وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں دہشتگردی پر قابو پانے کے بعد صوبے کا نظامِ حکومت صوبائی حکومت کے حوالے کردیا جائے گا، جبکہ وفاقی حکومت کی اولین ترجیح دہشتگردی کا خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے آئینی تقاضے مکمل ہوچکے ہیں اور اب تیسرے مرحلے کا آغاز ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردی سے متاثرہ 12 اضلاع کو دہشتگردوں سے پاک کیا جائے گا، جبکہ صوبے میں ترقیاتی کاموں اور عوامی محرومیوں کے خاتمے کے لیے بھی روڈمیپ تیار ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے اپوزیشن کو بامقصد مذاکرات کی دعوت دی ہے اور حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں سیاسی مداخلت نہیں ہوگی اور دہشتگردی پر قابو پانے کے بعد صوبے کا انتظام صوبائی حکومت کے سپرد کردیا جائے گا۔