’درِ نجات‘ کی خوش بخت: ’ہماری خواتین کو ایسے ہی بیٹے چاہییں، جو سوال نہ کریں‘

’درِ نجات‘ اور ’آپ کی عزت‘ دونوں ڈرامے ہی عمیرہ احمد نے لکھے ہیں اور دونوں پر کافی تبصرے ہو رہے ہیں، نہ صرف سوشل میڈیا پر بلکہ انڈسٹری کے مختلف حلقوں میں بھی۔

ڈرامہ سیریل ’درِ نجات‘ میں اہم کردار نبھانے والی پاکستانی اداکارہ ثانیہ سعید کا کہنا ہے کہ آج کے دور میں بھی ٹی وی پر ایک بااختیار عورت دکھانے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کیونکہ چینلز، رائٹرز اور عوام خواتین کو صرف اخلاقیات کے دائرے میں ہی جج کرنا چاہتے ہیں۔

ثانیہ سعید کا شمار ان اداکاراؤں میں ہوتا ہے جو ہر کردار میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چاہے وہ ’آپ کی عزت‘ میں تابش کی ماں نفیسہ کا کردار ہو یا ’درِ نجات‘ میں ابو بکر کی ماں خوش بخت کا۔

در نجات میں ابوبکر کا کردار اداکار شہریار منور جبکہ زریاب کا کردار درفشاں ادا کر رہی ہیں۔

ثانیہ سعید اس ڈرامے میں ابوبکر کی والدہ خوشبخت کا کردار نبھا رہی ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ڈرامے کا کام ہی یہی ہے کہ وہ دیکھنے والوں میں موضوعِ گفتگو بنے۔

بقول اُن کے در نجات پر اتنی بات اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ پاکستانی ابھی بھی گھریلو معاملات اور رشتوں پر بات کرنا یا اس پر بات ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

بی بی سی اُردو سے خصوصی گفتگو میں ثانیہ سعید نے بتایا کہ ’درِ نجات‘ میں بھی یہی پہلو اُجاگر کیا گیا ہے کہ کس طرح اخلاقیات کا سارا بوجھ لڑکی پر ڈالا جاتا ہے۔

در نجات کا یہی موضوع گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث رہا ہے۔

ڈرامے کی گذشتہ چند اقساط نشر ہونے کے بعد ناظرین کا کہنا تھا کہ دل ٹوٹںے اور دھوکہ کھانے کے بعد زریاب کو اپنی پڑھائی مکمل کرنی چاہیے تھی اور اپنے آپ کو خود سنبھالنا چاہیے تھا، نہ کہ ابوبکر سے شادی۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی اس گفتگو کے بعد اداکارہ درفشاں نے اپنے کردار زریاب کے حوالے سے انسٹاگرام پر بتایا کہ ڈرامے کا مقصد یہی بتانا ہے کہ کس طرح اخلاقیات کے معنی مرد اور عورت کے لیے الگ الگ ہیں۔

ثانیہ سعید نے بتایا کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ زریاب کو اُس وقت شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ’نفسیاتی طور پر بھی دیکھا جائے تو انسان کو ایک صدمے سے نکل کر دوسرے میں نہیں جانا چاہیے۔ زریاب نے جو کیا وہ ضد میں کیا۔ مجھے اصل شکایت تو اس کے بڑوں سے ہے، جنھوں نے سوچے سمجھے بغیر اسے ایک اجنبی ماحول میں بھیج دیا۔‘

ثانیہ سعید نے یہ بھی کہا کہ ’ہمارا معاشرہ یہ سمجھتا ہے کہ نوجوانوں کی زندگیوں کے ہر مسئلے کا حل شادی ہے۔ یہی بات بچیاں بھی سیکھ لیتی ہیں۔‘

’مجھے ابوبکر اور خوشبخت کے رشتے سے کافی اعتراضات ہیں‘

ڈرامے کے آغاز سے ہی ابوبکر اور اس کی والدہ خوشبخت کے تعلق کو عوام نے بہت پسند کیا ہے۔ ڈرامے میں ابوبکر کو ایک ایسا بیٹا دکھایا ہے جو اپنی ماں کا ہر حکم بغیر کسی سوال کے مان لیتا ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے کافی تبصرے دیکھے گئے کہ ’بیٹا ہو تو ابوبکر جیسا‘۔ سوشل میڈیا پر کچھ لڑکوں کی ماؤں نے تو ابوبکر سے اپنے بیٹوں کا موازنہ بھی کیا۔

