پاکستان میں قتل، ریپ یا بچوں کے جنسی جرائم سے متعلق مقدمات میں مبینہ طور پر ملوث ملزمان کا ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونا‘ ایک معمول بنتا نظر آتا ہے۔ لائبہ اعجاز اور وسیم عباس کے کیسز نے ایک بار پھر اس رجحان پر سوالات اٹھائے ہیں، جسے انسانی حقوق کے کارکن مشکوک قرار دیتے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اسے قانونی کارروائی کا حصہ بتاتے ہیں۔
پاکستان میں قتل، ریپ یا بچوں کے ساتھ جنسی جرائم سے متعلق مقدمات میں زیر حراست ملزمان کا ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہونا‘ بظاہر ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔
اس کی تازہ مثالیں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اُس وقت دیکھنے میں آئیں جب اسلام آباد میں مبینہ ویزا فراڈ کا نشانہ بننے والی 23 سالہ طالبہ لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم محمد نعمان وفاقی دارالحکومت میں، جبکہ مبینہ طور پر اپنی گاڑی سے کم عمر لڑکے کو کچلنے کے ملزم توقیر نذیر ملتان میں، مشکوک حالات میں ’اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک‘ ہو گئے۔
ان دونوں واقعات میں اسلام آباد پولیس اور پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یہ دعوے سامنے آیا کہ زیر حراست ملزمان مبینہ فرار کی کوشش کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے، جبکہ دوسری جانبحکومتی شخصیات اِن واقعات کے بعد ’وعدہپورا کرنا‘ اور ’فوری انصاف‘ جیسے دعوے کرتی نظر آئیں۔
اسلام آباد میں ملزم محمد نعمان کی ہلاکت کے بعد وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بدھ کی دوپہر لائبہ اعجاز کے گھر پہنچے اور وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق نقوی نے متاثرہ اہلخانہ کو بتایا کہ ’لائبہ اعجاز کیس میں پوری ٹیم نے دن رات محنت کی۔ آپ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا ہمارا فرض تھا۔‘
دوسری جانب ملتان میں ملزم توقیر نذیر کی ہلاکت کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن کی رُکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے اِس خبر کے سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’یہ مریم نواز صاحبہ کی حکومت ہے، یہاں فوری انصاف ملتا ہے۔‘
تاہم حنا پرویز بٹ اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے اب یہ پوسٹ ڈیلیٹ کر چکی ہیں۔ بی بی سی نے اُن سے رابطے کی کوشش کی تاہم اُن کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
10 اکتوبر کو اسلام آباد میں لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے بعد سے یہ کیس مسلسل مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیرِ بحث رہا ہے، اور یہی صورتحال 19 اکتوبر کو ملتان میں کم عمر لڑکے وسیم عباس کی موت کی خبر کے حوالے سے رہی۔
تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مقامی و سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کرنے والے کسی سنگین نوعیت کے مقدمے میں ملزم کی گرفتاری کے فوراً بعد اُس کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی ہو۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ماضی میں بچوں اور خواتین کے خلاف جنسی جرائم، ریپ اور تشدد کے متعدد مقدمات میں بھی بظاہر ایسا ہی پیٹرن دیکھنے میں آیا ہے۔
ان واقعات میں پولیس یا کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) عموماً یہ مؤقف اختیار کرتے نظر آئے کہ مبینہ طور پر ملزم کے ساتھی اسے چھڑوانے کے لیے آئے، اس موقع پر فائرنگ ہوئی اور ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے رواں برس فروری میں اس حوالے سے ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ بھی جاری کی تھی جس میں سنہ 2025 کے آٹھ ماہ کا احاطہ کیا گیا تھا۔
اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس آٹھ ماہ کے عرصے کے دوران پنجاب میں 670 پولیس مقابلوں میں 924 ملزمان مشکوک حالات میں مارے گئے، جبکہ ان کارروائیوں میں دو پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے۔
ایچ آر سی پی کی جانب سے جاری کی گئی اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے مبینہ مقابلوں کی ایک دانستہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو بہت سے معاملات میں ماورائے عدالت ہلاکتوں پر منتج ہوتی ہے، اور یہ صورتحال صوبے میں قانون کی حکمرانی اور آئینی تحفظات کو بنیادی طور پر کمزور کرتی ہے۔
