’فینٹانائل‘ گھریلو ساختہ نئی مصنوعی منشیات جس کا بحران کہیں زیادہ خطرناک ہے: ’اب آپ کو پتا ہی نہیں ہوتا کہ منشیات میں ہے کیا‘

امریکہ میں فینٹانائل سمیت نئی مصنوعی منشیات کے پھیلاؤ نے نشے کا بحران مزید سنگین کر دیا ہے۔ ان منشیات کے خطرناک اثرات سے نمٹنے کے لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسمگلنگ روکنے کے ساتھ نشے کے عادی افراد کے علاج اور بحالی پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔

انتباہ: اس رپورٹ کے آغاز ہی میں منشیات کے استعمال کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور اس میں خودکشی کا ذکر بھی شامل ہے۔

امریکی ریاست اوہائیو کے شہر کولمبس کے علاقے لنڈن کی ایک تنگ گلی میں 48 سالہ مائیک جھک کر بیٹھے ہیں۔ وہ فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کے ہونٹوں کے درمیان ایک تنکا نما چھوٹا سا پائپ یا سٹرا ہے، جس کے نیچے چمکدار ورق رکھا ہوا ہے۔ ورق پر فینٹانائل کے چند ذرات ہیں، جبکہ اسے گرم کرنے کے لیے اس کے نیچے مائیک نے لائٹر جلا رکھا ہے۔

(فینٹانائل ایک انتہائی طاقتور مصنوعی درد کُش دوا ہے جسے نشے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔)

مائیک کہتے ہیں کہ ’بدقسمتی سے یہ نشہ انسان سے تقریباً کچھ بھی کروا سکتا ہے۔‘

وہ جس مقدار میں نشہ کر رہے ہیں، اس کی قیمت تین یا چار ڈالر ہے۔

مائیک کہتے ہیں کہ ’آپ ناک کے ذریعے اتنی زیادہ مقدار میں نشہ کر سکتے ہیں کہ پھر اس عمل سے واپسی مُمکن نہیں۔ یہ سب گولی لگنے کے جیسا ہے۔ جیسے کہ اگر آپ کو گولی لگ جائے تو اس کے بعد کُچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہتا۔‘

وہ لائٹر سے ورق کو گرم کرتے ہیں اور اس سے اٹھنے والا دھواں سانس کے ساتھ اپنے اندر کھینچتے ہیں۔ نشے کا اثر ہونے لگتا ہے تو وہ پیچھے لگی باڑ کو مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں۔ ان کا جسم ڈولنے لگتا ہے اور گلے سے دھیمی سی آواز نکلتی ہے، جیسے وہ کوئی دھن گنگنا رہے ہوں۔

ہم نے مائیک کے ساتھ کئی دن گزارے ہیں۔ وہ ہمیں علاقے کی تنگ گلیوں میں لے کر گھومتے رہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہاں ہر کوئی انھیں جانتا ہے اور لوگ انھیں پسند بھی کرتے ہیں۔ وہ ایک مقامی دکان اور پیٹرول پمپ پر کام میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔ اس کام سے ملنے والی رقم وہ گذشتہ 20 سال سے جاری اپنے نشے کی لت پوری کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

مصنوعی اوپیئڈز منشیات کی ایک ایسی قسم ہے کہ جو جسم میں درد کم کرنے کے لیے کام کرنے والے نظام پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اب یہ منشیات پہلے سے زیادہ طاقتور ہیں اور بڑی مقدار میں دستیاب ہیں۔ ان کی وجہ سے امریکہ میں منشیات کے استعمال کی صورتِ حال بھی بدل گئی ہے۔

ان میں فینٹانائل بھی شامل ہے، جو مکمل طور پر مصنوعی طریقے سے تیار کی جاتی ہے۔ اس کا اثر ہیروئن کے مقابلے میں 50 سے 100 گنا زیادہ طاقتور ہو سکتا ہے۔ ہیروئن پوست کے پودے سے حاصل کی جاتی ہے۔

