ترکی کی حالیہ خارجہ اور سکیورٹی پالیسی میں سب سے نمایاں تبدیلی مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک کے ساتھ مختلف اتحادوں اور تعاون کے نظاموں کا قیام ہے۔ انقرہ اپنی خارجہ پالیسی کے اس تصورکو ’علاقائی ملکیت‘ کا نام دیتا ہے لیکن اس کا مقصد کیا ہے؟
صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے 7 اگست کو مشترکہ طور پر مکہ اتحاد کا اعلان کیا تھا۔ترکی کی حالیہ خارجہ اور سکیورٹی پالیسی میں سب سے نمایاں تبدیلی مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک کے ساتھ مختلف اتحاد اور تعاون کے نظاموں کا قیام ہے۔
انقرہ نے اپنی خارجہ پالیسی کے اس تصور کے تحت، جسے وہ ’علاقائی ملکیت‘ کا نام دیتا ہے، مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے کئی ادارہ جاتی اقدامات کیے ہیں۔
ترکی نے پہلے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ مکہ اتحاد کے قیام میں فعال کردار ادا کیا، جبکہ بعد ازاں قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے ساتھ ’بدر‘ اتحاد کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
انقرہ کا مقصد ان نئے اقدامات کے ذریعے ایک جانب مشرق وسطیٰ میں ایک نئی علاقائی سکیورٹی ساخت تشکیل دینا ہے، جبکہ دوسری جانب اپنی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دفاعی صنعت کے لیے نئی منڈیاں اور خریدار تلاش کرنا بھی اس کی ترجیحات میں شامل ہے۔
’علاقائی ملکیت‘ کی پالیسی کیا ہے؟
ترکیہ نے ’علاقائی ملکیت‘ کے نام سے اپنی نئی پالیسی پر عمل درآمد خاص طور پر جون 2023 میں ہاکان فیدان کے وزیر خارجہ بننے کے بعد شروع کیا۔
وزیر خارجہ ہاکان فیدان اپنے بیانات میں کہتے رہے ہیں کہ علاقائی مسائل کا بہترین حل یہ ہے کہ خطے کے ممالک خود باہمی تعاون کے نظام اور اتحاد قائم کریں۔
فیدان کے مطابق جب بیرونی بڑی طاقتیں خطے کے معاملات میں مداخلت کرتی ہیں تو عدم استحکام مزید بڑھ جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ترکی ’علاقائی ملکیت پر مبنی ایک علاقائی سکیورٹی نظام‘ کی تشکیل پر کام کر رہا ہے۔ اگست میں ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ علاقائی ملکیت کو مضبوط بنانا ضروری ہے، کیونکہ باہر سے آنے والی بالادست طاقتیں خطے کے مسائل حل نہیں کرتیں بلکہ انھیں مزید سنگین بنا دیتی ہیں، اور اس کی قیمت بہت زیادہ چکانا پڑتی ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی، اقتصادی استحکام، ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے زیادہ ادارہ جاتی اور منظم ڈھانچوں کی طرف جانا ہوگا۔‘
2023 سے اب تک صدر رجب طیب اردوغان کی سربراہانِ مملکت کی سطح پر اور ہاکان فیدان کی وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں رواں سال تین اہم علاقائی تعاون کے نظام قائم کیے گئے ہیں۔
- آر 4 (علاقائی چار ملکی گروپ): ترکیہ، مصر، پاکستان اور سعودی عرب۔
- مکہ اتحاد: ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب۔
- بدر اتحاد: ترکیہ، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا۔
پہلا میکانزم آر 4
ترکی کے علاقائی تعاون کے نظام ’آر 4‘ کا مقصد کیا ہے؟
ترکی کی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق آر 4 (علاقائی چار ملکی گروپ) کو ’علاقائی ملکیت‘ کے تصور کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے، جس کا مقصد پائیدار استحکام کی حمایت کرنا اور علاقائی مسائل پر مکالمے کو فروغ دینا ہے۔
اس فورم میں ترکی، مصر، پاکستان اور سعودی عرب شامل ہیں۔
آر 4 کے وزرائے خارجہ کا پہلا اجلاس 18 مارچ 2026 کو ریاض میں ہوا تھا۔ اس کے بعد سے وہ اب تک چھ مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔
سب سے حالیہ ملاقات 21 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر نیویارک میں ہوئی تھی۔
اب 23 اکتوبر کو استنبول میں آر 4 کے وزرائے خارجہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ پر مشتمل ای 3 گروپ کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کریں گے۔
اس اجلاس میں پہلی بار آر 4 اور ای 3 کے رکن ممالک ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں گے۔ اس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ اور یورپ سے متعلق اہم امور پر تبادلۂ خیال اور مختلف فریقوں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔
استنبول اجلاس کے نتائج کی بنیاد پر مستقبل میں آر 4 پلس ای 3 فارمیٹ کے تحت باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
وزیر خارجہ حاقان فیدان حالیہ عرصے میں اپنے یورپی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتوں میں اس بات پر بھی تبادلۂ خیال کر رہے ہیں کہ ’علاقائی ملکیت‘ کے تصور کو یورپ سے متعلق مسائل کے حل میں کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے 5 اکتوبر کو ریاض میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقات کی تھیمصر مکہ اتحاد میں شامل نہیں ہوا
سیاسی مشاورت پر مبنی آر 4 میکانزم کے تین رکن ممالک، ترکی، پاکستان اور سعودی عرب نے 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے اور ’مکہ اتحاد‘ کے نام سے معروف دفاعی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا۔
مصر نے مکہ اتحاد میں شمولیت اختیار نہیں کی، تاہم بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق قطر، کویت اور بنگلہ دیش سمیت بعض دیگر ممالک نے اس اتحاد میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے ممکنہ نئی شمولیتوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا: ’یہ اتحاد ابتدا ہی سے توسیع کے مقصد کے تحت قائم کیا گیا ہے۔‘
