سہ فریقی سیریز کے پانچویں میچ میں پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ ایک بار پھر مشکلات کا شکار نظر آئی اور پوری ٹیم 26ویں اوور میں 110 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں کھیلی جا رہی سہ فریقی سیریز کے پانچویں میچ میں پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ ایک بار پھر مشکلات کا شکار نظر آئی اور پوری ٹیم 26ویں اوور میں 110 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔
سری لنکا نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو اس کے لیے درست ثابت ہوا۔ پاکستانی بلے باز سری لنکن بولرز کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور ٹاپ آرڈر کے ساتھ مڈل آرڈر بھی خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا۔
پاکستان پہلے ہی فائنل کے لیے کوالیفائی کر چکا ہے، جبکہ سری لنکا کو فائنل میں جگہ بنانے کے لیے یہ میچ جیتنا ضروری ہے۔
پاکستان کی اننگز اور ٹاپ اور مڈل آرڈر کی ناکامی
پاکستان کی جانب سے فخر زمان اور معاذ صداقت نے اننگز کا آغاز کیا، تاہم دونوں اوپنرز بالترتیب پانچ اور آٹھ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ سعد بیگ بھی پانچ رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
سلمان علی آغا نو رنز بنا سکے، جبکہ بابر اعظم 29 رنز کے ساتھ پاکستان کے نمایاں بلے باز رہے۔ شاداب خان صرف دو رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
اس کے بعد عرفات منہاس نے 10، حسن نواز نے 17 اور حارث رؤف نے ایک رن بنایا۔ پاکستان کی پوری ٹیم 110 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔
پاکستانی کپتان شاہین آفریدی نے ٹاس کے بعد کہا تھا کہ وہ بھی پہلے بولنگ کرنا چاہتے تھے، تاہم اب ان کی کوشش ہو گی کہ ٹیم 300 رنز کا ہدف دے۔
پاکستان نے اس میچ کے لیے اپنی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی تھیں۔ صائم ایوب اور رضا اللہ کی جگہ معاذ صداقت اور نسیم شاہ کو شامل کیا گیا، جبکہ انگلینڈ کے خلاف اپنے گذشتہ میچ میں کامیابی حاصل کرنے والی سری لنکن ٹیم نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔
پاکستان نے اس سے قبل سری لنکا کو پہلے میچ میں 37 رنز سے شکست دی تھی، جبکہ انگلینڈ کے خلاف دونوں میچز میں بھی کامیابی حاصل کی۔ سری لنکا نے انگلینڈ کے خلاف ایک میچ دو وکٹوں سے جیتا تھا۔

سوشل میڈیا پر پاکستان کی کارکردگی پر ہونے والی بحث
سری لنکا کے خلاف پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ میں ناکامی کے بعد سوشل میڈیا پر شائقین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
پاکستان کی بیٹنگ، ٹاپ آرڈر کی کارکردگی اور ٹیم کے انتخاب سے متعلق آرا اس بحث کا حصہ رہیں۔
سابق پاکستانی بلے باز احمد شہزاد نے پاکستان اور انڈیا کی بیٹنگ کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ویلنگٹن میں انڈیا صرف سات اوورز میں 150 رنز بنانے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، جبکہ قذافی سٹیڈیم میں پاکستان اب بھی یہ سمجھنے میں لگا ہے کہ 50 اوورز کیسے پورے کھیلنے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایک ہی دن میں جدید کرکٹ کھیلنے کے دو بالکل مختلف انداز دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ کرکٹ کے شائقین کے لیے بھی کیا ہی وقت ہے!‘
صدیق ساجد نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’پاکستان کرکٹ ٹیم اور اسلام آباد کے سیاسی موسم کا کوئی پتا نہیں چلتا، کب کس وقت کیا رنگ دکھا دیں اور بدل جائیں۔۔۔‘
فیروز زکا نامی ایک اور ایکس صارف نے پاکستانی کھلاڑیوں اور سلیکشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے بعض سپر سٹار کھلاڑی صرف سینٹرل کنٹریکٹ کے اہل ہونے کے لیے مجبوری میں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلتے ہیں، ورنہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی نیت سے فرسٹ کلاس کرکٹ کے ایک دو میچ بھی نہیں کھیلتے۔‘
منظر سبحان نامی ایک ایکس صارف نے لکھا کہ ’پاکستانی ٹیم کے لیے شرمناک کارکردگی! سری لنکا کے خلاف ایک میچ میں 75 رنز پر آل آؤٹ اور اب 110 رنز پر پوری ٹیم پویلین لوٹ گئی۔‘
’حریف وہی، بیٹنگ کی تباہی بھی وہی! آخر پاکستان کرکٹ میں ہو کیا رہا ہے؟ ہموار پچز اور چھوٹی باؤنڈریز کے باوجود جب کارکردگی دکھانے کا وقت آتا ہے تو پاکستانی بیٹنگ بری طرح بکھر جاتی ہے۔‘