اب فینٹانائل میں اکثر جانوروں کو پُرسکون کرنے کے لیے استعمال ہونے والی مصنوعی ادویات بھی ملائی جاتی ہیں۔ ان ادویات کی موجودگی میں نشے کی زیادہ مقدار لینے والے شخص کو دوبارہ ہوش میں لانا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

یہ مصنوعی منشیات اس قدر خطرناک ہو سکتی ہیں کہ ان کے مختلف مرکب امریکہ میں گھروں کے تہہ خانوں اور باتھ ٹبوں تک میں تیار کیے جا رہے ہیں۔

ہم اپنی جیبوں میں ’نالوکسون‘ نامی دوا رکھتے ہیں، جو ’نارکن‘ کے نام سے بھی دستیاب ہے۔ یہ دوا اس صورت میں کام آ سکتی ہے جب ہماری ٹیم کا کوئی فرد فینٹانائل سے متاثر ہو جائے یا ہمارے آس پاس کوئی شخص منشیات کی زیادہ مقدار لینے کے باعث بے ہوش ہو جائے۔

یہ ناک میں چھڑکنے والا سپرے ہے جو اوپیئڈ منشیات کی زیادہ مقدار کے اثرات کو فوری طور پر ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ امریکہ میں اس دوا کا بڑے پیمانے پر استعمال شروع ہونے سے منشیات کی زیادہ مقدار لینے کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

سنہ 2022 میں امریکہ میں منشیات کی زیادہ مقدار لینے کے باعث تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر اموات اوپیئڈ منشیات کے سبب ہوئیں۔ اس کے بعد سے یہ تعداد کم ہو رہی ہے اور گذشتہ سال تقریباً 70 ہزار رہ گئی۔ تاہم، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اوپیئڈ منشیات کا بحران ختم ہو گیا ہے۔

ممکن ہے کہ میری جیب میں موجود یہ دوا مائیک پر اثر نہ کرتی، حالانکہ انھوں نے منشیات استعمال کرنے والے دسیوں ہزار افراد کی جان بچائی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مائیک صرف فینٹانائل استعمال نہیں کر رہے تھے۔

ان کی دودھیا نیلی آنکھوں کی پتلیاں سکڑ کر سوئی کی نوک جتنی رہ جاتی ہیں۔ وہ گنگنانے جیسے انداز میں کہتے ہیں، ’اوپیئڈ منشیات کے استعمال سے آنکھوں کی پتلیاں سکڑ جاتی ہیں، لیکن اتنی زیادہ نہیں۔‘ فینٹانائل اپنے طور پر ہی انتہائی خطرناک ہے، لیکن اس میں اب دوسری مصنوعی منشیات بھی ملائی جا رہی ہیں۔

جب ہم نے مائیک سے پوچھا کہ ان کے خیال میں ان کی استعمال کردہ منشیات میں کون سے مادے ملائے گئے ہیں تو انھوں نے جواب دیا ’زائلازین اور وہ دوسرا مادہ جس کا نام ہم سے بولا بھی نہیں جاتا۔‘

ان کا اشارہ میڈیٹومیڈین نامی مادے کی طرف تھا۔ زائلازین کی طرح اسے بھی ’ٹرانک‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں مصنوعی سکون آور ادویات ہیں جو جانوروں کو بے ہوش کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ نشے سے بحالی کے شعبے کے ایک ماہر نے انھیں ’بڑے جانوروں کو بے ہوش کرنے والی ادویات‘ قرار دیا۔

یہ ادویات فینٹانائل کے نشے کا اثر زیادہ دیر تک برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں، لیکن یہ سانس کی رفتار بھی سست کر دیتی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ نالوکسون ان کے اثرات ختم نہیں کر سکتی۔ زائلازین جلد پر ایسے گہرے زخم بھی پیدا کر سکتی ہے جن میں جلد کے ٹشوز گلنے سڑنے لگتے ہیں۔ یہ زخم ہڈی تک پہنچ سکتے ہیں اور ان کا علاج کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔

