سعودی عرب میں مبینہ ’فحش حرکات‘ کے الزام میں سزائے موت پانے والی بنگلہ دیشی خاتون کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا اُن کی بیٹی نے کوئی ایسا جرم کیا تھا جس پر سزائے موت دی جا سکتی ہو اور یہ کہ سعودی عرب میں اُن کی بیٹی کی ایک دوست نے خاندان کو فون کر کے یہ اطلاع دی تھی کہ سزائے موت پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔
اہلخانہ کے مطابق اُن کا بیٹا سعودی عرب میں صفائی کا کام کرتا تھا جسے سعودی عرب پہنچنے کے صرف چھ ماہ بعد حراست میں لے لیا گیا تھا (اہلخانہ کی جانب سے فراہم کردہ تصویر)سعودی عرب میں مبینہ ’فحش حرکات‘ کے الزام میں سزائے موت پانے والی بنگلہ دیشی خاتون کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ آیا اُن کی بیٹی نے کوئی ایسا جرم کیا تھا جس پر سزائے موت دی جا سکتی ہو اور یہ کہ سعودی عرب میں اُن کی بیٹی کی ایک دوست نے خاندان کو فون کر کے یہ اطلاع دی تھی کہ سزائے موت پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ بدھ (14 اکتوبر) کو سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے ذریعے ایک بنگلہ دیشی خاتون اور ایک مرد کو دی گئی سزائے موت پر عملدرآمد کی خبر سامنے آئی تھی۔
سعودی عرب کے سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ نے ملک کی وزارت داخلہ کے بیان کے رپورٹ کیا تھا کہ بنگلہ دیشی مرد اور خاتون پر الزام تھا کہ انھوں نے مکہ کی ایک مسجد کے اندر ’فحش حرکت کا ارتکاب‘ کیا تھا۔
سعودی حکام کے مطابق سکیورٹی حکام نے دونوں کو گرفتار کیا تھا اور بعدازاں عدالت نے جوڑے کے خلاف فیصلہ جاری کیا جس میں ’اُن پر عائد الزامات کی توثیق کی گئی۔‘
سعودی وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ عدالت نے جرم کی سنگینی، مسجد کے تقدس کی خلاف ورزی اور اُن حالات کے باعث یہ سزائیں سنائیں جن میں یہ افعال کیے گئے تھے اور اس پس منظر میں سعودی حکام نے اس جوڑے کو ’تعزیر کے تحت سزائے موت سُنائی‘، جس کے خلاف اپیل خارج ہونے کے بعد 14 اکتوبر 2026 کو سزائے موت پر عملدرآمد کر دیا گیا۔
اگرچہ سعودی حکام کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ ان دونوں افراد کو کب حراست میں لیا گیا تھا تاہم بنگلہ دیش کی وزیرِ مملکت برائے خارجہ شمع عبید کے مطابق انھیں سنہ 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان دونوں افراد کے اہلخانہ نے بھی اب اس کی تصدیق کی ہے۔
بی بی سی بنگلہ سروس نے سزائے موت پانے والے دونوں افراد کے اہلخانہ سے بات کی ہے، جس میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں سزائے موت پر عملدرآمد کے حوالے سے بے خبر رکھا گیا تھا۔
سعودی پولیس کی ایک خاتون اہلکار سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں (فائل فوٹو)’بہن خاندان کے مالی حالات بہتر کرنے کی امید پر ورک ویزا پر سعودی عرب گئی تھی‘
سزائے موت پانے والی بنگلہ دیشی خاتون کی بہن نے بی بی سی کو بتایا کہ اُن کو اپنی بہن کی سزائے موت پر عملدرآمد کی اطلاع اُن کی ایک دوست نے بذریعہ فون دی تھی۔
ان کے مطابق ’اُس کی دوست نے مجھے فون کر کے پوچھا کہ 'بہن، آپ کو کچھ پتا چلا؟' میں نے کہا نہیں، تو اُس نے بتایا کہ میری بہن اب ہم میں نہیں رہی ہیں۔ اس نے بعد دوست نے مجھے ایک ویڈیو بھی بھیجی جو بعد میں میں نے سوشل میڈیا پر بھی دیکھی۔‘
