وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بعض رہنما 9 مئی کے واقعات اور دھرنوں کا دور واپس لانا چاہتے ہیں، تاہم اب ایسا نہیں ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری یکسوئی کے ساتھ لڑی جائے گی۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بیرسٹر گوہر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی ایک ایسے جنازے کی نشاندہی کریں جس میں وہ شریک ہوئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذاکرات اور معاملات میں لچک دکھائی، لیکن اب رعایتوں کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔
وزیرِ دفاع نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پر بھی تنقید کی اور سوال اٹھایا کہ وہ کس سے ہدایات لیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بیٹھا ایک شخص صوبائی حکومت چلا رہا تھا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں کانوں کے ٹھیکوں سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کے پاس ہنگامی اقدامات کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔ ان کے مطابق ایک مسودے پر دستخط ہوئے، لیکن ویٹو کا اختیار ایک روپوش شخص کے پاس تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے بانی کی ملاقاتیں نہ ہونے کا مؤقف درست نہیں، ملاقاتیں ہوتی ہیں تاہم انہیں عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا۔