بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کرنے والے ملزم گرفتار: ’تینوں نیپال فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے‘

انڈیا کے شہر ممبئی میں بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والے تین ملزم گرفتار کر لیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق حملے میں ٹائیگر شروف محفوظ رہے تاہم ان کے ڈرائیور فردوس زخمی ہوئے۔

بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کےالزام میں راجستھان کے شہر کوٹا کی پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ہیرو پنتی، باغی اور وار جیسی فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ٹائیگر شروف پر گذشتہ رات (18 اکتوبر) ممبئی میں اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب وہ کار میں سوار ہو کر کہیں جانے کے لیے نکل رہے تھے۔

ممبئی پولیس کے مطابق یہ واقعہ شام تقریباً سات بجے پیش آیا۔

جب ٹائیگر شروف اپنی سلور رنگ کی گاڑی میں گیٹ کے قریب پہنچے تو باہر مداحوں کا ہجوم تھا۔ متعدد افراد اپنے موبائل فونز پر یہ مناظر ریکارڈ کر رہے تھے، اور ساتھ ساتھ اپنے پسندیدہ اداکار کو کچھ کہنے کی بھی کوشش کر رہے تھے۔

ایک خاتون کی آواز آئی: ’ٹائیگر بھائی صاحب! مجھے کچھ بتانا ہے۔‘

گاڑی آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہوئی سڑک کی جانب جا رہی تھی۔

ایک اور فرد چِلّایا: ’ٹائیگر بھائی!‘

اسی وقت، اچانک، مسلح حملہ آور نمودار ہوئے اور فائرنگ کی آوازیں گونج اٹھیں۔

یہی ویڈیوز بعد میں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئیں۔ ان میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور فائرنگ کر کے فرار ہو جاتے ہیں، جبکہ ویڈیو بنانے والوں کو چیختے بھی سنا جا سکتا ہے۔

پولیس کے مطابق ٹائیگر شروف جس حملے میں محفوظ رہے، تاہم فائرنگ کے اس واقعے میں ان کے ڈرائیور فردوس زخمی ہوئے، جن کے بائیں ہاتھ میں گولی لگی۔

ممبئی کے ڈپٹی کمشنر پولیس (ڈی سی پی) موہت گرگ نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ملزموں کو پکڑنے کے لیے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

آج سامنے آنے والی پیش رفت کے مطابق پولیس نے حملے کے تین ملزمان پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کوٹا کی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) تیجسوِنی گوتم کے مطابق ملزمان کو پیر کی صبح ریلوے سٹیشن سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تینوں پہلے انڈیا کے دار الحکومت دلی اور پھر نیپال فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔

گوتم نے بی بی سی ہندی کو بتایا: ’تینوں مشتبہ افراد کو صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے گرفتار کیا گیا۔ ان سے تفتیش جاری ہے۔‘

پولیس کے مطابق اب تک ملزمان کے قبضے سے کوئی اسلحہ یا قابلِ ذکر شے برآمد نہیں ہوئی۔

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ٹائیگر شروف پر حملے کے تین ملزمان کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کے بعد تینوں ممبئی سے فرار ہو گئے تھے۔

وزیر اعلیٰ کے مطابق ملزم پہلے سورت پہنچے اور وہاں سے جے پور جانے والی ٹرین میں سوار ہوئے۔

فڈنویس نے کہا کہ ممبئی پولیس نے ان کا سراغ لگا لیا تھا اور راجستھان پولیس سے رابطہ کر کے اس کی مدد حاصل کی۔

انھوں نے کہا: ’کوٹا میں راجستھان پولیس کی مدد سے انھیں گرفتار کر لیا گیا۔ تینوں زیرِ حراست ہیں۔ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انھیں ممبئی لایا جائے گا، جہاں اس مقدمے کی مزید تفتیش کی جائے گی۔‘

فڈنویس کے مطابق پولیس نے انتہائی تیزی سے کارروائی کی ہے اور وہ اس معاملے کی تہہ تک پہنچے بغیر نہیں رکے گی۔

وزیر اعلیٰ فرنویس نے بشنوئی گینگ کے بارے میں کیا کہا؟

اداکار ٹائیگر شروف پر فائرنگ کے واقعے کے بعد یہ بحث جاری ہے کہ آیا بشنوئی گینگ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے یا نہیں۔

اس بارے میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ دیویندر فرنویس نے کہا: ’ایسے کسی بھی گینگ سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ بزدل لوگوں کا کام ہے۔ وہ خود کہیں چھپ کر بیٹھتے ہیں اور وہاں سے دھمکیاں دیتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’اس کے باوجود ہم ہر دھمکی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اس پر کارروائی کرتے ہیں۔ ممبئی پولیس نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایسے مجرموں کو گرفتار کیے بغیر نہیں چھوڑتی۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ممبئی پولیس لارنس بشنوئی کو تحویل میں لینے کی کوشش کرے گی، تو دیویندر فڈنویس نے کہا: ’پولیس پہلے ہی انھیں حراست میں لینے کے لیے قانونی عمل شروع کر چکی ہے اور اس پر کارروائی جاری ہے۔ اسی لیے میں نے کہا ہے کہ ان کے سرغنہ جہاں کہیں بھی ہوں، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

