھ پیش آنے والے صدمے کو جھٹلاتا رہتا ہے، لیکن جب میں جذباتی طور پر کمزور محسوس کرتی ہوں تو سب کچھ دوبارہ یاد آ جاتا ہے اور میری حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔‘
’کبھی کبھی میں اس واقعے کے بارے میں خواب بھی دیکھتی ہوں، جس کی مجھے توقع نہیں تھی، اور مجھے وہ خواب بالکل پسند نہیں ہیں۔‘
ڈیٹیکٹو سارجنٹ جو بیبیج نے کہا کہ لڑکی ان حملوں سے ’شدید ذہنی صدمے‘ میں مبتلا ہوئی ہے لیکن پوری تفتیش کے دوران اس نے ’بہت بہادری‘ کا مظاہرہ کیا۔ایون اینڈ سمرسٹ پولیس کے مطابق سمرسٹ سے تعلق رکھنے والی متاثرہ لڑکی کو صافی کے گھر پہنچنے پر شراب پلائی گئی۔
اس کے بعد گذشتہ سال نومبر میں کئی گھنٹوں تک تینوں افراد اور نوعمر لڑکے نے اس کا ریپ کیا۔
لڑکی کی والدہ کی جانب سے گمشدگی کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور لڑکی کو وہاں سے برآمد کیا۔
سارجنٹ جو بیبیج نے بتایا کہ حملوں سے پانچ روز قبل متاثرہ لڑکی نے صافی کے ساتھ ’موبائل فون، خصوصاً سنیپ چیٹ کے ذریعے‘ رابطہ شروع کیا تھا۔
انھوں نے کہا: ’واضح ہے کہ اعتماد حاصل کرنے اور رابطے کا عمل وہیں سے شروع ہوا جس کے نتیجے میں اسے ٹیکسی کے ذریعے برسٹل لایا گیا، جس کا انتظام صافی نے کیا تھا۔‘
بیبیج نے کہا کہ لڑکی ان حملوں سے ’شدید ذہنی صدمے‘ میں مبتلا ہوئی ہے لیکن پوری تفتیش کے دوران اس نے ’بہت بہادری‘ کا مظاہرہ کیا۔
متاثرہ لڑکی کی ملاقات ان افراد میں سے ایک سے برسٹل کے کیبوٹ سرکس شاپنگ سینٹر میں کرسمس کی خریداری کے دوران ہوئی تھی۔کرسمس شاپنگ کے دوران ملاقات
متاثرہ لڑکی 25 نومبر 2025 کو پہلی بار ایک دوست کے ساتھ کرسمس کی خریداری کی غرض سے برسٹل آئی تھی۔
اسی دوران اس کی ملاقات صافی سے ہوئی اور دونوں نے فون نمبرز اور سنیپ چیٹ رابطے کا تبادلہ کیا۔
بعد ازاں صافی نے اسی پلیٹ فارم کے ذریعے اسے برہنہ تصاویر بھیجنے پر آمادہ کیا۔
اس کے بعد اس نے 30 نومبر کی علی الصبح ایک ٹیکسی کا انتظام کیا جس نے لڑکی کو اس کے گھر سے سینٹ وربرگز میں واقع اس کے گھر پہنچایا، جہاں صافی اور دیگر تین افراد نے اس کا ریپ کیا۔
بیبیج نے کہا: ’صرف یہ سن کر اور پڑھ کر ہی کہ کرسمس کی خریداری کا یہ سفر اس انجام تک پہنچا۔۔۔ والدین کے طور پر آپ اپنے بچوں کے باہر جانے سے خوف محسوس کرتے ہیں۔‘
عدالت کو بتایا گیا کہ گھر پہنچنے پر متاثرہ لڑکی کو شراب پلائی گئی تھی۔فرار کی کوشش
17 سالہ لڑکے کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا تھا، لیکن تینوں افراد پولیس سے بچ نکلے اور برمنگھم اور لندن جانے کے بعد ایک لاری میں سوار ہو کر ملک چھوڑ گئے۔
فرانس کے شہر کیلے میں وہ فرانسیسی پولیس کے ہاتھ لگے اور انھیں برطانیہ واپس بھیج دیا گیا، جہاں انھیں فوری طور پر ریپ کے شبہے میں گرفتار کر لیا گیا۔
بیبیج نے کہا: ’وہ لاری کے پچھلے حصے میں سوار ہو گئے تھے۔۔۔ اور بغیر دستاویزات کے ملک چھوڑنے میں کامیاب ہو گئے تھے، لیکن خوش قسمتی سے فرانس میں ہمارے ساتھیوں نے انھیں ڈھونڈ لیا اور فوراً واپس بھجوا دیا۔‘
صافی کے موبائل فون سے ملنے والی ویڈیوز میں یہ افراد لاری کے اندر ہنستے اور اشاروں سے بات کرتے دکھائی دیے۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سمجھ رہے تھے کہ وہ ’بچ نکلے ہیں‘۔
’ناقابلِ تصور‘ صدمہ
ان تینوں افراد اور نوعمر لڑکے کو سزا سناتے ہوئے جج کلم نے کہا کہ متاثرہ لڑکی ابتدا ہی سے ’کمزور اور غیر محفوظ‘ دکھائی دیتی تھی۔
’مجھے کوئی شک نہیں کہ صافی، یہی بات تمھاری توجہ کا سبب بنی۔ پیغامات کے تیز تبادلے کے بعد تم نے اس کی برہنہ تصاویر حاصل کر لیں۔ ان پیغامات کو پڑھ کر بے چینی محسوس ہوتی ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ تم [صافی] اور متاثرہ لڑکی کے درمیان طاقت کا غیر متوازن تعلق موجود تھا۔‘
’سمگل کیے جانے کے بعد اس کا پانچ مرتبہ ریپ کیا گیا، اور اس مجموعی صدمے کے اثرات بلاشبہ ساری زندگی اس کے ساتھ رہیں گے، اور وہ ناقابلِ تصور ہیں۔‘
سزا سنانے کے دوران جج نے یہ بھی تسلیم کیا کہ چاروں افراد افغانستان میں تکلیف دہ حالات سے گزرے تھے۔
جج نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ان میں سے ایک نے طالبان کے ہاتھوں اپنے والدین میں سے ایک کو کھو دیا تھا۔
تاہم انھوں نے کہا کہ یہ کسی صورت عذر نہیں بن سکتا۔
چاروں کو غیر معینہ مدت کے لیے جنسی مجرموں کے رجسٹر میں شامل کرنے کا حکم بھی دیا گیا اور ان پر سیکسوئل ہارم پریوینشن آرڈر نافذ کیا گیا، جس کے تحت وہ بچوں سے رابطہ نہیں کر سکیں گے۔