’محاسبات الہی‘ کا تصور کیا ہے جس کی بنیاد پر مجتبیٰ خامنہ ای ایران کو ’دنیا کی سب سے بڑی طاقت‘ قرار دیتے ہیں

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے ’اللہ کے حساب کتاب (محاسبات الہی) کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی طاقت‘ قرار دینے کے دعوے کے بعد حکومت کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ اور اداروں میں اِس تصور کی وضاحت کے لیے بحث شروع ہو گئی ہے۔
Iran
RAHBAR.IR

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے ’اللہ کے حساب کتاب (محاسبات الہی) کے مطابق دنیا کی سب سے بڑی طاقت‘ قرار دینے کے دعوے کے بعد حکومت کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ اور اداروں میں اِس تصور کی وضاحت کے لیے بحث شروع ہو گئی ہے۔

اسی تناظر میں خبر رساں ادارے ’حوزہ‘ نے ’محاسبات الٰہی کی بنیاد پر ایران دنیا کی سب سے بڑی طاقت‘ کے عنوان سے ایک نشست منعقد کی جس میں قم کے دینی تعلمی مرکز (حوزۂ علمیہ) سے تعلق رکھنے والے تین علما نے اس نطریے کی تشریح کی۔

مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب پیغام چھ اکتوبر کو شائع ہوا تھا اور اس نے ذرائع ابلاغ میں مختلف ردِعمل اور تشریحات کو جنم دیا تھا۔

کئی سیاسی شخصیات، جن میں سعید جلیلی بھی شامل ہیں اور جو سپریم لیڈر کی قومی سلامتی کونسل میں نمائندہ ہیں، نے ان باتوں کی تائید کرتے ہوئے انھیں ’قرآنی منطق‘ کے دائرے میں قرار دیا۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے نے بھی ایک تحریر میں ’دنیا کی سب سے بڑی طاقت‘ ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا: ’قرآن کی منطق میں کسی معاشرے کو حقیقی طاقت صرف اُس کے مادی، معاشی، عسکری اور تکنیکی وسائل سے حاصل نہیں ہوتی بلکہ مذہب کے ساتھ اس کے تعلق اور حق کی نصرت کے راستے پر اُس کے مقام کا بھی اس کی تقدیر کے تعین میں بنیادی کردار ہوتا ہے۔‘

مہدی فضائلی جیسی شخصیات، جو ایران کے سپریم لیڈر کے دفترِ تحفظ و اشاعتِ آثار کے رکن ہیں، نے بھی مجتبیٰ خامنہ ای کے بیانات کا تجزیہ اور اُن کی تشریح کی۔

انھوں نے البرز صوبے میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا کہ ’تجزیہ کار مادی یا دنیاوی حساب کتاب اور عالمی معاملات میں موجود عناصر کی بنیاد پر ایران کو دنیا کی چوتھی طاقت قرار دیتے ہیں۔ یعنی امریکہ، چین اور روس کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران چوتھی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور اپنے مقام کو مستحکم کر رہا ہے۔‘

مہدی فضائلی نے زور دے کر کہا کہ عالمی نظام تبدیل ہو رہا ہے اور انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کو نئے عالمی نظام کی تشکیل میں ’سب سے مؤثر‘ عنصر قرار دیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب پیغام کو تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

سوشل میڈیا پر بعض افراد نے اسے طنز و مزاح کا موضوع بنایا جبکہ دوسروں نے ایران کے معاشی مسائل، مہنگائی اور معاشی بحرانوں کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی طاقت اور مقام سے متعلق رہبر اعلی کے تصور کو حقیقت سے دور قرار دیا۔

مگر اتفاق یا اختلاف سے ہٹ کر ’محاسبات الہی‘ دراصل کیا ہے؟ اور یہ کسی ملک یا معاشرے کی طاقت جانچنے کے رائج روایتی معیارات سے کس طرح مختلف ہے؟ مجتبیٰ خامنہ ای کن اشاریوں کی بنیاد پر ایران کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت قرار دے رہے ہیں؟