تاہم کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے اس فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ادارے کے افسران کو یہ واضح ہدایات ہیں کہ کوئی بھی ماورائے آئین اقدام نہ کیا جائے اور یہ کہ کسی بھی خلاف قانون اقدام کے خلاف ادارے میں ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی ہے۔
سی سی ڈی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس ادارے کے قیام کے بعد پنجاب میں سنگین نوعیت کے جرائم میں 70 فیصد کمی جبکہ پنجاب میں قتل کے مقدمات میں 35 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
کیا عوامی توجہ سنگین مقدمات پر اثر انداز ہوتی ہے؟
پاکستان میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے اور شخصیات زیر حراست ملزمان کی ایک جیسے حالات میں ہلاکتوں کو شکوک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر جب کوئی مخصوص کیس توجہ حاصل کر لیتا ہے، تو عموماً گرفتار ملزمان کے حوالے سے اسی نوعیت کی صورتحال دیکھنے میں آتی ہے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) سے منسلک ماہین پراچہ نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ اگر روایتی میڈیا اور سوشل میڈیا کی بات کی جائے تو لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ’لوگ اس نوعیت کے ماورائے عدالت اقدامات کی تنقید کرنے کے بجائے خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔‘
ایچ آر سی پی نے ملتان میں کم عمر لڑکے کی ہلاکت اور بعدازاں ملزم کی مشکوک حالات میں ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں ایچ آر سی پی نے کہا کہ ’ماورائے عدالت ہلاکتیں نہ صرف منصفانہ قانونی کارروائی کے حق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ متاثرین اور ان کے اہلِخانہ کو سچائی اور انصاف حاصل کرنے کے موقع سے بھی محروم کر دیتی ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ’ایسے واقعات کو جرائم پر قابو پانے کا قابلِ قبول طریقہ سمجھنا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ جوابدہی کے بغیر انتقام کو انصاف پر ترجیح دی جا رہی ہے۔ ہم اس معاملے کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کی ہر شکل کے خاتمے پر زور دیتے ہیں۔‘
جب اسلام آباد کے ایس ایس پی آپریشنر قاضی علی رضا سے اس نوعیت کے شکوک و شبہات سے متعلق سوال کیا گیا، تو اُن کا کہنا تھا کہ ’پولیس مقابلے کوئی نئی بات نہیں، بلکہ ایک معمول کی کارروائی ہے۔‘
انھوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ پولیس سوشل میڈیا، کسی ٹرینڈ یا کسی اور دباؤ کے زیر اثر کام کرتی ہے۔
بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’پولیس کسی بھی معاملے میں سوشل میڈیا پر چلنے والے ٹرینڈ یا گفتگو کے زیر اثر نہیں آتی، بلکہ تمام مقدمات میں تفتیش اور کارروائی قانون کے مطابق ہوتی ہے۔‘
حالیہ کیس پر بات کرتے ہوئے ایس ایس پی آپریشنز کا کہنا تھا کہ ملزم نعمان کو چھڑانے کے لیے اس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر جو فائرنگ کی ’وہ کوئی پہلے سے طے شدہ منصوبہ نہیں تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ اس واقعے میں پولیس اہلکار اس لیے محفوظ رہے کیونکہ انھوں نے بلٹ پروف جیکٹس پہن رکھی تھیں۔
اسی طرح کا مؤقف سی سی ڈی پنجاب کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے بھی ملزم توقیر نذیر کی ہلاکت پر اپنایا۔
بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’پولیس کسی بھی مقدمے کی تفتیش سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث کو سامنے رکھتے ہوئے نہیں کرتی۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ سی سی ڈی مقدمات کی تفتیش ’اپنے معیار‘ کے تحت کرتی ہے، جن میں کرائے کے قاتلوں کے ذریعے ہونے والے قتل، غیرت کے نام پر قتل، بچوں اور خواتین کے خلاف ایسے جرائم، جس سے معاشرے میں خوف و ہراس پیدا ہو، شامل ہیں۔
سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے کو اس سے ’کوئی سروکار نہیں ہے کہ سوشل میڈیا یا میڈیا پر کسی واقعے کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے۔‘
تاہم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی عہدیدار ماہین پراچہ اس نوعیت کی مشکوک کارروائیوں کو ’انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ‘ قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’لائبہ اعجاز کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ایک اچھا موقع تھا کہ وہ اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچاتے اور معصوم افراد کو لوٹنے والے گینگ کو بےنقاب کرتے، لیکن بظاہر ایسا نہیں کیا گیا۔‘