راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد سری لنکا کو چار وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔
معاذ صداقت نے 29 گیندوں پر 50 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیاراولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان نے سری لنکا کو چار وکٹوں سے شکست دے کر تین میچوں کی سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل کر لی ہے۔
پاکستان کی اس کامیابی کے بعد سوشل میڈیا پر کپتان صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت کی بیٹنگ زیرِ بحث رہی، جبکہ بعض صارفین نے اسے پاکستان کی نئی ٹی ٹوئنٹی حکمتِ عملی کی جھلک قرار دیا۔
183 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 18ویں اوور کی پانچویں گیند پر چھ وکٹوں کے نقصان پر مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔
پاکستان کو فخر زمان اور کپتان صاحبزادہ فرحان نے شاندار آغاز فراہم کیا اور دونوں نے 50 رنز کی شراکت قائم کی۔
فخر زمان 13 گیندوں پر 21 رنز بنا کر ایشان ملنگا کا شکار بنے، تاہم اس کے بعد صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت نے سری لنکن بولرز پر دباؤ برقرار رکھا۔
دونوں بلے بازوں نے دوسری وکٹ کے لیے 92 رنز کی شاندار شراکت قائم کی جس نے میچ کا رخ پاکستان کے حق میں موڑ دیا۔
معاذ صداقت نے صرف 29 گیندوں پر 50 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں چار چوکے اور تین چھکے شامل تھے، تاہم وہ مہیش تھیکشنا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے۔
کپتان صاحبزادہ فرحان نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 53 گیندوں پر 89 رنز بنائے۔ ان کی اننگز میں 10 چوکے اور چار چھکے شامل تھے۔ جب وہ آؤٹ ہوئے تو پاکستان کو جیت کے لیے محض چند رنز درکار تھے۔
اختتامی لمحات میں سری لنکا نے چند وکٹیں حاصل کر کے مقابلے میں واپسی کی کوشش کی، تاہم خواجہ نافع نے 18ویں اوور کی پانچویں گیند پر ایشان ملنگا کو چھکا لگا کر پاکستان کی جیت یقینی بنا دی۔ یوں پاکستان نے چار وکٹوں سے کامیابی حاصل کر لی۔
سری لنکا کی جانب سے مہیش تھیکشنا سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے اپنے چار اوورز میں 36 رنز دے کر دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ایشان ملنگا نے بھی دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
لاہیرو اُدارا نے 55 گیندوں پر 91 رنز کی شاندار اننگز کھیلیاس سے قبل راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، تاہم پاکستانی فاسٹ بولرز نے ابتدا میں مہمان ٹیم پر دباؤ برقرار رکھا۔
کوشل مینڈس پہلے ہی اوور میں صرف ایک رن بنا کر نسیم شاہ کا شکار بنے جبکہ کامل مشارا بھی 13 گیندوں پر چھ رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
ابتدائی دو وکٹیں جلد گرنے کے بعد لاہیرو اُدارا نے اننگز کو سنبھالا اور پہلے کامندو مینڈس کے ساتھ اہم شراکت قائم کی۔ کامندو مینڈس نے 18 گیندوں پر 23 رنز بنائے تاہم وہ صائم ایوب کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
اس کے بعد سہان آراچچیگے صرف ایک رن بنا سکے اور محمد عمران نے انھیں آؤٹ کر کے پاکستان کو ایک اور کامیابی دلائی۔
سری لنکا ایک مرحلے پر چار وکٹوں کے نقصان پر 87 رنز بنا چکا تھا تاہم لاہیرو اُدارا نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ انھوں نے اپنی ٹی20 انٹرنیشنل کریئر کی پہلی نصف سنچری مکمل کی اور بعد ازاں داسن شاناکا کے ساتھ بھی مفید شراکت قائم کی۔ شاناکا نے 15 گیندوں پر 18 رنز بنائے جن میں دو چھکے شامل تھے، تاہم وہ شاداب خان کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔
اننگز کے آخری اوورز میں اُدارا نے پاکستانی باؤلرز پر دباؤ بڑھایا اور 55 گیندوں پر 91 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ ان کی اننگز میں 11 چوکے اور ایک چھکا شامل تھا۔ وہ آخری دو اوورز میں نسیم شاہ کی گیند پر آؤٹ ہوئے اور سنچری مکمل کرنے سے محروم رہ گئے۔
