اسرائیل میں سات اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات میں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی جانب سے مقابلہ درپیش ہے۔ لیکن انتخابات کو اسرائیلی تاریخ کا سب سے اہم الیکشن کیوں کہا جا رہا ہے؟
ایک انتخابی بل بورڈ پر دائیں جانب لیکود پارٹی کے بنیامین نیتن یاہو اور بائیں جانب اعتدال پسند یاشر پارٹی کے رہنما اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزنکوٹ کی تصاویر موجود ہیںعلاقائی جنگ کے تین سال بعد، یہ وہ معرکہ ہے جس کے درپیش ہونے کا اسرائیل کو ہمیشہ سے اندازہ تھا۔
منگل کو اسرائیل میں ہونے والے انتخابات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب ملک گہری تقسیم کا شکار ہے۔
جمعہ کو شائع ہونے والے عوامی جائزوں کے مطابق حکمران اتحاد اور مرکزی اپوزیشن بلاک تقریباً برابر ہیں، جبکہ پانچ لاکھ ووٹر پہلی بار ووٹ ڈال رہے ہیں اور اطلاعات کے مطابق تقریباً 70 ہزار اسرائیلی صرف ووٹ ڈالنے کے لیے بیرونِ ملک سے آ رہے ہیں۔
سنیچر کی شب، حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ لیے، اپوزیشن کے ووٹروں کی بڑی تعداد تل ابیب کے مرکزی علاقے میں جمع ہوئی۔
21 سالہ عمری نے مجھے بتایا: ’ہم پُر امید ہیں۔ میں امن چاہتا ہوں، سلامتی چاہتا ہوں، بد عنوانی کا خاتمہ چاہتا ہوں اور مذہبی انتہا پسندوں کو اقتدار سے باہر کرنا چاہتا ہوں۔‘
اس بار انتخابی مہم میں نئی حکمتِ عملیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ ان میں مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ایسی ویڈیوز بھی شامل ہیں جنھیں سرخیوں میں جگہ پانے کے لیے بنایا جاتا ہے۔
موجودہ انتخابات میں ایک نیا چہرہ بھی سامنے آیا ہے۔
گادی آئزنکوٹ شاید وہ شخصیت نہیں جن کے بارے میں یہ توقع کی جائے کہ وہ اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک وزیرِ اعظم رہنے والے بنیامین نیتن یاہو کا مقابلہ کریں گے۔
وہ بنیامین نیتن یاہو، جن کی سیاست چمک دمک، جارحانہ انداز اور میڈیا پر مہارت سے جڑی ہوئی ہے۔
سیاست میں نسبتاً نئے، مزدور طبقے سے تعلق رکھنے والے اور مراکشی پس منظر کے حامل آئزنکوٹ سابق فوجی چیف آف سٹاف ہیں جو اپنے پُر سکون مزاج اور تنازعات سے دور رہنے کے انداز کے لیے جانے جاتے ہیں۔ بعض لوگوں نے انہیں ’غیر سیاست دان‘ کا لقب دیا ہے۔
لیکن وہ اور ان کی اعتدال پسند یاشر پارٹی حالیہ سرویز میں مسلسل نیتن یاہو اور ان کی لیکود پارٹی پر سبقت حاصل کرتے رہے ہیں۔ تازہ ترین سروے جمعہ کو اسرائیلی انتخابی قانون کے مطابق شائع ہوا۔
اسرائیلی سیاست کسی ایک جماعت کے اقتدار حاصل کرنے سے زیادہ اتحاد سازی کا فن ہے، لیکن چونکہ متوقع نتیجہ بہت قریب دکھائی دیتا ہے، اس لیے آئزنکوٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے اس مقابلے کو مزید تیز کر دیا ہے۔
بہت سے اسرائیلی ان انتخابات کو اپنے ملک کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن سمجھتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے میں نے رملہ شہر میں ایتھوپیائی یہودیوں کے ایک کمیونٹی سینٹر میں انھیں سکیورٹی اہلکاروں اور مشیروں کے ایک ہجوم کے درمیان کیمروں سے بچتے ہوئے اندر جاتے دیکھا۔