تاہم یہ ابتدائی اطلاع ملنے کے بعد خاتون کے اہلخانہ خاموش رہے، کیونکہ اُن کے مطابق ابتدائی طور پر انھیں جو تصویر بھیجی گئی تھی وہ اُن کی بیٹی سے مشابہت نہیں رکھتی تھی۔ اہلخانہ کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ انھیں حکومت یا متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے بھی کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔
سزائے موت پانے والی خاتون کے والد کے مطابق وہ صرف اس لیے خاموش رہے کیونکہ انھیں سعودی عرب میں اُن کی بیٹی کی دوست کی جانب سے جو تصویر بھیجی گئی تھی اُس میں نظر آنے والی خاتون اُن کی بیٹی جیسی نہیں لگ رہی تھی۔
اہلخانہ کے مطابق سزائے موت پانے والی خاتون اپنی چار بہنوں میں سب سے چھوٹی تھیں، جو اپنے خاندان کے مالی حالات سدھارنے کی امید لیے ہوئے سنہ 2023 میں ورک ویزا پر سعودی عرب گئی تھیں۔
اُن کے والد مزدوری کرتے ہیں اور اہلخانہ کے مطابق اُن کی بیٹی کو سعودی عرب پہنچنے کے صرف چھ ماہ بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔
خاتون کی بہن کے مطابق ’یہ معاملہ اُس کے سعودی عرب جانے کے چھ مہینے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ جیل میں ہے لیکن وجہ نہیں بتائی تھی۔ اس نے ہمیں سوال پوچھنے سے منع کر دیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ گھر واپس آ کر سب بتائے گی۔‘
اہلخانہ کے مطابق جیل میں قید کے دوران اُن کی بیٹی تقریباً ہر ماہ ایک بار اپنے اہلِخانہ سے بات کرتی تھیں اور آخری مرتبہ اُن کی فون پر گفتگو گذشتہ منگل کو ہوئی تھی۔ جبکہ سعودی حکام کے مطابق بدھ کو اُن کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا تھا۔
اُن کی بہن نے بتایا کہ ’اس کی ہم سے پچھلے منگل کو بات ہوئی تھی۔ بدھ کو اُس کا دوبارہ فون آیا تھا لیکن ہم اٹھا نہیں سکے۔‘
’نہیں معلوم تھا کہ بیٹے کو پھانسی دے دی جائے گی‘
سعودی عرب کے سرکاری میڈیا کے مطابق بنگلہ دیشی مرد اور عورت کو دی گئی سزائے موت پر 14 اکتوبر کو عملدرآمد کیا گیا (فائل فوٹو)سزائے موت پانے والے بنگلہ دیشی شخص کی والدہ نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ اُن کے بیٹے نے گذشتہ اتوار کو بھی سعودی جیل سے خاندان سے بات کی تھی۔
والدہ نے روتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں یہ تو معلوم تھا کہ وہ جیل میں ہے، لیکن ایسا ہو گا (یعنی انھیں پھانسی دے دی جائے گی)، یہ بات میرے بیٹے نے بھی ہمیں کبھی نہیں بتائی تھی۔‘
جبکہ اس شخص کے والد نے بتایا کہ گذشتہ بدھ کو انھیں اطلاع ملی تھی کہ اُن کے بیٹے کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا ہے۔
والد کے مطابق ’میری اپنے بیٹے سے گذشتہ اتوار کو بات ہوئی تھی۔ اس نے میری طبیعت پوچھی تھی۔ پھر بدھ کو مجھے پتا چلا کہ میرے بیٹے کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔‘
سزائے موت پانے والے شہری کے والد کا الزام ہے کہ اُن کا بیٹا تقریباً تین سال تک سعودی جیل میں رہا، لیکن اس دوران حکومت نے نہ تو اُن سے کوئی رابطہ کیا اور نہ ہی اُن کے بیٹے کی صورتحال کے بارے میں کوئی پوچھ گچھ کی۔
والد کے مطابق ’پچھلے چند برسوں میں، میں بار بار پوچھتا رہا کہ کیا بنگلہ دیش کے قونصلر آفس نے اس کا پتا کیا، لیکن انھوں نے نہیں کیا۔ بنگلہ دیش کی طرف سے نہ کبھی کسی نے جیل جا کر دیکھا اور نہ ہی کسی کو اس صورتحال کا علم تھا۔‘
انھوں نے اپنے بیٹے کی میت جلد از جلد بنگلہ دیش واپس لانے اور اس معاملے میں انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’تین سال اور تین ماہ سے میں نے اپنے بیٹے کا چہرہ نہیں دیکھا۔ کم از کم آخری بار تو اس کا چہرہ دیکھ سکوں۔‘