فائرنگ کے واقعے کے بعد مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے ٹائیگر شروف سے ملاقات کی تھی۔ اس موقع پر بنائی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ صوفے پر بیٹھے ٹائیگر شروف نے قمیص اتار رکھی ہے، ان کے دائیں بازو پر پٹی بندھی ہوئی ہے، جب کہ سینے کے اوپری حصے، دائیں کندھے اور بائیں بازو پر بینڈیج ہے۔

مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا کہ انھوں نے جیکی شروف اور ٹائیگر شروف سے بات کی ہے۔

انھوں نے کہا: ’میں نے ٹائیگر سے کہا ہے کہ وہ فکر نہ کریں۔ حکومت ان کے ساتھ ہے اور انھیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم تمام مشہور شخصیات کی سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیں گے اور ان کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے حکومت پوری طرح پُر عزم ہے۔‘

’اگر کوئی دوسروں کو ڈرانے یا دھمکانے کی کوشش کرے گا تو پولیس اور حکومت اسے نہیں بخشیں گے۔‘

اپوزیشن نے ممبئی میں امن و امان کی صورتحال پر سوال اٹھایا

فارنزک ماہرین جائے وقوعہ کا جائزہ لے رہے ہیں
BBC
فارنزک ماہرین جائے وقوعہ کا جائزہ لے رہے ہیں

اس واقعے کے حوالے سے انڈیا کی اپوزیشن جماعتوں نے ریاست میں امن و امان کی صورت حال پر سوالات اٹھائے ہیں۔

سیاسی جماعتوں کانگریس اور این سی پی (نیشنلسٹ کانگریس پارٹی) نے کہا ہے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ عام لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اے آئی ایم آئی ایم (آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین) کے رہنما وارث پٹھان نے اسے ’قانون کی مکمل ناکامی‘ قرار دیا ہے۔

انڈیا میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما سچن ساونت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کی خبر انتہائی چونکا دینے والی ہے۔ آخر ممبئی میں کیا ہو رہا ہے؟‘

انھوں نے لکھا کہ ’بابا صدیقی کا قتل، سلمان خان کے گھر پر فائرنگ، متعدد اداکاروں اور پروڈیوسروں کو دھمکیاں۔۔۔ یہاں قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ افراتفری ہے۔ وزیر اعلیٰ مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔‘

سچن ساونت نے مزید کہا: ’عوام کو اُس حکومت کی مذمت کرنی چاہیے جس نے ممبئی کو مجرموں کے خوف میں دھکیل دیا ہے۔‘

کانگریس رکنِ پارلیمان ورشا گائیکواڑ نے ایکس پر لکھا: ’ممبئی میں امن و امان کی صورتحال انتشار کا شکار ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ٹائیگر شروف پر ہونے والی فائرنگ میں ایک اور شخص بھی زخمی ہوا ہے۔ کیا مجرموں کو قانون کا کوئی خوف باقی نہیں رہا؟ حکومت اور محکمہ داخلہ کو ممبئی کے شہریوں کے تحفظ کے بارے میں جواب دینا چاہیے۔‘

نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے رہنما روہت پوار نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا: ’شیو سینا کے پردیپ پورنیکر کو گولی مار کر قتل کیے جانے کا واقعہ ابھی تازہ ہے، اور اسی دوران ممبئی میں اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کی خبر انتہائی چونکا دینے والی ہے۔ خوش قسمتی سے ٹائیگر شروف محفوظ ہیں۔

’لیکن اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ریاست کے رہنما اور عہدے دار ہی محفوظ نہیں تو عام آدمی کی حفاظت کا کیا ہو گا؟ اگر ریاست کے معاشی دار الحکومت میں غنڈوں کا اتنا خوف ہے تو کون سا سرمایہ کار ریاست میں سرمایہ کاری کرے گا؟‘

انھوں نے کہا: ’حکومت ریاست کو مؤثر طریقے سے چلائے اور اگر یہ ممکن نہیں تو وزارتِ داخلہ کسی اہل وزیر کے سپرد کر دینی چاہیے۔‘

وہ بالی وڈ فنکار جن پر حملے کیے گئے

بالی وڈ اداکار سلمان خان
AFP via Getty Images
دو سال قبل سلمان خان کے گھر کے باہر بھی فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا

حالیہ برسوں میں فلم انڈسٹری کے کئی فنکاروں پر حملے ہوئے ہیں یا وہ حملہ آوروں کے نشانے پر رہے ہیں۔ اس معاملے میں فلمی اداکار سلمان خان کا نام سب سے نمایاں ہے۔

اپریل 2024 میں ممبئی میں سلمان خان کے گھر کے باہر بھی فائرنگ کی گئی تھی۔ اس معاملے میں پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی چارج شیٹ میں کئی مرتبہ گینگسٹر لارنس بشنوئی کے نام کا ذکر کیا گیا ہے۔

گذشتہ سال جنوری میں اداکار سیف علی خان پر اُن کے گھر میں رات کے وقت چاقو سے حملہ کیا گیا تھا۔ اس حملے میں وہ زخمی ہوئے تھے اور انھیں سرجری کے عمل سے گزرنا پڑا تھا۔

اس سے ایک سال قبل 2024 میں ٹی وی سیریل کرائم پٹرول میں کام کرنے والے فنکار راگھو تیواری پر بھی مبینہ طور پر سڑک پر ہونے والے ایک جھگڑے میں حملہ کیا گیا تھا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US