نشے سے بحالی کی امید دینے والا گروپ

شہر کے دوسری جانب واقع گلین وُڈ چرچ میں ’ہوپ ڈیلر کمیونٹی‘ نامی گروپ کے ارکان اپنے ہفتہ وار اجلاس کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ یہ گروپ نشے کی لت سے نکلنے کی کوشش کرنے والے افراد کی مدد کرتا ہے۔

ان میں سے بہت سے لوگوں کے چہروں پر زندگی کی مشکلات کے آثار نمایاں ہیں اور ان کی آنکھوں سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ زندگی میں بڑے بڑے مُشکل حالات کا سامنا کر چُکے ہیں۔

وہ چرچ کے سامنے بنے سٹیج پر آتے ہیں اور بے باکی اور حوصلے کے ساتھ اپنی کہانیاں بیان کرتے ہیں، جن میں ان کے تلخ تجربات بھی شامل ہیں۔

ایک فرد نے جولائی 2022 میں منشیات کی زیادہ مقدار لینے کا واقعہ سنایا، جس کے باعث ان کی جان خطرے میں پڑ گئی تھی۔ دو طبی امدادی کارکنوں نے انھیں بچانے کی کوشش کی۔ ان کے دونوں بازوؤں میں نالوکسون دینے کے لیے ڈرِپس لگی ہوئی تھیں۔ طبی کارکنوں نے اوپیئڈ منشیات کے اثرات ختم کرنے کے لیے انھیں تین بار دوا دی، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

ان میں سے ایک نے کہا ’بس، اب مُجھ سے اور نہیں ہو پا رہا میں انھیں ان کے حال پر چھوڑ رہا ہوں۔‘ لیکن دوسرے کارکن نے ایک بار اور کوشش کرنے پر اصرار کیا۔ یہی آخری کوشش اس شخص کی جان بچانے میں کامیاب رہی۔

مجمع لوگوں کی حوصلہ افزائی کے لیے آوازیں بلند کرتا ہے تو ٹونیا تقریر کرنے کے لیے آگے آتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح ان کے بھتیجے کی منشیات کی زیادہ مقدار لینے سے موت ہو گئی، جبکہ اسی وقت وہ خود بھی کریک کوکین کے نشے کی زیادتی کے اثرات سے گزر رہی تھیں۔ کریک کوکین ایک طاقتور نشہ آور مادہ ہے، جس میں فینٹانائل جیسی مصنوعی اوپیئڈ منشیات بھی ملائی گئی تھی۔

آنکھوں میں آنسو لیے ٹونیا کہتی ہیں کہ ’یہ محض قسمت نہیں ہے۔ مجھے یہاں ہونا ہی تھا۔‘

مجمع بلند آواز میں ان کی بات سے اتفاق کرتا ہے۔

کولمبس اور بعد میں شکاگو میں بھی ہم نے ایسے افراد کے بارے میں سنا جو کریک کوکین استعمال کرتے تھے اور ان کی منشیات میں فینٹانائل ملے ہونے کے باعث زیادہ مقدار لینے سے ہلاک ہو گئے۔ سڑکوں پر منشیات کے اس طرح کے نشے کو ’ہاٹ ڈوز‘ کہا جاتا ہے۔

’ہوپ ڈیلرز‘ نامی گروپ چلانے والے 65 سالہ سکاٹ سینڈرز بتاتے ہیں کہ ’گذشتہ 12 ماہ کے دوران کولمبس کے علاقے فرینکلن کاؤنٹی میں منشیات کی زیادہ مقدار لینے سے ہونے والی اموات میں سے 78 فیصد کا تعلق محرک منشیات سے تھا۔‘