والدہ کے مطابق اُن کے بیٹے نے مدرسے سے تعلیم مکمل کی تھی اور پھر ایک ایجنٹ کے ذریعے 10 نومبر 2022 کو سعودی عرب گئے تھے۔
یہ دو بھائیوں اور دو بہنوں میں سب سے بڑے تھے، اور ریاض میں صفائی کے کارکن کے طور پر کام کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ جس مسجد میں ان پر ’فحش فعل کے ارتکاب‘ کا الزام لگایا گیا، وہ وہیں صفائی کا کام کرتے تھے۔
ان کی والدہ نے بتایا کہ ’وہاں جانے کے چند ہی ماہ بعد ہی انھیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ جیل جانے کے ایک ماہ بعد انھوں نے رابطہ کیا اور کہا کہ ماں، شاید مجھے کچھ عرصہ جیل میں رکھ کر چھوڑ دیں گے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے بیٹے نے حراست کی وجہ بتائی تھی تو انھوں نے کہا ’نہیں، انھوں نے کوئی خاص بات نہیں بتائی تھی۔‘
تاہم خاندان کے ایک اور فرد نے یہ دعویٰ کیا کہ بعد میں اس شخص نے اہلِ خانہ کو ایک خاتون کے ساتھ رومانوی تعلقات سے متعلق بتایا تھا۔
والدہ کے مطابق ان کے بیٹے نے بتایا تھا کہ ایک دن ڈیوٹی پر پہنچنے کے بعد پولیس آئی اور انھیں اپنے ساتھ لے گئی۔
خاندان کے مطابق جیل جانے کے بعد وہ تقریباً ہر ہفتے مختصر فون کال پر گھر والوں سے بات کرتے تھے اور اسی دوران انھوں نے خاتون کے ساتھ رومانوی تعلقات کا ذکر بھی کیا تھا۔
سزائے موت پر عملدرآمد سے تین دن قبل، یعنی اتوار کو، انھوں نے آخری بار اپنے گھر والوں سے بات کی تھی۔
والدہ کے مطابق ’شروع میں زبان کی وجہ سے میرا بیٹا اپنی بات سمجھا نہیں سکا۔ ہم ایجنٹ کے پاس گئے تو انھوں نے کہا کہ سعودی عرب پہنچانے کے بعد ان کی کوئی ذمہ داری نہیں رہتی۔‘
مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ سزائے موت پانے والے نوجوان کی عمر تقریباً 22 سال تھی۔ ان کے والد پہلے دوسروں کی زمینوں پر مزدوری کرتے تھے لیکن عمر بڑھنے کے باعث اب کام نہیں کر سکتے۔
خاندانی غربت کے باعث اس شخص کو ایک ایجنٹ کے ذریعے بیرونِ ملک بھیجا گیا تھا، لیکن سعودی عرب پہنچنے کے چھ ماہ بعد ہی 2023 میں انھیں حراست میں لے لیا گیا۔
بنگلہ دیشی حکام کا کیا کہنا ہے؟
اس معاملے پر ڈھاکہ نے سعودی سفیر کو بھی طلب کیا تھادوسری جانب بنگلہ دیش کی وزیرِ مملکت برائے خارجہ شمع عبید نے کہا ہے کہ سزائے موت پر عملدرآمد کی خبر سامنے آنے کے بعد بنگلہ دیش کی حکومت نے دو روز قبل سعودی حکومت کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں سزائے موت پانے والے بنگلہ دیشی شہریوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ حکومت اس وقت فیصلے کی نقل موصول ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔
اس واقعے کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو ڈھاکہ میں سعودی سفیر عبداللہ بن جعفر کو بھی طلب کیا تھا۔
بنگلہ دیشی وزیرِ مملکت کے مطابق بنگلہ دیش کے جو افراد کام کے لیے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں، سعودی عرب ان کے لیے ایک مرکزی منزل ہوتی ہے، اور وہاں روزگار کمانے والے بنگلہ دیشی ملک کے لیے ترسیلاتِ زر کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔
شمع عبید نے کہا کہ سعودی عرب میں ’چار لاکھ سے زیادہ بنگلہ دیشی شہری موجود ہیں اور ان کی حفاظت یقینی بنانا ہماری ذمہ داری ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا: ’سعودی عرب کے مختلف شہروں میں بہت سے بنگلہ دیشی شہری سزائیں کاٹ رہے ہیں۔ سعودی حکام وقتاً فوقتاً ہمیں فہرستیں بھیجتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کس شخص کو کب اور کن حالات میں گرفتار کیا گیا۔‘
