’بلوٹوتھ‘: ایک ہزار سال پرانے وائکنگ بادشاہ جن کے نام پر دورِ جدید کی ٹیکنالوجی کا نام رکھا گیا

اس بادشاہ کی یادگاریں آج بھی ڈنمارک کے قصبے جیلنگ میں موجود ہیں، جو کوپن ہیگن سے تقریباً 250 کلومیٹر (155 میل) مغرب میں واقع ہے۔
Viking king
Getty Images
ڈنمارک کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے وائیکنگ بادشاہ کی کہانی بلوٹوتھ نام کے لیے تحریک کا ذریعہ بنی

اگر آپ نے کبھی اپنے فون کو ہیڈ فونز یا لیپ ٹاپ سے بغیر تار کے کنیکٹ کیا ہے تو آپ بلوٹوتھ کے نام سے ضرور واقف ہوں گے۔

تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا نام ایک ایسے وائیکنگ بادشاہ سے لیا گیا ہے جو ایک ہزار سال سے بھی زیادہ پہلے دنیا سے گزر چکے تھے۔

اس بادشاہ کی یادگاریں آج بھی ڈنمارک کے قصبے جیلنگ میں موجود ہیں، جو کوپن ہیگن سے تقریباً 250 کلومیٹر (155 میل) مغرب میں واقع ہے۔

جیلنگ میں موجود دو اونچے قدیم پتھر اس بادشاہ کے دورِ حکومت کی کہانی سناتے ہیں۔ یہی پتھر اس راز کا پہلا سراغ بھی دیتے ہیں کہ اس کا منفرد لقب دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز میں سے ایک یعنی بلوٹوتھ کے نام سے کیسے جڑ گیا۔

بلوٹوتھ کہلانے والا وائیکنگ بادشاہ

دسویں صدی میں ڈنمارک پر حکمرانی کرنے والے اس بادشاہ کا نام ہیرالڈ گورمسن تھا تاہم ان کا لقب بلوٹوتھ تھا، جسے قدیم نورس زبان میں بلاتون (Blátǫnn) کہا جاتا تھا۔

یہ لقب ان کی وفات کے 150 سال بعد پہلی بار تحریری طور پر درج کیا گیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کسی نیلے یا گلے سڑے ہوئے دانت کی طرف اشارہ تھا۔

ہیرالڈ کی سب سے اہم کامیابیوں میں سے ایک ڈنمارک کا مسیحی مذہب کو قبول کرنا تھا جو غالباً 965 کے آس پاس کی بات ہے۔

ہیرالڈ کے نصب کروائے گئے جیلنگ کے دو اونچے نصب پتھروں میں سے بڑے پتھر پر لکھا ہے کہ انھوں نے ’پورے ڈنمارک اور ناروے کو فتح کیا اور ڈنمارک کے لوگوں کو عیسائی بنایا۔‘

اس پتھر پر سکینڈینیویا زبان میں حضرت عیسیٰؑ کی ابتدائی ترین تصاویر میں سے ایک بھی نقش ہے۔

The Jelling stones record Denmark's shift from pagan Viking rule to a Christian kingdom
Alamy
جیلنگ کے رون پتھر ڈنمارک کی اس تبدیلی کا ریکارڈ محفوظ کرتے ہیں جب یہ ملک مشرکانہ وائیکنگ حکمرانی سے ایک عیسائی سلطنت میں تبدیل ہوا

اس وقت تک شمالی یورپ کا بڑا حصہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم تھا، جن پر مقامی سردار حکومت کرتے تھے۔

مسیحیت نے ہیرالڈ کو اپنی حکومت مضبوط کرنے، عیسائی یورپ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور ڈنمارک کو ایک ریاست کے طور پر متحد کرنے میں مدد دی۔

کونگیرنس جیلنگ ایکسپیریئنس سینٹر اینڈ میوزیم کے نگران ایڈم باک کہتے ہیں کہ ’یہ وائیکنگ دور کے تقریباً 200 سال بعد ڈنمارک کے ایک متحد ریاست کے طور پر ابھرنے کا مرحلہ تھا، جس میں شمالی باشندوں نے بہت کچھ سیکھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وہ یورپ میں سیاست کی مختلف شکلوں، مسیحیت کے ممکنہ فوائد اور ایک ریاست میں طاقت کے ارتکاز کو اچھی طرح سمجھنے لگے تھے۔‘