سکاٹ کو نشہ چھوڑے تقریباً 10 سال ہو چکے ہیں۔ ساٹھ کی دہائی کے اوائل میں عمر کے اس شخص کا جسم مضبوط ہے اور وہ غیر معمولی توانائی کے مالک ہیں۔ جب وہ اجلاس میں موجود لوگوں سے ہاتھ اٹھانے کو کہتے ہیں کہ آیا ان میں سے کسی نے کبھی منشیات کی زیادہ مقدار لی ہے تو وہاں موجود زیادہ تر لوگ ہاتھ اٹھا دیتے ہیں۔

بعد میں سکاٹ مجھے بتاتے ہیں کہ ’بحران کی شکل بس بدل گئی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ محرک منشیات استعمال کرنے والے لوگ جب کریک کوکین خریدتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ انھیں وہی چیز مل رہی ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ انھیں کریک کوکین میں فینٹانائل یا اوپیئڈ منشیات کے دوسرے مرکبات ملا کر دیے جا رہے ہوتے ہیں، جس کے باعث وہ اس بات سے بے خبر رہتے ہوئے نشے کی زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکی ریاست اوہائیو میں سیاہ فام مردوں میں منشیات کی زیادہ مقدار لینے سے ہونے والی اموات میں درحقیقت اضافہ ہو رہا ہے۔

سکاٹ کی تنظیم امریکی ادارے ’سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن‘ (سی ڈی سی) کے ساتھ مل کر منشیات کے نمونے جمع کرنے کے ایک پروگرام پر کام کرتی ہے۔ اس پروگرام میں شامل افراد اپنی سرنجیں یا نشہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے پائپ لاتے ہیں، جن سے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں۔ بعد ازاں یہ نمونے شمالی کیرولائنا میں سی ڈی سی کی لیبارٹری بھیجے جاتے ہیں۔

اسی پروگرام کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ مائیک کا شبہ درست تھا اور غالباً وہ صرف فینٹانائل استعمال نہیں کر رہے تھے۔ ان کے لائے ہوئے منشیات کے نمونوں میں سے ایک میں میڈیٹومیڈین کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔

سکاٹ کہتے ہیں کہ ’سنہ 2026 میں منشیات کی صورتِ حال یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کریک کوکین خرید رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ ہمیں کئی مختلف قسم کے مادے مل رہے ہوتے ہیں۔ اب منشیات میں صرف دوسرے مادے ملائے ہی نہیں جاتے بلکہ انھیں مختلف منشیات کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے، مثلاً فینٹانائل یا میتھ۔ اس کے علاوہ تہہ خانوں میں تیار کیے جانے والے دیگر کیمیائی مادے بھی ان میں شامل کیے جاتے ہیں۔‘

تہہ خانوں میں تیار ہونے والی یہی مصنوعی منشیات ایک پڑوسی ریاست الینوائے میں منشیات کی زیادہ مقدار لینے سے ہونے والی اموات میں اچانک اضافے کا سبب بننے والی تھیں۔

شکاگو میں میری ملاقات ایک ایسے منشیات فروش سے ہوتی ہے جو میکسیکو کے منشیات کے سمگلنگ کرنے والے کارٹیلز کے لیے فینٹانائل فروخت کرتے ہیں۔ انھوں نے ہم سے بات کرنے کے لیے شرط رکھی کہ ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جائے گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اوپیئڈ منشیات کے بحران کے باعث ہر سال 50 ہزار افراد کی موت میں اس کے کردار کے بارے میں وہ کیا کہیں گے تو انھوں نے تسلیم کیا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ غلط ہے۔ تاہم، جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ یہ کام جاری کیوں رکھے ہوئے ہے تو انھوں نے کہا کہ مقصد کے حصول کے لیے اختیار کیے گئے طریقے جائز ہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ امریکی حکومت کی جانب سے منشیات کے کارٹیلز کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے اور فینٹانائل کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا ہتھیار قرار دینے سمیت تازہ ترین اقدامات کے باوجود ان کی منشیات کی ترسیل کا نظام پہلے کی طرح مضبوط ہے۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے شبہے میں کشتیوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں سے کوئی فرق پڑا ہے یا نہیں، تو انھوں نے جواب دیا کہ میکسیکو سے ان کی منشیات اب بھی پہنچ رہی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر منشیات دیوار کے اوپر سے نہیں جا سکتیں تو نیچے سے گزر جاتی ہیں۔ اگر سرحد کے راستے نہیں آ سکتیں تو کسی اور راستے سے پہنچ جاتی ہیں۔ اس کاروبار میں خود کو حالات کے مطابق ڈھالنا ہی سب کچھ ہے۔‘