Iran
HAWZAH

ان سوالات کے جواب صرف نظریاتی اہمیت نہیں رکھتے۔ اگر دنیا میں ایران کے مقام کا اندازہ ایسے تصور (محاسبات الٰہی) کی بنیاد پر لگایا جائے تو یہ نقطۂ نظر خطرات اور مواقع کو سمجھنے اور سیاسی و سفارتی فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اسی لیے ایران اور امریکہ کے تعلقات، مذاکرات اور خارجہ پالیسی سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کے رویوں جیسے موضوعات میں اس کا جائزہ اہم ہو جاتا ہے۔

اسی سلسلے میں محقق مرضیہ حاجی ہاشمی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایران کے اقتدار کے ڈھانچے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اُن کے خیال میں اس نظام (محاسبات الہی) میں سیاسی جواز شہریوں کی مرضی یا سیاسی معاہدے پر نہیں بلکہ فقہ، شریعت اور مذہبی جواز پر مبنی ہے۔

وہ یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ ’اگر ایک حکمران اپنے فیصلوں اور پالیسیوں کا جائزہ ’محاسبات الہی‘ کے مطابق لیتا ہے تو کون سا مذہبی ادارہ سیاسی طاقت سے آزاد ہو کر یہ جانچنے کا اختیار رکھتا ہے کہ آیا یہ حساب کتاب واقعی الٰہی معیاروں سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں؟‘

علی خامنہ ای اور مجتبیٰ خامنہ ای کے بیانات میں ’محاسبات الہی‘ کا ذکر

Iran
Getty Images

’محاسبات الہی‘ کا تصور اس سے پہلے بھی اسلامی جمہوریہ کے حکام، خصوصاً اس کے رہنماؤں، کی تقریروں میں بارہا سامنے آ چکا ہے۔

دشمنوں کے ساتھ مقابلے یا طاقت کے توازن کا جائزہ لیتے وقت وہ معمول کے سیاسی اور عسکری حساب کتاب کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کا بھی حوالہ دیتے رہے ہیں جنھیں وہ ’سنت‌ الہی‘ (اللہ کے قوانین یا قدرت کے اصول) کہتے ہیں۔

گذشتہ برس اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران علی خامنہ ای نے متعدد بار ایسی زبان استعمال کی جس میں سیاسی اور عسکری تبدیلیوں میں الٰہی عوامل کے کردار پر زور دیا گیا۔

انھوں نے ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں کہا تھا کہ ’اللہ کے حکم سے‘ ہم اسرائیل کو شکست دیں گے۔

پانچ دن بعد، 18 جون 2025 کو، ایک اور پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’اللہ تعالیٰ ایرانی قوم کو یقیناً فتح عطا کرے گا۔‘

اپنے تیسرے پیغام میں، جو 26 جون کو جاری ہوا، انھوں نے فتح کو الٰہی مدد سے جوڑتے ہوئے کہا: ’ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہماری مسلح افواج کی مدد کی۔‘

اس کے بعد انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ میں ’ہم نے اسرائیل کو کچل دیا اور امریکہ کو سخت طمانچہ مارا۔‘

’محاسبات الہی‘ علی خامنہ ای کی سیاسی زبان میں بار بار استعمال ہونے والا تصور تھا۔

ان کے ماضی کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ’محاسبات الہی‘، ’دشمن کا حساب کتاب‘، ’امریکی حساب کتاب‘، ’حساب کتاب میں تبدیلی‘ اور ’حسابی غفلت‘ جیسی اصطلاحات بارہا استعمال کرتے رہے ہیں۔

مثال کے طور پر، جولائی 2022 میں انھوں نے کہا: ’دشمن کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ دنیا میں سیاسی حساب کتاب اور تعلقات کے علاوہ ایک اور قسم کا حساب کتاب اور تعلقات بھی موجود ہیں، جنھیں وہ سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور وہ سنت الٰہی (قدرت کے اصول) ہیں۔‘

اسی طرح 10 مارچ 2019 کو قاسم سلیمانی کو ’ذوالفقار‘ نامی اعزاز دینے کی تقریب میں علی خامنہ ای نے کہا تھا: ’جو چیزیں ہمارے اختیار میں ہیں، وہ مادی دنیا کے حساب سے بیان کی جا سکتی ہیں، مگر معنوی اور الٰہی حساب کتاب کے مطابق انھیں بیان نہیں کیا جا سکتا۔‘

