ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاکت اور اسلام آباد کی طالبہ لائبہ اعجاز کے فراڈ کیس میں گرفتار دو مرکزی ملزمان کی مبینہ پولیس مقابلوں میں موت نے ملک بھر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا پر بعض افراد ان واقعات کو فوری انصاف قرار دے رہے ہیں، جبکہ قانونی ماہرین اور صحافیوں نے پولیس کے طریقہ کار اور عدالتی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔
ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں 19 اکتوبر کو پیش آنے والے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک کم عمر لڑکے کو گاڑی سے بچنے کے لیے بھاگتے دیکھا گیا، تاہم گاڑی کی ٹکر سے وہ جان کی بازی ہار گیا۔
مقتول کی شناخت وسیم عباس کے نام سے ہوئی، جو اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ یتیم خانے میں رہتا تھا اور الیکٹریشن کا کام سیکھ رہا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق لڑکے کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور وہ جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس نے توقیر نذیر نامی شخص کو گرفتار کیا، جسے عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ تاہم اگلے ہی روز کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے اطلاع دی کہ ملزم پولیس تحویل سے فرار ہونے کے بعد بہاولپور بائی پاس کے قریب مبینہ مقابلے میں مارا گیا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ توقیر اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کا نشانہ بنا۔
اسی دوران اسلام آباد میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کے مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم نعمان بھی فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہوگیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کو برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اسے چھڑانے کی کوشش میں فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
نعمان پر الزام تھا کہ اس نے لائبہ اعجاز کو امریکا کے اسٹوڈنٹ ویزے کا جھانسہ دے کر لاکھوں روپے ہتھیائے تھے۔ تحقیقات کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کی مدد سے جعلی دستاویزات تیار کیں اور دوسرے افراد کی شناخت استعمال کرکے طالبہ سے رابطہ رکھا۔ پولیس نے اس کے خلاف دیگر خواتین سے فراڈ اور ہراسانی کے الزامات کی بھی تحقیقات شروع کی تھیں۔
دونوں ملزمان کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے اسے متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری انصاف قرار دیا۔ مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے بھی توقیر کی ہلاکت کو فوری انصاف سے جوڑتے ہوئے ایک پوسٹ کی، جسے بعد میں حذف کر دیا گیا۔
دوسری جانب صحافیوں اور قانونی ماہرین نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی ملزم کے جرم کا فیصلہ عدالت کا کام ہے۔ ان کے مطابق پولیس تحویل میں موجود افراد کی اس طرح ہلاکت نہ صرف تفتیش کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ قانون کی حکمرانی اور شفاف انصاف کے حوالے سے بھی سوالات پیدا کرتی ہے۔
ان واقعات نے ایک اہم سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کو انصاف کہا جا سکتا ہے یا اصل انصاف وہ ہے جس میں مکمل تحقیقات، شواہد اور عدالتی کارروائی کے بعد مجرم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے؟
فی الحال دونوں واقعات میں پولیس کے بیان کردہ حالات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ مبینہ مقابلوں کی شفاف تحقیقات اور اصل حقائق سامنے لانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