جب میں نے ان سے پوچھا کہ ان کے کاروبار میں کیا تبدیلی آئی ہے تو اس کا جواب واضح تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’مصنوعی منشیات۔ ہم نے ابھی تک یہ دیکھا ہی نہیں کہ یہ کیا کچھ کر سکتی ہیں۔ یہ تو اُس کے سامنے کُچھ بھی نہیں کہ جو ہم کر رہے ہیں۔‘

ایک نیا طریقۂ واردات

شکاگو کی کک کاؤنٹی جیل نہ صرف شہر بلکہ امریکہ کی سب سے بڑی جیلوں میں سے ایک ہے۔ ماضی میں روایتی منشیات اکثر جسم کے اندر چھپا کر جیل میں لائی جاتی تھیں۔ اس کی روک تھام کے لیے جیل میں بھی ہوائی اڈوں پر استعمال ہونے والے سکینر نصب کیے گئے تھے۔

جیل کے سربراہ، شیرف ٹام ڈارٹ بتاتے ہیں کہ ’سنہ 2023 میں اچانک منشیات کی زیادہ مقدار لینے سے ہونے والی اموات میں اضافہ ہوا۔ اسی دوران ہم نے ان افراد کے آس پاس، جو ہلاک ہو گئے تھے یا جنھیں ہم نے بچا لیا تھا، ہر طرف کاغذ بکھرا ہوا دیکھا۔ ہم نے ایسے کاغذ بھی دیکھے جنھیں جلایا جا رہا تھا۔ یہ ہمارے لیے بالکل نیا طریقہ تھا۔‘

اس جیل میں عام طور پر سالانہ ایک یا دو قیدی منشیات کی زیادہ مقدار لینے سے ہلاک ہوتے تھے، لیکن اس سال دوروں کے مہلک حملوں کے باعث آٹھ قیدیوں کی موت ہوئی۔

سکیورٹی کیمروں کی ریکارڈنگ میں قیدیوں کو تشنج کی طرح جسم میں جھٹکے لگتے اور گرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ میں یہ بھی نظر آیا کہ وہ جیل کے رہائشی حصے کے باورچی خانوں میں مائیکروویو اوون کے اندر کاغذ جلا رہے تھے۔

جیسا کہ شیرف ڈارٹ نے بتایا، یہ منشیات جیل میں پہنچانے کا بالکل نیا طریقہ تھا۔ منشیات میں بھگوئے گئے کتابوں کے صفحات اور خطوط ڈاک کے ذریعے جیل بھیجے جا رہے تھے۔

شیرف کے مطابق ’ان کاغذوں پر کینابینوئڈز اور کئی دوسرے مادے لگائے جاتے تھے۔ پھر ان کاغذوں کو جلایا جاتا اور نشہ حاصل کرنے کے لیے ان سے اٹھنے والا دھواں اندر کھینچا جاتا تھا۔‘

کینابینوئڈز، جنھیں بعض اوقات ’کے ٹو‘ بھی کہا جاتا ہے، بھنگ کے پودے سے حاصل ہونے والے مادوں کی مکمل طور پر مصنوعی شکل ہیں۔ یہ انتہائی خطرناک ہوتے ہیں اور جیل میں قیدیوں کی ہلاکت خیز دوروں کی کیفیت کا سبب بنے تھے۔