ان کی تقریر سننے آنے والوں میں ڈیوڈ بھی تھے، جو استری شدہ قمیض اور نیوی رنگ کی جیکٹ پہنے ہوئے تھے اور جنھوں نے بتایا کہ وہ پہلے بھی آئزنکوٹ سے مل چکے ہیں۔
انھوں نے مجھے بتایا: ’وہ آپ کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں، ایسے نہیں جیسے کوئی رہنما کسی پر اوپر سے نظر ڈال رہا ہو۔ اور وہ سنتے ہیں۔ وہ بہت ہمدرد ہیں۔‘
آئزنکوٹ کی ’غیر سیاست دان‘ والی شبیہ مقبول ہوئی ہےآئزنکوٹ کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کی شخصیت اور عوامی تاثر ہے۔ وہ نرم لہجے میں بات کرنے والے سابق فوجی افسر ہیں جن کا بیٹا غزہ کی جنگ میں مارا گیا تھا۔ وہ خود کو اسرائیل کے امیر شہری اشرافیہ کے بجائے عام لوگوں میں سے ایک کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
اسی ماہ ان کا مراکشی پس منظر انتخابی سرخیوں میں آیا جب نیتن یاہو کے حامی ایک مقرر نے ٹی وی مباحثے میں آئزنکوٹ کے لیے نسلی توہین آمیز لفظ استعمال کرتے ہوئے انھیں مراکشی ’بندر‘ کہا۔
رملہ کے کمیونٹی سینٹر میں جمع ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے آئزنکوٹ نے کہا: ’یہ انتخابات بہت سے مسائل کے بارے میں ہیں۔ یہ سکیورٹی، معیشت اور تعلیم کے بارے میں ہیں۔۔۔ لیکن بنیادی طور پر یہ اسرائیلی ریاست کی شناخت کے بارے میں ہیں، اور اس بارے میں ہیں کہ ہم کس طرح کا اسرائیل دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایک یہودی ریاست، ایک جمہوری ریاست، ایک آزاد خیال، روادار اور مساوات پر مبنی ریاست۔‘
یہ باتیں اپوزیشن کے حامیوں کو پسند آتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کی حکومت اسرائیلی جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔ وہ عدالتی نظام کے اختیارات محدود کرنے کی ان کی کوششوں اور سات اکتوبر 2023 کے حملوں کی تحقیقات کے لیے ریاستی کمیشن قائم کرنے سے انکار کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ ملک کی سپریم کورٹ ان کے خلاف جانبدار ہو گی۔
آئزنکوٹ نے دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ مل کر ووٹروں کو نیتن یاہو کی دائیں بازو کی لیکود پارٹی سے دور کرنے کی کوشش کی ہے اور ریاسی سطح پر ایسی تحقیقات کا وعدہ کیا ہے، جس کی حمایت ایک حالیہ سروے کے مطابق 70 فیصد سے زیادہ یہودی اسرائیلی کرتے ہیں۔
مظاہرین سنیچر کے روز تل ابیب میں جمع ہوئے اور سات اکتوبر کے حملوں کی تحقیقات کے لیے ریاستی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیاانھوں نے انتہائی قدامت پسند یہودیوں کو لازمی فوجی خدمت میں شامل کرنے سے متعلق عدالتی فیصلوں کے نفاذ کا عہد بھی کیا ہے، جو دائیں بازو کے ووٹروں اور اپوزیشن دونوں میں مقبول اقدام ہے۔
بنیامین نیتن یاہو نے جواباً ایک ایسی مہم چلائی ہے جس کا مرکز اسرائیل کی سلامتی ہے اور جس کا بنیادی نعرہ ہے: ’کوئی ہتھیار نہیں ڈالے گا۔‘
انھوں نے بار بار اپنے حریفوں کو سکیورٹی کے معاملے میں کمزور مؤقف رکھنے والا قرار دیا ہے اور دائیں بازو کے بعض ووٹروں کے اس خدشے کو ابھارا ہے کہ یہودی اپوزیشن جماعتیں اکثریت حاصل کرنے کے لیے اسرائیل کی عرب جماعتوں سے اتحاد کر سکتی ہیں، جس سے قومی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔