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب پیغامات میں علی خامنہ ای کے مؤقف اور طرزِ بیان سے مماثلت پائی جاتی ہے اور ’محاسبات الہی‘ ان پیغامات میں مشترکہ الفاظ میں سے ایک ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای ماضی میں بھی متعدد پیغامات، جن میں ان سے منسوب نوروز کے موقع پر دیا گیا پیغام بھی شامل ہے، میں ’دشمن کے حساب کتاب‘ کا ذکر کر چکے ہیں۔

14 جون کو روح اللہ خمینی کی وفات کی 37 ویں برسی کے موقع پر جاری کردہ ایک پیغام میں انھوں نے کہا تھا: ’دشمن عسکری میدان میں ناکامی کے بعد عوام کی قوتِ برداشت کو نشانہ بنا رہا ہے اور حکام کی حسابی غلطی پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔‘

چھ اکتوبر کے پیغام میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ اگرچہ بعض لوگ ’دنیاوی حساب کتاب‘ کی بنیاد پر ہمیں ’دنیا کی چوتھی سپر پاور‘ سمجھتے ہیں، لیکن ’الٰہی حساب کتاب‘ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کی پہلی طاقت ہے۔

اس طرح انھوں نے ایسے معیارات کی بنیاد پر ایک دعویٰ کیا جن کی وضاحت اس پیغام میں نہیں کی گئی تھی اور جس شدت کے ساتھ یہ دعویٰ کیا گیا، اس کی مثال کم از کم علی خامنہ ای کے زیرِ جائزہ بیانات میں نہیں ملتی۔

’خدا کو جواب دینا میری ذمہ داری ہو‘

Iran
Getty Images

ایران کے ’دنیا کی پہلی طاقت‘ ہونے سے متعلق مجتبیٰ خامنہ ای کے بیانات کو اس فکری و بیانیاتی روایت کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے جو گذشتہ دہائیوں میں اسلامی جمہوریہ، خصوصاً علی خامنہ ای کی قیادت کے دوران، سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب، وہ بطور ’ولیِ مطلق فقیہ‘ مختلف مواقع پر سیاسی فیصلوں اور ذمہ داریوں کی وضاحت کے لیے مذہبی زبان استعمال کرتے تھے۔

ان کے متعدد بیانات میں حکام کی جوابدہی کے حوالے سے خدا کے حضور اور روزِ قیامت جوابدہی کو نمایاں مقام حاصل تھا۔

اپریل 2004 میں انھوں نے جواب دہی کو ’ایک اسلامی حقیقت‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اللہ تعالیٰ‘ انسان کو اس کے اعمال اور فیصلوں کے بارے میں جوابدہ سمجھتا ہے۔‘

اسی تقریر میں انھوں نے ریاست کے رہنما سمیت تمام عہدیداروں کی جوابدہی پر بھی زور دیا تھا۔

جون 2015 میں پارلیمان کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران علی خامنہ ای نے عوام کے سامنے جوابدہی اور خدا کے سامنے جوابدہی میں فرق کیا۔

انھوں نے کہا کہ عوام کے سوالات کے جوابات کسی نہ کسی طرح نمٹائے جا سکتے ہیں، لیکن حکام کو خدا کے سامنے جوابدہی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ایک اور مثال میں اکبر ہاشمی رفسنجانی کی یادداشتوں میں درج ہے کہ جب علی خامنہ ای نے ایران اور امریکہ کے مسئلے کے ’حل‘ سے متعلق ان کی تجویز قبول نہیں کی تو دونوں کے درمیان یہ گفتگو ہوئی: ’میں آپ سے اس کے علاوہ کچھ نہیں کہہ سکتا، ہمارا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔ آخرکار قیامت کے دن مجھ سے اور آپ سے پوچھا جائے گا کہ نظام اور مسلمانوں کے لیے اتنا نقصان اور مسائل کیوں پیدا ہوئے۔ اگر آپ اس ذمہ داری کو قبول کرتے ہیں تو مجھے مزید کچھ نہیں کہنا۔ انھوں نے جواب دیا: ہاں، خدا کو جواب دینا میری ذمہ داری ہو۔‘

سنہ 2003 میں علی خامنہ ای نے ایران کے لیے ایک 20 سالہ منصوبہ ’سند چشم انداز 1404‘ جاری کیا تھا، جس کی مدت 2005 سے 2025 تک رکھی گئی تھی۔ اس منصوبے میں ہدف مقرر کیا گیا تھا کہ سنہ 2025 تک ایران جنوبی مغربی ایشیا میں معاشی، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سب سے آگے ہو گا۔