جیلنگ کیوں اہم ہے؟

ہیرالڈ کی کہانی جیلنگ کے منظرنامے میں رقم ہے۔ ان کے والد گورم نے قصبے کے دو قدیمی اونچے پتھروں میں سے چھوٹا پتھر اپنی اہلیہ تھیرا کی یاد میں نصب کروایا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس پر ملک کے اندر پہلی بار ’ڈنمارک‘ کا نام تحریری شکل میں درج کیا گیا۔

قریب واقع شہر ویلے کی رہائشی اینے ہاوگارڈ میکلسن کہتی ہیں کہ ’ہم اسے ڈنمارک کا پیدائشی سرٹیفکیٹ کہتے ہیں۔‘ اس لحاظ سے جیلنگ کو ڈنمارک کی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ آج یہاں صرف 4,000 افراد رہتے ہیں، لیکن ہیرالڈ بلیوٹوتھ کے دور میں یہ اقتدار کا مرکز تھا۔ جیلنگ ابتدا میں بت پرستوں کا تدفینی مقام تھا، مگر ہیرالڈ کے دورِ حکومت میں یہ ایسی جگہ بن گیا جہاں دونوں روایات ایک دوسرے سے ملتی جلتی نظر آنے لگیں۔

وائیکنگ بادشاہ سے بلوٹوتھ تک

Jelling's church, burial mounds and runestones form part of Denmark's first Unesco World Heritage Site
Lindsey Galloway
جیلنگ کا چرچ، تدفین کو ظاہر کرتے ٹیلے اور قدیمی پتھر ڈنمارک کے پہلے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں

آج جیلنگ کی یادگاروں کے گرد موجود قدیم باڑ کی جگہ سفید ستون نصب ہیں، جبکہ زمین پر موجود سینکڑوں نشانات ایک بہت بڑی کشتی نما منظر پیش کرتے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ممکنہ طور پر تھیرا( قدیم ڈنمارک کی ملکہ) کی یاد میں بنائی گئی تھی۔ اس مقام پر موجود دو تدفینی ٹیلے اور ایک چرچ اس تاریخی منظر کو مکمل کرتے ہیں۔

ایڈم باک کے مطابق جیلنگ کی یہ یادگاریں صرف بہادر وائیکنگ جنگجوؤں یا تھور اور اوڈن جیسے دیوتاؤں کی کہانی نہیں سناتیں، بلکہ یہ سیاست، تبدیلی اور ایک پرانے نظام سے نئے نظام کی طرف منتقلی کی داستان بھی بیان کرتی ہیں۔

1994 میں جیلنگ کے ٹیلوں، رون پتھروں اور چرچ کو ڈنمارک کے پہلے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دیا گیا۔

قریبی کونگیرنس جیلنگ وزیٹر سینٹر میں موجود انٹرایکٹو نمائشیں وائیکنگ عقائد سے عیسائیت تک کے سفر کو اجاگر کرتی ہیں جبکہ دونوں تاریخی نوعیت کے اونچے پتھر(جنھیں ڈنمارک کا ’بپتسمہ پتھر‘ اور پیدائشی سرٹیفکیٹ کہا جاتا ہے) شیشے کے حفاظتی حصار میں محفوظ ہیں۔

The Jelling stones record Denmark's shift from pagan Viking rule to a Christian kingdom
Lindsey Galloway
بلوٹوتھ کا لوگو ہیرالڈ بلوٹوتھ کے نام کے ابتدائی حروف H اور B سے بنے رون حروف کو ملا کر تیار کیا گیا ہے

اس کا منفرد لوگو بھی اس کی مقبولیت کے سفر میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ دنیا بھر میں پہچانا جانے والا یہ نشان قدیم نورس رسم الخط کے حروف ’ایچ اور بی‘ کو ملا کر بنایا گیا ہے، جو ہیرالڈ بلوٹوتھ کے نام کی نمائندگی کرتے ہیں۔

2023 میں اس ٹیکنالوجی کی 25ویں سالگرہ کے موقع پر کارداچ اور اس کے دیگر بانی جیلنگ آئے، جہاں انھوں نے ہیرالڈ کا نام اجازت کے بغیر استعمال کرنے پر خوشگوار انداز میں معذرت کی۔

جواب میں میوزیم نے یہ معذرت قبول کرتے ہوئے انھیں اگلے ایک ہزار برس تک یہ نام استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔

ایڈم باک کہتے ہیں کہ ’ہیرالڈ کو اپنی کامیابیوں کا بہت فخر تھا۔ میرے خیال میں وہ یہ جان کر بے حد خوش ہوتے کہ آج دنیا بھر میں اربوں لوگ ہر روز ان کا نام استعمال کرتے ہیں۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US