اسرائیل کی آبادی کا تقریباً پانچواں حصہ عربوں پر مشتمل ہے، جن میں سے کئی خود کو اسرائیل کے فلسطینی شہری قرار دیتے ہیں۔
یہ سات اکتوبر کے حملوں کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات ہیں، جب حماس کی قیادت میں مسلح افراد نے غزہ کی سرحدی باڑ عبور کر کے تقریباً 1200 افراد کو ہلاک کیا اور 251 کو یرغمال بنا لیا تھا۔
سکیورٹی کے نقطۂ نظر سے یہ اسرائیل کی بد ترین ناکامی تھی، لیکن تین سال بعد اس کے وزیرِ اعظم ایک بار پھر دوبارہ انتخاب اس دعوے کے ساتھ لڑ رہے ہیں کہ صرف وہی اسرائیل کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
یروشلم میں واقع ایک زیرِ زمین کیفے میں نیتن یاہو کے چند پُر جوش حامیوں میں شامل شلومی بشار نے مجھے بتایا: ’اگر فوج نے انھیں وقت پر جگا دیا ہوتا تو یہ نہ ہوتا۔ ان پر ایک حد تک ذمہ داری عائد ہوتی ہے، لیکن سات اکتوبر کے بعد انھوں نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو بدل دیا۔‘
نیتن یاہو مسلسل یہ پیغام دے رہے ہیں کہ سات اکتوبر کے بعد غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف اسرائیل کی جنگوں نے ملک کے وجود کو درپیش خطرات کم کر دیے ہیں۔
شلومی نے کہا: ’ہمیں چاہیے کہ وہ دوبارہ منتخب ہوں تاکہ وہ یہ کام مکمل کر سکیں۔ میری رائے میں وہ دنیا کے بہترین رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ دنیا کے بیشتر لوگ انھیں پسند اور ان کا احترام کرتے ہیں کیونکہ وہ مضبوط آدمی ہیں اور ان کے نظریات درست ہیں۔‘
شلومی بشار طویل عرصے سے نیتن یاہو کے حامی ہیںوزیرِ اعظم دائیں بازو کے ایک مستحکم ووٹر بینک پر انحصار کرتے رہے ہیں، لیکن اندازہ ہے کہ اس انتخاب میں ان کی حمایت میں کچھ کمی آئے گی۔ بعض ووٹر شاید آئزنکوٹ جیسی اپوزیشن جماعتوں کی طرف جا رہے ہیں، جبکہ لیکود کے کچھ پرانے حامیوں کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کے حملوں نے انھیں دائیں بازو کی جماعتوں کی طرف زیادہ شدت سے دھکیل دیا ہے۔
سدروت وہ علاقہ ہے جو غزہ کی سرحد پر واقع ہے اور نیتن یاہو کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ علاقائی سول ڈیفنس یونٹ کے سربراہ لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) ایال ہجبی نے یہاں ہونے والے حملوں میں کئی دوست اور ساتھی کھوئے۔ وہ روزانہ اپنے دفتر میں ان کی یاد میں شمعیں روشن کرتے ہیں اور انھوں نے بتایا کہ منگل کو ووٹ ڈالتے وقت وہ انھی کے بارے میں سوچیں گے۔
وہ ایک ایسی پہاڑی پر کھڑے تھے جہاں سے شمالی غزہ کے کھنڈرات نظر آ رہے تھے۔ انھوں نے اس ویران علاقے کی طرف اشارہ کیا جہاں اسرائیلی فوج بیت لاہیا اور بیت حانون کے محلوں کو مکمل طور پر مسمار کر چکی ہے۔
انھوں نے کہا: ’میرے نزدیک سات اکتوبر کے بعد ہمیں ان سب کا خاتمہ کر دینا چاہیے تھا۔ غزہ کے بارے میں میری سوچ بدل چکی ہے۔ پہلے میں یہ نہ کہتا کہ اسے تباہ کر دینا چاہیے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کا خاندان ہمیشہ لیکود کو ووٹ دیتے رہے ہیں، مگر اب وہ اتمار بن گویر کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’جیوش پاور‘ کو ووٹ دے رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: ’میرے خاندان کے مؤقف میں زیادہ شدت آ چکی ہے۔‘