تاہم جب مجتبیٰ خامنہ ای سنہ 2026 میں قیادت کے منصب پر پہنچے تو ایران اس منصوبے کے بعض اہم اہداف، خصوصاً خطے کی سب سے بڑی معاشی طاقت بننے کے ہدف، سے ابھی دور تھا۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے حالیہ دعوے کہ ایران ’دنیا کی پہلی طاقت‘ ہے، پر ہونے والی بحث میں بہت سے لوگوں نے اس دعوے کا موازنہ ’سند چشم انداز 1404‘ کے اہداف سے کیا ہے۔

اس منصوبے کے مطابق ایران کو 2025 تک ’جنوب مغربی ایشیا میں معاشی، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ایک ترقی یافتہ ملک‘ بننا تھا۔ اس کے لیے معاشی ترقی، عوامی آمدنی اور فلاح میں اضافہ، سائنسی پیش رفت، دنیا کے ساتھ مؤثر تعلقات اور قومی سلامتی و استحکام جیسے واضح اہداف طے کیے گئے تھے۔

سوشل میڈیا پر بعض ناقدین نے بھی اسی نکتے کو اٹھایا۔ روزنامہ ’کیہان‘ کے سابق مدیرِ اور موجودہ حکومت مخالف سیاسی کارکن مہدی نصیری نے طنزیہ انداز میں لکھا: ’باپ نے خطے کی پہلی طاقت بننے کا وعدہ کیا تھا، بیٹے نے دنیا کی پہلی طاقت ہونے کا دعویٰ کر دیا۔‘

یہ موازنہ اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ ’سند چشم انداز 1404‘ میں ایران کو خطے کی پہلی طاقت بنانے کی بات کی گئی تھی، جبکہ اب ’دنیا کی پہلی طاقت‘ ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

فرق یہ ہے کہ اس وژن کے اہداف کو معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، عوامی فلاح اور علاقائی حیثیت جیسے قابلِ پیمائش اشاریوں سے جانچا جا سکتا تھا، لیکن مجتبیٰ خامنہ ای نے 'محاسبات الہی' کی بنیاد پر ایران کے 'دنیا کی سب سے بڑی طاقت‘ ہونے کے دعوے کے لیے کوئی واضح معیار پیش نہیں کیا۔

اسی لیے بعض مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ایران واقعی دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے تو اس کا تعین کیسے کیا جائے؟ کیا اس کا اندازہ معیشت، قومی کرنسی کی قدر، عوام کے معیارِ زندگی، عالمی اثر و رسوخ، عسکری صلاحیت اور سائنسی کامیابیوں سے لگایا جائے، یا پھر یہاں ایسی طاقت کی بات ہو رہی ہے جسے عام پیمانوں سے ناپا ہی نہیں جا سکتا؟

’اسلامی جمہوریہ کی اصلاح بہت مشکل ہے‘

بعض مبصرین کے نزدیک ’محاسبات الہی‘ کے تصور اور ایران کو ’دنیا کی سب سے بڑی طاقت‘ قرار دینے کا مقصد حکومت کے سرکاری بیانیے کو اس کے حامیوں کے درمیان مزید مضبوط بنانا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس بحث کا تعلق صرف داخلی سیاست سے نہیں ہے۔

اسلامی جمہوریہ کی قیادت طاقت، خطرات اور توازنِ قوت کو جس نظر سے دیکھتی ہے، وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات، مذاکرات اور خارجہ پالیسی کے دیگر فیصلوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی تجزیوں اور فیصلوں میں مذہبی اور نظریاتی عناصر کا کردار بڑھتا جائے تو حکومت اور دیگر فریقوں کی صورتحال کے بارے میں سوچ میں فرق بھی بڑھ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں کسی تنازع یا مذاکرات میں شامل فریق طاقت کے توازن، مواقع اور خطرات کے بارے میں مختلف نتائج اخذ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ مختلف اصولوں کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہے ہوتے ہیں۔