اگست میں، میں شیرف ٹام ڈارٹ کے ماتحت جیل کے اہلکاروں کے ساتھ اس وقت موجود تھا جب وہ جیل کے انتہائی سکیورٹی والے ڈی بلاک میں علی الصبح چھاپے کی تیاری کر رہے تھے۔

تقریباً دو درجن اہلکار دبے پاؤں بلاک کے دروازے کے باہر جمع ہوئے اور دھیمی آواز میں بات کرنے لگے۔ تلاشی کی قیادت کرنے والے ایک اہلکار نے ہدایت دی ’انھیں آپ کی آواز نہیں آنی چاہیے۔ خاموشی، بالکل خاموشی۔‘

اہلکار تیزی سے اندر داخل ہوئے تو مجھے ہوا میں کاغذ جلنے کی بو محسوس ہوئی۔ اسی دوران بیت الخلا میں پانی بہنے کی آوازیں بھی سنائی دیں۔ غالباً قیدی ممنوعہ اشیا کو جلدی میں ٹھکانے لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔

تلاشی شروع ہوئی تو اہلکاروں کی توجہ قیدیوں کی کوٹھڑیوں میں موجود کاغذوں، خاص طور پر کتابوں اور خطوط پر مرکوز رہی۔

قیدیوں کو عارضی طور پر ایک جگہ منتقل کر دیا گیا اور اہلکاروں نے کوٹھڑیوں کی تلاشی لی۔ کمروں میں موجود کاغذ کا ایک ایک ٹکڑا چیک کیا گیا۔ کئی کوٹھڑیوں میں ہوا کی آمدورفت کے لیے بنے سوراخوں پر جلنے کے نشانات تھے۔ قیدی انہی جگہوں پر دھیمی آنچ سے جلنے والی باریک لکڑیاں یا تیلیاں رکھتے تھے، جن کی مدد سے وہ منشیات میں بھیگے کاغذ کو آگ لگاتے تھے۔

اب جیل میں آنے والے ہر خط اور پارسل کو نمی کی جانچ کے لیے سکین کیا جاتا ہے۔ تقریباً ہر پانچ میں سے ایک سے لے کر ہر چار میں سے ایک پارسل یا خط میں نمی پائی جاتی ہے، جس کے بعد اسے جیل میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔

جیل کی دیواروں سے باہر شکاگو کی سڑکوں پر بھی مصنوعی منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کے اثرات دیکھنا مشکل نہیں۔ شہر کے مغربی حصے میں دن ہو یا رات، مرد اور خواتین نشے کے زیرِ اثر دوہرے ہو کر چلتے اور لڑکھڑاتے نظر آتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے مائیک لڑکھڑا رہے تھے۔ ان کے جسم پر فینٹانائل اور دوسری مصنوعی منشیات کا اثر ہوتا ہے۔

شہر کے خوشحال علاقے اوک پارک میں میٹرو سٹیشن پر ایک وینڈنگ مشین نصب ہے، جہاں سے نالوکسون نامی دوا مفت حاصل کی جا سکتی ہے۔ قریب ہی وہیل چیئر پر بیٹھے ایک دبلی پتلی جسامت کے شخص کی ٹانگوں پر گہرے زخم ہیں۔ غالباً یہ زائلازین کے استعمال کے باعث ہوئے ہیں۔ 40 سالہ کیرن بیل ان کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔

کیرن نشے سے بحالی کے لیے کام کرنے والی تنظیم ’لِو فور لالی‘ سے وابستہ ہیں۔ وہ ماضی میں ہیروئن استعمال کرتی تھیں، لیکن اب انھیں سخت نشہ آور منشیات چھوڑے 17 سال ہو چکے ہیں۔