فخر زمان نے سری لنکا کے بلے باز کمندو مینڈس کا کیچ تھام کر انھیں پویلین کی راہ دکھائیپاکستان کی جانب سے نسیم شاہ سب سے کامیاب باؤلر رہے جنھوں نے چار اوورز میں 36 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔
ڈیبیو کرنے والے محمد عمران نے بھی متاثر کن بولنگ کرتے ہوئے چار اوورز میں 21 رنز کے عوض دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔
نسیم شاہ نے چار اوورز میں 36 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیںصائم ایوب، شاداب خان اور ایک اور ڈیبیو کرنے والے رضا اللہ نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ رضا اللہ نے اپنی ٹی20 انٹرنیشنل کریئر کی پہلی وکٹ حاصل کرتے ہوئے مہیش تھیکشانا کو آؤٹ کیا۔
اگرچہ پاکستان نے ابتدائی اوورز میں میچ پر اپنی گرفت مضبوط کیے رکھی، تاہم لاہیرو اُدارا کی بیٹنگ نے سری لنکا کو ایک ایسے مجموعے تک پہنچا دیا جو راولپنڈی کی بیٹنگ کے لیے سازگار تصور کی جانے والی وکٹ پر مقابلہ کرنے کے لیے کافی سمجھا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر صاحبزادہ فرحان اور معاذ صداقت کی تعریفیں
معاذ صداقت اور صاحبزادہ فرحان راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کے دوران اپنے بلے آپس میں ٹکرا رہے ہیںپاکستان کی جیت کے بعد سوشل میڈیا پر زیادہ تر صارفین نے قومی ٹیم کی جارحانہ بیٹنگ، کپتان صاحبزادہ فرحان کی اننگز اور معاذ صداقت کی بیٹنگ کو سراہا۔
کئی صارفین کا کہنا تھا کہ ایک عرصے بعد پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے تقاضوں کے مطابق جارحانہ انداز اپنایا، تاہم ایسے صارف بھی تھے جنھوں نے نسبتاً کمزور حریف کے خلاف کامیابی پر خوشی منانے پر تنقید کی۔
کرکٹ مبصر عاطف نواز نے لکھا کہ پاکستان کی کارکردگی ’مثالی تو نہیں، لیکن اچھی تھی۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انھوں نے لکھا کہ پاکستان کی ابتدائی جارحانہ بیٹنگ نے میزبان ٹیم کو میچ پر مضبوط گرفت دلائی اور یہ ہوم سیزن کا ایک اچھا آغاز تھا۔
صارف عاطف میمن کا کہنا تھا کہ کافی عرصے بعد ایسا محسوس ہوا کہ پاکستان کے پاس ایک ایسی ٹی ٹوئنٹی ٹیم موجود ہے جو اس فارمیٹ کے تقاضوں کے مطابق فطری انداز میں کھیل رہی ہے۔
کئی صارفین نے معاذ صداقت کی بیٹنگ کو بھی خصوصی طور پر سراہا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عدیل نواز نے لکھا کہ اگرچہ صاحبزادہ فرحان نے نمایاں کردار ادا کیا، تاہم ان کے خیال میں ’معاذ صداقت کا لیول ہی الگ تھا۔‘
اسی طرح احمد ٹیپو نے معاذ صداقت کو پاکستان کے اُن کھلاڑیوں میں قرار دیا جنھیں دیکھنے کے لیے وہ سب سے زیادہ پُر جوش ہیں۔ ان کے مطابق وہ آئندہ میچ خاص طور پر معاذ صداقت کی بیٹنگ دیکھنے کے لیے ہی دیکھیں گے۔
کلچ سپورٹس نامی ایکس اکاؤنٹ نے صاحبزادہ فرحان کے لیے اس دن کو یادگار قرار دیتے ہوئے نشان دہی کی کہ انھوں نے بطور کپتان اپنے پہلے ہوم میچ میں ٹیم کو فتح دلائی، 53 گیندوں پر 89 رنز کی اننگز کھیلی اور میچ کے بہترین کھلاڑی بھی قرار پائے۔
تاہم تمام ردعمل مثبت نہیں تھا۔ عمر ریاض فین پیج کے نام سے ایکس پر موجود ایک صارف نے اس کامیابی کو ضرورت سے زیادہ سراہنے پر تنقید بھی کی۔
اپنی پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں نویں نمبر پر موجود ٹیم کے خلاف کامیابی کو غیر معمولی انداز میں پیش کرنا پاکستان کرکٹ کے مسائل کی ایک وجہ ہے۔
تین میچوں کی اس سیریز کے باقی دو مقابلے 11 اور 13 اکتوبر کو راولپنڈی میں ہی کھیلے جائیں گے۔ اس کے بعد پاکستان، سری لنکا اور انگلینڈ کے درمیان ون ڈے سہ فریقی سیریز کا آغاز ہو گا۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے مطابق پاکستان، سری لنکا ٹی ٹوئنٹی اور سہ ملکی کرکٹ سیریز کے لیے راولپنڈی میں تقریباً چھ ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ شائقین کے لیے تین پارکنگ مقامات اور متبادل راستے مختص کیے گئے ہیں۔