چین کی سرحد پر واقع انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں ملک کے سب سے بڑے مجوزہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر پر کیا تنازع ہے؟
چین کی سرحد پر واقع انڈیا کی شمال مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں ملک کے سب سے بڑے مجوزہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے معاملے پر گذشتہ کئی روز سے جاری مقامی افراد کا احتجاج پُرتشدد شکل اختیار کر گیا جس کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہیں۔
دریائے سیانگ پر تعمیر ہونے والے 11,200 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے مجوزہ منصوبے ’سیانگ اپر ملٹی پرپز پراجیکٹ‘ کے خلاف مقامی قبائل گذشتہ کئی دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔
یہ ڈیم، جسے انڈیا کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ قرار دیا جا رہا ہے، ریاست اروناچل پردیش کے تین اضلاع سیانگ، ایسٹ سیانگ اور اپر سیانگ پر پھیلا ہو گا اور اِن تینوں اضلاع پر مشتمل سیانگ وادی کے باشندے اس منصوبے کی پرزور مخالفت کر رہے ہیں۔
منصوبے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ آگے بڑھا تو اس میں مقامی افراد کی زمینیں زیر آب آئیں گی اور انھیں اپنی آبائی زمینوں سے بیدخل ہونا پڑے گا۔
’آدی بانےکیبانگ یونائیٹڈ‘ اور علاقے کی کئی دیگر تنظیموں کے تحت مقامی باشندے اس منصوبے کے خلاف کئی روز سے دھرنا دیے بیٹھے تھے تاہم گذشتہ سنیچر کو صورتحال اس وقت پرتشدد ہوئی جب مظاہرین نے نیشنل ہائڈرو پاور کارپوریشن کے دفتر اور ایک مقامی پولیس سٹیشن کو نذر آتش کیا۔
اسی کے ساتھ مقامی رُکن اسمبلی اور حکمراں بی جے پی کے ریاستی صدر کے گھروں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی۔ مظاہرین نے کئی گاڑیوں کو بھی نذر آتش کیا۔
اس واقعے کے بعد پولیس نے ڈیم کی مخالفت کرنے والی مقامی تنظیموں کے کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے جبکہ سیانگ وادی میں مقامی پولیس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں سینٹرل فورسز بھی تعنیات کر دی گئی ہیں۔
ایسٹ سیانگ کی ضلعی انتطامیہ نے پاسی گھاٹ، ویبو اور رسکن میں احتجاج و مظاہروں پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ خطے میں اب خوف کاماحول ہے۔
یہ مجوزہ ڈیم اروناچل پردیش کے اضلاع سیانگ، اپر سیانگ اور ایسٹ سیانگ میں تعمیر کیا جائے گا۔ مکمل ہونے کے بعد اس منصوبے سے 11200 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی اور اسے انڈیا کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ قرار دیا جاتا ہے۔
یہ پراجیکٹ سٹریٹیجک اہمیت کا حامل بھی ہے کیو نکہ سرحد کے دوسری جانب تبت کے میدوگ خطے میں اِسی دریا (سیانگ) پر چین دنیا کا سب سے بڑا 60 ہزار میگاواٹ صلاحیت کا ہائیڈرو پاور ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ سیانگ ندی اروناچل پردیش سے ہوتی ہوئی آسام میں داخل ہوتی ہے، جہاں یہ دیبانگ اور لوہیت ندیوں سے مل کردریائے برہم پترا بن جاتی ہے۔
ارونا چل پردیش کے مقامی قبائلی باشندوں کو خدشہ ہے کہ اس ڈیم سے اُن کے گاؤں اور زرعی زمینیں زیر آب آ جائیں گی اور انھیں یہ علاقہ چھوڑنے کے لیے محبور ہونا پڑے گا۔
منموہن سنگھ کے دور اقتدار میں چین کی سرحد کے نزدیک سڑک اور ڈیم وغیرہ تعمیر کرنے کے منصوبے کے تحت اس پراجیکٹ کو حتمی شکل دی گئی تھی اور سنہ 2008 میں سیانگ ذیم کو ایک قومی منصوبہ قرار دیا گیا تھا، تاہم اس دور میں اس پراجیکٹ پر کام شروع نہیں ہو سکا۔
ارونا چل پردیش میں کانگریس کے ریاستی صدر بوسیرم سیرم نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس وقت مقامی لوگوں نے اس پراجیکٹ کی مخالفت کی تھی جس کے سبب اس مجوزہ منصوبہ کو چھوڑ دیا گیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’موجودہ وزیر اعلیٰ کو سینٹرل گورنمنٹ کو بتانا چاہیے تھا کہ مقامی لوگ اس ڈیم کی تعمیر نہیں چاہتے۔ اگر سینٹرل حکومت نے اس ڈیم کو تعمیر کیا تو اس خطے کے 27 گاؤں زیر آب آ جائیں گے اور سیانگ خطے کے آدی قبیلے کی تہذیب اور تقافت سب ختم ہو جائے گی۔‘