کیرن نرم دل اور ہمدرد دکھائی دیتی ہیں۔ جب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ آج کل استعمال ہونے والی منشیات میں کیا تبدیلی آئی ہے تو وہ کہتی ہیں کہ ’آج کل منشیات میں بہت سی مختلف چیزیں ملائی جا رہی ہیں۔ اس کا ہمارے جسموں پر اثر پڑ رہا ہے، چاہے وہ زخموں کی صورت میں ہو یا نشہ چھوڑنے پر سامنے آنے والی علامات کی شکل میں۔ بعض اوقات زخم اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ انسان کی زندگی ہی بدل کر رہ جاتی ہے۔‘

کولمبس میں ’ہوپ ڈیلرز‘ کی طرح ان کی تنظیم بھی ایسی ٹیسٹ سٹرپس تقسیم کرتی ہے جن کی مدد سے منشیات میں فینٹانائل، میڈیٹومیڈین، زائلازین اور دیگر ملاوٹی مادوں کی موجودگی کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔

کیرن کہتی ہیں کہ آج کل دستیاب منشیات ’کہیں زیادہ خطرناک‘ ہیں۔

وہ بتاتی ہیں کہ ’کیونکہ پہلے، یعنی میرے زمانے میں، میں نے 17 سال پہلے ہیروئن کا استعمال چھوڑا تھا۔ اس وقت وہ ہیروئن ہی ہوتی تھی۔ جب آپ اسے خریدتے تھے تو آپ کو معلوم ہوتا تھا کہ یہ ہیروئن ہے۔ لیکن اب جب آپ منشیات کا ایک پیکٹ خریدتے ہیں تو آپ کو حقیقت میں پتا نہیں ہوتا کہ اس میں کیا ہے۔‘

ٹام ڈارٹ گذشتہ 20 سال سے کک کاؤنٹی کے شیرف ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ منشیات کے خلاف جنگ میں اب تک کتنی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں اس میں شامل کوئی بھی شخص یہ نہیں کہے گا کہ یہ جنگ زبردست کامیابی حاصل کر رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق، جیسا کہ شکاگو میں منشیات فروخت کرنے والے شخص نے بھی کہا تھا، اب سب سے بڑا مسئلہ مصنوعی منشیات ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’روایتی طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار اس لیے زیادہ اہم سمجھا جاتا تھا کیونکہ تمام طاقتور منشیات سرحد پار سے آتی تھیں، چاہے وہ کولمبیا، میکسیکو، چین یا افغانستان کے پوست کے کھیتوں سے آتی ہوں۔ لیکن اب مصنوعی منشیات کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث لوگ یہ منشیات اپنے گھروں، باورچی خانے کے سنک یا باتھ ٹب میں تیار کر سکتے ہیں۔ آپ جو چاہیں، اس کی مثال دے سکتے ہیں۔‘

شیرف کا کہنا ہے کہ ’منشیات کے خلاف جنگ میں کامیابی صرف ان کی فراہمی روکنے پر توجہ دینے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’سب سے اہم اور بنیادی ضرورت منشیات کے استعمال کی لت سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر علاج کی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔‘ اس سلسلے میں وہ اپنی جیل میں چلنے والے بحالی کے متعدد پروگراموں کا ذکر کرتے ہیں۔

ان کے بقول ’اگر آپ لوگوں کو نشے کی لت سے نکلنے میں مدد دے سکیں تو منشیات کی طلب اور ان کی منڈی کو کم کر سکتے ہیں۔ میں ایسے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جو طویل جدوجہد کے بعد اس لت سے نکلے اور اب اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔‘

’بہت سے لوگ مشکلات سے دوچار ہیں‘

کیرن جانتی ہیں کہ نشے کی لت چھوڑنا کتنا مشکل ہے۔ جب وہ اپنی بیٹی ایبی کے ساتھ حاملہ ہوئیں تو اس وقت بھی ہیروئن استعمال کر رہی تھیں۔ ایبی اب 17 سال کی ہیں۔

میٹرو سٹیشن پر ملاقات کے بعد میں شکاگو کے مضافات میں واقع ایک قدرتی پارک میں ان دونوں سے ملتا ہوں۔ کیرن حسبِ عادت میرا خیال رکھتے ہوئے کیچڑ بھرے راستے پر چلتے ہوئے خبردار کرتی ہیں کہ زہریلی آئیوی نامی بیل سے بچ کر رہوں، جسے چھونے سے جلد پر خارش ہو سکتی ہے۔