’ہم یہ جانچ رہے ہیں کہ آیا ان دونوں کے نام ان فہرستوں میں شامل تھے یا نہیں۔ ہمیں خاندانوں سے بھی ایسی معلومات موصول نہیں ہوئی تھیں۔ ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ یہ واقعہ 2023 میں پیش آیا تھا اور انھیں اسی سال گرفتار کیا گیا تھا۔‘
ہمایوں کبیر بھی بنگلہ دیش میں وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور ہیں۔ انھوں نے اس واقعے کو اپنے ملک کے لیے ’بدقسمتی‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت سنائے جانے کی خبر موصول ہونے کے بعد بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے ڈھاکہ میں سعودی سفارت خانے سے رابطہ کیا۔
ہمایوں کبیر کے مطابق: 'دونوں ممالک نے جنیوا کنونشن پر دستخط کر رکھے ہیں۔ اگر ہم کسی سعودی شہری کو کسی فوجداری مقدمے میں گرفتار کریں تو سعودی حکام کو ضرور اطلاع دیں گے۔ اس شخص کو قونصلر خدمات حاصل کرنے کا حق ہو گا۔
'اسی طرح ہم توقع کرتے ہیں کہ سعودی عرب یا کوئی بھی دوسرا ملک ہمارے کسی شہری کو حراست میں لینے کی صورت میں ہمیں آگاہ کرے گا۔'
دوسری جانب بنگلہ دیش کے اپوزیشن رہنما اور جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر حکومت کو سزا پر عمل درآمد کے بعد اس معاملے کا علم ہوا تو پھر سفارت خانے اور قونصل خانے کا کردار کیا تھا۔
بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب سے اس کیس کے متعلق تفصیلات طلب کی ہیںشفیق الرحمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر طویل پوسٹ میں لکھا: ’بیرونِ ملک مقیم شہریوں اور قومی وقار اور مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف ممالک میں ہمارے سفارت خانے اور قونصل خانے موجود ہیں۔‘
’یہ جاننا ضروری ہے کہ جب ان دونوں افراد کے خلاف عدالتی کارروائی جاری تھی تو اس دوران ہمارے سفارت خانے یا قونصل خانے کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔‘
’یہ سوال بنگلہ دیشی حکام کے بیانات سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ ان کے مطابق انھیں اس معاملے کا علم سزا پر عمل درآمد کے بعد ہوا۔‘
’بلا شبہ ہر ملک اپنے قوانین کے تحت عدالتی عمل مکمل کرتا ہے، لیکن چونکہ یہ دونوں بنگلہ دیشی شہری تھے اور معاملہ سزائے موت کا تھا، اس لیے حکومت کو عوام کے سامنے واضح کرنا چاہیے کہ سفارت خانے نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں یا نہیں۔‘
’یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ اگر بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشیوں کے درمیان اس نوعیت کے واقعات پیش آئیں تو حکومت یا سفارت خانے ان کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔‘
برطانیہ میں مقیم بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر ریحان رشید کا کہنا ہے کہ وزیرِ مملکت کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزارتِ خارجہ کو گذشتہ تین برس سے ان دونوں کی گرفتاری کا علم تھا۔
بی بی سی بنگلہ سے گفتگو میں انھوں نے کہا: ’گرفتاری کے فوراً بعد معلومات جمع کرنا اور ضروری اقدامات کرنا سفارت خانے کی ذمہ داری تھی۔ تین سال تک متعلقہ حکام نے خاندان سے رابطہ نہیں کیا۔‘
’فہرستیں موصول ہونے کے باوجود سفارت خانے نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ کسی بھی غیر ملکی شہری کی گرفتاری کے ساتھ ہی اس کے قونصلر حقوق کا آغاز ہو جاتا ہے اور انھیں قونصلر معاونت حاصل کرنے کا حق ہوتا ہے۔‘