سرویز کے مطابق 10 فیصد سے بھی کم اسرائیلی ایسے ہیں جو ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکے کہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے۔
نیتن یاہو کے اتحاد میں قومی سلامتی کے وزیر بن گویر ووٹروں تک پہنچنے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں۔
نو اکتوبر کو اسرائیل کے ایک بڑے اخبار یدیعوت احرونوت کے لیے کیے گئے ایک سروے کے مطابق اسرائیل میں پہلی بار ووٹ ڈالنے والوں میں سے 16 فیصد سے زیادہ بن گویر جیسی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کو ووٹ دے سکتے ہیں۔
سدروت میں یہودی مذہبی کالج کے 18 سالہ نوجوانوں کے ایک گروہ نے مجھے بتایا کہ سات اکتوبر کے حملوں نے ان کی سیاسی سوچ کو ان کے والدین کے مقابلے میں کہیں زیادہ متاثر کیا ہے۔ چاروں نوجوان ارادہ رکھتے تھے کہ وزیر خزانہ بیزلل سموتریچ کی قیادت والی ایک اور انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’ریلیجس زایونزم‘ کو ووٹ دیں گے۔
ان نوجوانوں میں سے ایک آویاد ایلماحاخ نے مجھے بتایا: ’آج پوری نوجوان نسل سمجھتی ہے کہ پُر امن رہنے سے کام نہیں بنے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’بڑی عمر کے لوگ، جو ایک طے شدہ طرزِ فکر رکھتے ہیں، تبدیلی کو زیادہ مشکل سمجھتے ہیں، لیکن نوجوان سمجھتے ہیں کہ ہمیں طاقت اور آہنی ہاتھ کے ساتھ یہاں موجود رہنا ہو گا، اور یہی جیتنے کا واحد طریقہ ہے۔‘
ان کے بقول سات اکتوبر کا سبق یہ تھا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے ساتھ تعلقات میں زیادہ سے زیادہ سختی اختیار کرنی چاہیے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے اعداد و شمار قابلِ اعتماد سمجھے جاتے ہیں، اور یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں 74 ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔
انھوں نے کہا: ’نوجوانوں کے پاس ایک تازہ نقطۂ نظر ہے جو ابھی سیاست کی نذر نہیں ہوا، اور وہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ہم سموتریچ کو کیوں ووٹ دے رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے طاقت کے ذریعے زمین پر قبضہ برقرار رکھنا اور [فلسطینیوں کو] امن کے ذریعے کوئی رعایت نہ دینا۔‘
غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائی نے علاقے کے بڑے حصے کو کھنڈرات میں بدل دیا ہےغزہ کی سرحد کے ساتھ مزید جنوب میں وہ علاقہ ہے جو حماس کے حملے کا نشانہ بنا۔ اس روز یہاں 47 افراد مارے گئے اور 76 کو یرغمال بنایا گیا۔ کئی دہائیوں تک اس علاقے میں رہنے والے اسرائیلی بائیں بازو کے مضبوط حامی سمجھے جاتے تھے۔
تین سال بعد، اس علاقے سے نقل مکانی کرنے والے رہائشی واپس آ رہے ہیں۔ 26 سالہ گال پاؤکر نے غزہ کی سرحد کے قریب اپنے چھوٹے سے انگور کے باغ کے کنارے جمعہ کے دن ایک وائن کیفے کھولا ہے۔ ان کے دادا گیڈون سات اکتوبر کے حملوں میں مارے گئے تھے۔
میں نے گال اور ان کی والدہ گالیا سے پوچھا کہ آیا ان حملوں نے ان کی سیاسی سوچ بدل دی ہے۔
سات اکتوبر کو حماس کے حملے کا نشانہ بننے والا ایک گھرگالیا نے کہا: ’ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے، ہم اس حکومت کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتے۔ اور میں صرف سکیورٹی کی بات نہیں کر رہی، میں سب سے پہلے انسانیت کی بات کر رہی ہوں۔‘
