وزیراعظم شہباز شریف نے خبردار کیا ہے کہ پانی پاکستان کی بقا اور زندگی کا بنیادی ذریعہ ہے بھارت کی جانب سے پانی روکنے کی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
مالدیپ کے صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے بھارتی اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر قانونی طور پر پابند معاہدوں کی پاسداری ناگزیر ہے اور پانی جیسے بنیادی وسیلے کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
دریں اثنا، پاکستان اور مالدیپ کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں دونوں ممالک نے باہمی تجارت کا حجم آئندہ دو سال میں 13 ملین ڈالر سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 11 سال کے وقفے کے بعد مالدیپ کے صدر کا دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اہم سنگِ میل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالدیپ کے صدر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اقتصادی تعاون، دفاع اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ شراکت داری کو وسعت دینے کے امور پر مثبت اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ تجارتی روابط مضبوط بنانے اور دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں گے۔ پاکستان مالدیپ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ مالدیپ کے متعدد طلبہ پاکستانی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی ڈاکٹرز اور معاون طبی عملہ مالدیپ میں طبی خدمات فراہم کرکے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک باہمی تعاون کو مزید وسعت دے کر مختلف شعبوں میں تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