ترک پارلیمان کی منظوری کے لیے بھیجے گئے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے مطابق اتحاد میں نئے ممالک کی شمولیت کا فیصلہ ’بنیادی فریقین‘ یعنی ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کریں گے۔
16 دفعات پر مشتمل اس معاہدے کی سب سے اہم شق یہ سمجھی جا رہی ہے کہ اتحادی ممالک میں سے کسی ایک پر ہونے والا بیرونی مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملے کے مترادف تصور کیا جائے گا۔
اس شق کا موازنہ اکثر نیٹو کے آرٹیکل 5 سے کیا جا رہا ہے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعلقات کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے اور حاقان فیدان کے بیان کردہ نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔
دفاعی صنعت، ریڈار، مواصلاتی نظام اور فوجی الیکٹرانکس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنی اسیلسان (ASELSAN)، تقریباً 32 ارب ڈالر کی مارکیٹ ویلیو کے ساتھ ترکی کی سب سے زیادہ مالیت رکھنے والی کمپنی ہے۔کیا مکہ اتحاد کا اثر بڑھے گا؟
ترکی نے مکہ اتحاد کے ذریعے یورپ اور بحرِ اوقیانوس کے ممالک کے ساتھ قائم اپنے سکیورٹی تعلقات کی طرز پر مشرقِ وسطیٰ میں بھی ایک نئے دفاعی فریم ورک کی بنیاد رکھنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے۔
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ مکہ اتحاد کسی مخصوص ملک، خصوصاً اسرائیل، کے خلاف نہیں بنایا گیا۔ ان کے مطابق اس اتحاد کا مقصد نیٹو کی طرح اجتماعی دفاع اور بازدار قوت (Collective Deterrence) کے اصول کو مضبوط بنانا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس اتحاد کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ، ایران کے ساتھ کشیدگی کے باوجود، مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کم کرنے کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ آیا مستقبل میں مکہ اتحاد کے رکن ممالک خطے میں زیادہ مؤثر اور بااثر کردار ادا کر سکیں گے یا نہیں۔
سعودی عرب اب تک یمن سے تعلق رکھنے والے حوثی گروہ کے حملوں کو مکمل طور پر روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ تاہم مکہ اتحاد کے قیام کے باوجود ابھی تک سعودی عرب کو اس اتحاد کے رکن ممالک کی جانب سے کوئی عملی یا براہِ راست فوجی مدد فراہم نہیں کی گئی۔
ترکی کی وزارتِ دفاع نے گذشتہ ہفتے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب کو ممکنہ فوجی معاونت کا معاملہ مکہ اتحاد سے متعلق معاہدے کی ترک پارلیمان (ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی) سے منظوری کے بعد زیرِ غور آ سکتا ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو مکہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے اجتماعی دفاعی ڈھانچے کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس میں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب مرکزی کردار ادا کریں گے۔
بدر مفاہمتی یادداشت پر 21 اکتوبر کو دوحہ میں دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے پر ترکی کی دفاعی صنعت کے سربراہ حلوک گورگون، ترکیہ کے وزیرِ دفاع یشر گولر، قطر کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن بن حسن آل ثانی، پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف اور انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع یوسف جواہری نے دستخط کیے۔ترکی کا تازہ ترین اقدام: بدر اتحاد
ترکی کے خطے کے ممالک کے ساتھ دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعلقات کا ایک اہم ستون دفاعی صنعت میں تعاون بھی ہے۔
مکہ اتحاد کی اہم شقوں میں رکن ممالک کے درمیان دفاعی صنعت کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا بھی شامل ہے۔
21 اکتوبر کو دوحہ میں ترکی، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے دفاع کی جانب سے دستخط کیے گئے بدر مفاہمتی یادداشت کا مقصد نہ صرف فوجی تعاون کو مضبوط بنانا ہے بلکہ دفاعی صنعت کے میدان میں صلاحیتوں اور وسائل کو یکجا کرنا بھی ہے۔
ترکی کی وزارتِ دفاع نے 22 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ ’اس مفاہمتی یادداشت کے ذریعے دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد، تحقیق و ترقی کی سرگرمیوں میں اضافہ، بنیادی ڈھانچے اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا، مشترکہ پیداواری صلاحیت کو فروغ دینا اور ممالک کے درمیان طویل المدت اور پائیدار تزویراتی شراکت داری قائم کرنا مقصود ہے۔‘
وزارتِ دفاع نے مزید کہا ’مکہ دفاعی اتحاد اور بدر مفاہمتی یادداشت ہمارے ملک کے بین الاقوامی اثر و رسوخ اور سٹرٹیجک تعاون کے عملی مظاہر ہیں۔ یہ مفاہمت علاقائی اور عالمی امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ میں معاون ثابت ہوگی۔‘
بدر اتحاد میں شامل ممالک نے ترکی کے پہلے مقامی جنگی طیارے کان منصوبے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ انڈونیشیا اور پاکستان اس حوالے سے پہلے ہی ترکی کے ساتھ بعض مفاہمتی دستاویزات پر دستخط کر چکے ہیں۔
ترکی اس اتحاد کے ذریعے اپنی دفاعی صنعت کو مزید وسعت دینا، مشترکہ پیداوار اور مشترکہ دفاعی منصوبوں کو فروغ دینا، اور رکن ممالک کے درمیان صنعتی و عسکری تعاون کو مزید گہرا کرنا چاہتا ہے۔