یہاں سے کچھ ہی فاصلے پر، تقریباً 17 سال پہلے، کیرن کی زندگی کا سب سے مشکل دور تھا۔

ہمارے قریب کھڑے ایک بلند و بالا بلوط کے درخت سے ہوا گزر رہی ہے۔ کیرن کہتی ہیں کہ ’جس دن مجھے پتا چلا کہ میں حاملہ ہوں، میں خودکشی کرنے جا رہی تھی۔ میں نشہ چھوڑنے کی کوشش کرتے کرتے تھک چکی تھی۔ جنگل میں خیمے کے اندر رہتے ہوئے بالٹی استعمال کرنے سے تنگ آ چکی تھی۔ میں اپنے دوستوں اور خاندان والوں کو کھو کھو کر بھی تھک گئی تھی، کیونکہ مجھے اپنے حالات پر بہت شرمندگی محسوس ہوتی تھی۔‘

حمل کا ٹیسٹ دیکھنے کے بعد انھوں نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ بعد میں انھیں چوری کے الزام میں کک کاؤنٹی کی جیل میں کچھ وقت گزارنا پڑا۔ ان کے والدین کو محسوس ہوا کہ یہ ان کے لیے نشہ چھوڑنے کا موقع ہو سکتا ہے، اس لیے انھوں نے ان کی ضمانت کے لیے رقم دینے سے انکار کر دیا۔ یوں کیرن نے نشہ چھوڑ دیا اور ایبی کی پیدائش جیل کے اندر ہوئی۔

ایبی مستقبل میں ٹیٹو بنانے کا کام کرنا چاہتی ہیں۔ جب میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا کبھی انھیں بھی منشیات آزمانے کا خیال آیا تو وہ کہتی ہیں کہ ’نہیں، میں نے دیکھا ہے کہ منشیات نے میرے خاندان کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے۔ میرے والد، میری والدہ، میری خالہ اور میرے ماموں اس سے متاثر ہوئے اور ان میں سے بعض کی موت بھی ہوئی۔ آپ جانتے ہیں، چند گھنٹوں کے نشے کے لیے یہ سب کچھ کرنا فائدے کا سودا نہیں۔‘

وہ مزید کہتی ہیں کہ ’بہت سے لوگ مشکلات سے دوچار ہیں۔ خاص طور پر اس لیے کہ ہمارے ملک میں ہر چیز کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، کھانے پینے کی چیزیں بھی مہنگی ہو رہی ہیں اور اس کے بھی اثرات پڑ رہے ہیں۔ اب ذہنی صحت کے علاج پر بھی بہت زیادہ خرچ آتا ہے، اس لیے لوگ مدد حاصل نہیں کر پاتے۔ ایسے میں بعض لوگ منشیات کی طرف چلے جاتے ہیں۔‘

امریکہ میں کئی نسلوں سے لوگ منشیات کے بحران کا سامنا کرتے آئے ہیں، لیکن یہ بحران ہر دور میں ایک جیسا نہیں رہا۔ پہلے ہیروئن کا دور تھا، پھر نسخے پر ملنے والی اوپیئڈ درد کُش ادویات کا، اس کے بعد فینٹانائل کا اور اب مصنوعی منشیات کی ایک بالکل نئی قسم کا۔

یکے بعد دیگرے آنے والی امریکی حکومتوں نے منشیات کے خلاف جنگ لڑی ہے، لیکن کامیابی حاصل نہیں کر سکیں۔ منشیات فروش، سپلائرز، اسمگلنگ کرنے والے کارٹیلز اور منشیات استعمال کرنے والے سبھی بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں اور انھیں روکنے کی کوششوں سے ہمیشہ چند قدم آگے رہتے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US