بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ایک ایسی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے جس میں وہ 33 سال قبل مرجانے والے ہندو مذہبی رہنما سوامی چینمایانند کے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ہولوگرام سے گفتگو کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی اس بات چیت پر بھارت میں مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 23 اکتوبر 2026 کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں چینمایا مشن کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ اس دوران جنریٹو اے آئی اور تھری ڈی ہولوگرام ٹیکنالوجی کی مدد سے سوامی چینمایانند کا ایک ڈیجیٹل روپ تیار کیا گیا، جو 3 اگست 1993 کو انتقال کر گئے تھے۔
تقریب میں پیش کیے گئے اس ہولوگرام کو مذہبی رہنما کی آواز، چہرے کے تاثرات اور گفتگو کے انداز سے مشابہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ مودی کے ساتھ بات چیت کے دوران ڈیجیٹل کردار نے 1993 میں وڈودرا میں ہونے والی ان کی ایک پرانی ملاقات کا حوالہ بھی دیا۔
اس گفتگو میں دلچسپ لمحہ اس وقت سامنے آیا جب اے آئی کردار نے مودی سے ہلکے پھلکے انداز میں بات کرتے ہوئے انہیں وقت پر کھانا کھانے کا مشورہ دیا۔
بھارتی وزیراعظم نے اس تجربے کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے وہ 33 سال پیچھے ماضی میں پہنچ گئے ہوں۔
دوسری جانب بھارتی وزیر ثقافت گجندر سنگھ شیخاوت اور حکمران جماعت سے وابستہ شخصیات نے اس پیشکش کو مذہبی عقیدت اور جدید ٹیکنالوجی کے امتزاج کی ایک مثال قرار دیا۔
تاہم ویڈیو وائرل ہونے کے بعد بعض سوشل میڈیا صارفین اور ناقدین نے اس طریقے پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفات پا جانے والی مذہبی شخصیات کی آواز اور شخصیت کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے دوبارہ پیش کرنے سے اخلاقی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
کچھ ناقدین نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس قسم کی تقریبات کو سیاسی تشہیر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ دیگر نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی مرحوم شخصیت کی ڈیجیٹل نقل تیار کرکے اس سے نئی گفتگو منسوب کرنا مناسب ہے؟
اس واقعے نے بھارت میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایک اہم سوال کو بھی سامنے لایا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے تاریخی اور مذہبی شخصیات کو پیش کرتے وقت کن اخلاقی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ مودی نے سوامی چینمایانند سے حقیقی طور پر گفتگو نہیں کی بلکہ یہ بات چیت مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ایک ڈیجیٹل کردار کے ساتھ ہوئی تھی۔