ثانیہ سعید کا کہنا ہے کہ اگرچہ انھیں شہریار منور کے ساتھ شوٹ کرنا اور اس کردار کو نبھانا بہت اچھا لگا، مگر انھیں ماں بیٹے کے اس تعلق سے کافی اعتراضات ہیں۔

’بہت سارے لوگوں نے کہا کہ کتنے اچھے ماں بیٹے ہیں۔ مجھے اس بات سے اختلاف ہے کہ ہماری خواتین کو ایسے بیٹے چاہییں جو سوال نہ کریں۔ والدین کو ایسے بچے چاہییں جو اُن کی ہر بات آنکھ بند کر کے تسلیم کریں۔‘

ثانیہ سعید کہتی ہیں کہ ’میں اسے ٹاکسک پیرینٹنگ سمجھتی ہوں۔‘

ڈرامے میں کئی دفعہ خوشبخت کے تلخ ماضی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ البتہ مکمل طور پر اُن کی کہانی اب تک سامنے نہیں آئی ہے۔

ثانیہ سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ ابوبکر کو اس کی والدہ نے کافی مختلف انداز سے پالا ہے۔ ’شاید ابھی دیکھنے والوں کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ وہ (ابوبکر) ایسا کیوں ہے۔‘

چند اقساط قبل جب ابوبکر نے اپنی والدہ کے کہنے پر زریاب سے شادی کی حامی بھری تھی تو کافی لوگوں ںے خوشبخت پر سوال اٹھایا کہ انھوں نے ایسا کیوں کیا۔

ثانیہ سعید
BBC
ثانیہ سعید کا شمار ان اداکاراؤں میں ہوتا ہے جو ہر کردار میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

’ہمارے ڈراموں میں عورتوں کے ہاتھ میں کوئی طاقت نہیں ہوتی‘

’درِ نجات‘ کے ساتھ ساتھ ثانیہ سعید نے ڈرامہ سیریل ’آپ کی عزت‘ بھی شوٹ کیا ہے۔ دونوں ڈرامے بیک وقت نشر بھی ہوئے۔

’درِ نجات‘ اور ’آپ کی عزت‘ دونوں ڈرامے ہی عمیرہ احمد نے لکھے ہیں اور دونوں پر کافی تبصرے ہو رہے ہیں، نہ صرف سوشل میڈیا پر بلکہ انڈسٹری کے مختلف حلقوں میں بھی۔

’آپ کی عزت‘ چند دن پہلے ہی اختتام پذیر ہوا ہے۔ اداکارہ عروہ حسین نے اس ڈرامے کا مرکزی کردار بینا نبھایا، جسے کافی سراہا گیا۔ اپنے شوہر تابش کے بُرے رویے اور بے وفائی پر وہ ایک سبزی والے کے ساتھ گھر سے بھاگ جاتی ہیں۔

ثانیہ سعید کا کہنا ہے کہ بینا کے کردار کو اس لیے اتنا پسند کیا گیا کیوںکہ اُس نے وہ کر لیا جو بہت ساری خواتین کرنا چاہتی ہیں۔ بقول اُن کے بینا کے پاس اتنی ہی سمجھ اور طاقت تھی۔

’اُس کے پاس اپنے شوہر کی بنیاد ہلانے کا یہی طریقہ تھا۔ اگر وہ ڈاکٹر ہوتی تو کہیں جا کر اپنا کلینک چلاتی، ٹیچر ہوتی تو پڑھانے لگ جاتی یا اگر آرکیٹیکٹ ہوتی تو اپنا کاروبار چلانے لگ جاتی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھیں ڈراموں میں خواتین کے مرکزی کرداروں پر کافی اعتراض ہے۔

’یہ ڈرامے کافی پڑھی لکھی، سمجھدار اور خود مختار عورتیں لکھتی ہیں، لیکن اُن کی لکھی ہوئی خواتین کبھی خودمختار نہیں ہوتیں۔ ان کے ہاتھوں میں کبھی کوئی صلاحیت، کوئی ڈگری نہیں ہوتی۔ اُن کے پاس کسی قسم کی طاقت نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ یہ بونگی مارتی ہیں کہ سبزی والے کے ساتھ بھاگ جائیں۔‘

ان دو ڈراموں کے علاوہ ثانیہ سعید اس وقت ڈرامہ سیریل ’بومبے ٹیلرز‘ میں بھی دیکھی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا کہ انھیں افسوس ہے کہ اس ڈرامے پر اتنی بات نہیں ہو رہی اور ان کے مطابق اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ ڈرامہ صرف گھریلو معاملات اور رشتوں کے گرد نہیں گھومتا بلکہ ایک مختلف طرز کی کہانی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US