ستمبر 2026 میں اروناچل پردیش کی حکومت نے مجوزہ سیانگ اپر ملٹی پرپز پراجیکٹ کا ابتدائی فیزیبلیٹی سروے کرانے کے لیے ماہرین کی ایک اعلی اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔
سیانگ دریا کے کنارے بسے ہوئے گاؤں اور مقامی افراد اس سروے کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔
اس منصوبے کے خلاف دھرنے پر بیٹھی ایک خاتون، جن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے، کا کہنا ہے کہ ’ہم بھی انڈین ہیں، ہم پاکستانی نہیں ہیں، ہم چینی نہیں ہیں۔ ہمیں کیوں سبزیوں کی طرح کاٹا جا رہا ہے۔ یہاں اتنی بڑی تعداد میں سینٹرل فورسز کیوں تعینات کی جا رہی ہیں ۔ہم بندوقوں اور گولیوں سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ ہم اپنے پہاڑوں، اپنے دریاؤں اور اپنی موروثی زمینوں کی حفاظت کریں گے۔‘
دوسری جانب پولیس نے پرتشدد مظاہروں کے بعد پاسی گھاٹ میں نیشنل ہائیڈرو پاور کارپوریشن کے دفتر، پولیس سٹیشنوں اور سیاسی رہنماؤں کے گھروں پر تخریب کاری کے بعد مزاحمتی تنظیموں کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔
ایسٹ سیانگ کے ایک نوجوان لیڈر اوتول جیرانگ نے خود کو پولیس کے حوالے کیا ہے اور گرفتاری سے پہلے انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’مظاہرین اُس وقت مشتعل ہوئے جب پولیس نے پرامن مظاہرین پر آنسو گیس کا استعمال کیا اور پولیس کی کاروائی میں کئی خواتین زخمی ہو گئیں۔‘
دھرنے میں موجود حقوق انسانی کے کارکن ایبو میلی نے بھی تشدد کی مذمت کی ہے اور خود کو حکام کے حوالے کر دیا ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ ’پاسی گھاٹ اور دوسرے مقامات پر مظاہرین اُس وقت تشدد پر اتر آئے جب پولیس نے ان کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا۔ اس سے مظاہرین میں افراتفری مچ گئی اور ان کی ناراضگی بڑھ گئی۔‘
مقامی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے باعث 27 گاؤں زیر آب آ جائیں گے اور ڈیرھ لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور ان کی روزی روٹی سب چلی جائے گی۔
ریاستی حکومت مقامی باشندوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ حکومت ابھی صرف اس ڈیم کی تعمیر کا ابتدائی مطالعہ (فزیبیلیٹی رپورٹ) کر رہی ہے۔
ریاست کے بی جے پی کے وزیر اعلی پیما کھانڈو نے کہا ہے کہ ’ابتدائی فیزیبیلیٹی رپورٹ مجوزہ ڈیم کے تکنیکی اور عملی پہلوؤں اور اس کے ممکنہاثرات کا محض جائزہ ہے، اسے تعمیر کرنے کی منظوری نہیں ہے۔ اگر اس جائزے میں یہ پایا گیا کہ اس کی تعمیر ہو سکتی ہے تو اس کے بعد اس پراجیکٹ کے سماجی اثرات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیا جائے گا اور ایک مفصل رپورٹ تیار کی جائے گی۔‘
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کئی گاؤں نے اس سروے میں مدد کرنے کے لیے حکومت سے معاہدہ بھی کیا ہے۔
وزیر اعلی کا کہنا ہے کہ وہ اس ڈیم کی مخالفت کرنے والے رہنماؤں سے بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔
لیکن گذشتہدنوں میں پیش آئے تشدد اور اس کے بعد پولیس کی کارروائی سے مقامی لوگوں میں ناراضی بڑھی ہے۔ بڑی تعداد میں مرکزی نیم فوجی فورسز کی تعیناتی سے خطے میں ڈر اور خوف کا ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
فی الحال سیانگ وادی میں احتجاج اور مظاہروں پر پابندی عائد ہے جبکہ اس منصوبے کے خلاف مزاحمت کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے انھوں نے موجودہ حالات میں اپنی تحریک کو صرف روکا ہے، ختم نہیں کیا ہے اور یہ کہ وہ اپنے مطالبے پر قائم ہیں۔