گالیا کہتی ہیں کہ اس بار انھوں نے آئزنکوٹ کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ ’وہ ایک عام آدمی ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ اسی راستے پر چلیں گے جس کی وہ بات کر رہے ہیں۔‘
ان کے بیٹے گال نے کہا کہ وہ ابھی فیصلہ نہیں کر پائے کہ آئزنکوٹ کو ووٹ دیں یا ایک اور سابق فوجی جنرل یائیر گولان کی بائیں جانب جھکاؤ رکھنے والی ڈیموکریٹس پارٹی کو۔
انھوں نے کہا: ’میں سادہ لوح نہیں ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ نوجوان نسلوں میں زیادہ شدت پسند آوازیں موجود ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ سکیورٹی کے لحاظ سے آئزنکوٹ گولان سے بہتر ہوں گے یا نہیں، لیکن میرے خیال میں ہمارے مسائل اس سے بڑے ہیں: معیشت، سماجی مسائل، تعلیم، صحت۔ سات اکتوبر کو ہمارے ہمسائے تبدیل نہیں ہوئے تھے۔ یہ ایک بڑا واقعہ تھا، لیکن اس نے اپنے بارے میں سوچنے کا ہمارا طریقہ نہیں بدلا۔‘
سکیورٹی کو درپیش خطرات بمقابلہ جمہوریت کو درپیش خطرات: اسرائیلی ووٹروں کے لیے یہ پرانے سیاسی موضوعات ہیں، جنھیں سات اکتوبر کے حملوں اور اسرائیل کی تاریخ کی سب سے دائیں بازو کی حکومت کے چار سالہ دور نے اس تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
تاہم بعض بڑے بین الاقوامی معاملات پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلاف اتنا وسیع نہیں جتنا دکھائی دیتا ہے۔
گادی آئزنکوٹ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ 18 ماہ کے اندر غزہ میں حماس کی حکمرانی کا خاتمہ کر دیں گے، چاہے وہ امریکہ کی قیادت میں امن منصوبے کے ذریعے ہو یا ’فوجی اور آپریشنل صلاحیتوں‘ کے ذریعے۔
تمام اہم اپوزیشن رہنماؤں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں کسی نہ کسی شکل میں اسرائیلی آباد کاری کی حمایت کا اظہار کیا ہے، جس میں موجودہ حکومت کے دور میں بہت زیادہ توسیع ہوئی ہے اور جو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔ کسی نے بھی کھلے عام مکمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت نہیں کی، جسے روکنے کا عہد بنیامین نیتن یاہو کر چکے ہیں۔ آئزنکوٹ نے اسرائیلی کنٹرول کے تحت ’خود مختاری‘ کے لیے حالات پیدا کرنے کی بات کی ہے۔
منگل کا ووٹ ڈیڈلاک پر بھی ختم ہو سکتا ہے، جہاں حکومت اور اپوزیشن جماعتیں، دونوں ہی اکثریت حاصل نہ کر سکیں اور انھیں عرب جماعتوں کی حمایت لینی پڑے۔
سرویز کے مطابق عرب جماعتیں اتنی نشستیں جیت سکتی ہیں کہ فیصلہ کن حیثیت اختیار کر جائیں۔ اسرائیل کی یہودی اپوزیشن جماعتوں میں سے ایک کے سوا باقی سب نے اب تک دونوں عرب اتحادوں میں سے کسی کے ساتھ بھی کام کرنے سے انکار کیا ہے۔
ایک طرف بنیامین نیتن یاہو ایران سے نئے خطرات کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں، دوسری طرف اپوزیشن انتخابات کے عمل میں ممکنہ رکاوٹوں کی بات کر رہی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے اسرائیلی کارکنوں کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ایسے میں ملک کے اندر سیاسی بے یقینی نہ صرف اسرائیلی جمہوریت کے لیے امتحان بن سکتی ہے بلکہ اس کی سکیورٹی کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