سیاسی امور کے تجزیہ کار حمزہ صفوی، جو یحییٰ رحیم صفوی کے صاحبزادے ہیں، نے ویب سائٹ 'انتخاب' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بعض بااثر سیاسی شخصیات کی سوچ پر تنقید کی۔ ان کے مطابق بعض لوگ ایران کی طاقت اور صلاحیتوں کے بارے میں حد سے زیادہ پرامید انداز میں سوچتے ہیں اور زمینی حقائق کو کافی اہمیت نہیں دیتے۔

حمزہ صفوی کا کہنا ہے: 'بڑے اہداف رکھنا اور غیرحقیقت پسندانہ خواب دیکھنا ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔ اگر آپ بلند مقاصد طے کریں اور انھیں زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے حاصل کرنے کی کوشش کریں تو یہ مثبت بات ہے۔ لیکن اگر حقیقتوں، عملی امکانات اور ممکنہ نتائج کو نظر انداز کر کے منصوبے بنائے جائیں تو یہ غیرحقیقت پسندانہ طرزِ فکر بن جاتا ہے۔'

دوسری جانب حکومت کے قریب بعض شخصیات اسلامی جمہوریہ کی طاقت اور اثر و رسوخ کے بارے میں مختلف رائے رکھتی ہیں۔

سپاہ پاسداران کے سربراہ کے ثقافتی مشیر حمیدرضا مقدم فر کے مطابق اسلامی جمہوریہ نہ صرف بیرونی دباؤ اور پابندیوں کے سامنے پیچھے نہیں ہٹی بلکہ تزویراتی لحاظ سے اپنی مرضی امریکہ پر مسلط کرنے میں بھی کامیاب رہی ہے۔

ان کے بقول امریکہ نے اسلامی جمہوریہ کے ساتھ محاذ آرائی کے دوران ’اپنی طاقت کے اہم ترین فوائد، ساکھ اور اثر و رسوخ کے بڑے مراکز بھی کھو دیے ہیں اور اب دنیا ایک نئے سکیورٹی اور عسکری نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔‘

حالیہ دنوں میں بعض اخبارات اور ’اعتدال پسند‘ سیاسی شخصیات نے زور دیا ہے کہ ایران کو طاقت کے بارے میں ضرورت سے زیادہ خوش فہمی سے گریز کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف بڑھنا چاہیے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ’باعزت‘ راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کے پیغام سے پہلے بھی بعض سیاسی شخصیات ایران کی طاقت کے بارے میں ضرورت سے زیادہ خوش فہمی کے اندازِ فکر کے خلاف خبردار کر چکی تھیں۔

مثال کے طور پر روزنامہ ’سازندگی‘ نے 26 ستمبر کو حسین مرعشی کا ایک انٹرویو دوبارہ شائع کیا جس میں انھوں نے کہا تھا: ’ہم اپنی طاقت اور صلاحیتوں کے بارے میں حد سے زیادہ پُرامید ہو گئے ہیں اور زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں۔‘

حسین مرعشی نے اسی گفتگو میں مذہب اور حکومتی فیصلوں کے تعلق پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’اب کسی کو آ کر مذہب کو قومی مفادات اور حکومتی فیصلوں کے بوجھ تلے دبنے سے بچانا چاہیے۔ مذہب قومی مفادات کی خدمت کے لیے ہے، نہ کہ قومی مفادات مذہب کی خدمت کے لیے۔‘

سیاسی نظام میں تبدیلی کے امکان پر انھوں نے کہا: ’اسلامی جمہوریہ کی اصلاح بہت مشکل ہے، بہت مشکل۔ میں ہرگز نہیں کہتا کہ یہ آسان کام ہے۔ یہ وقت طلب اور مہنگا عمل ہے، لیکن موجودہ نظام کو بدلنے والی کسی بڑی تبدیلی کے مقابلے میں اس کی قیمت کم ہے۔‘

مرعشی کے بیانات کو اس وسیع تر نقطۂ نظر کا حصہ سمجھا جا سکتا ہے جو پالیسی سازی اور ایران کی صلاحیتوں اور عالمی مقام کے جائزے میں زیادہ حقیقت پسندی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

اس تناظر میں ’محاسبات الہی‘ کی بحث صرف طاقت کے تصور پر ایک نظریاتی اختلاف تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ خطرات، مواقع اور اپنے سامنے موجود انتخابوں کا جائزہ لیتے وقت روایتی سیاسی عوامل پر کتنا اور مذہبی و نظریاتی عناصر پر کتنا انحصار کرے گی۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US