حنا جاوید قتل کیس: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس اور پولیس کو ’دوبارہ تفتیش‘ کرنے کی تجویز

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے حنا جاوید قتل کیس میں پولیس کو دوبارہ تفتیش کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ مقتولہ کے اہلخانہ کے تحفظات کا جائزہ لیا جا سکے۔

انتباہ: اس تحریر میں ایسی تفصیلات شامل ہیں جو کچھ قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور داخلہ نے حنا جاوید قتل کیس میں پولیس کو دوبارہ تفتیش کرنے کی سفارش کی ہے تاکہ مقتولہ کے اہلخانہ کے تحفظات کا جائزہ لیا جا سکے۔

جمعرات کو کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چھٹہ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے فرانزک شواہد، ڈی این اے رپورٹس اور دیگر مواد کی بنیاد پر گھریلو ملازم قتل اور مبینہ ریپ کا مرکزی ملزم دکھائی دیتا ہے۔

ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر قائم خصوصی کمیٹی نے مقتولہ کے اہلِ خانہ سے ملاقات، جائے وقوعہ کا معائنہ اور اڈیالہ جیل میں ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد اپنی سفارشات مرتب کی ہیں۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو دی گئی ویڈیو بریفنگ میں سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا تھا کہ مقتولہ کے کمرے سے حاصل ہونے والے ڈی این اے نمونے، کارپٹ سے ملنے والے نشانات اور دیگر شواہد ملازم سے منسلک پائے گئے۔

دوسری جانب مقتولہ کے اہلِ خانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ راولپنڈی پولیس کی تحقیقات سے مطمئن نہیں، کئی فرانزک رپورٹس اور شواہد ان کے ساتھ شیئر نہیں کیے گئے اور ابتدائی طور پر کیس کو غلط سمت دی گئی۔

20 اگست کی صبح حنا جاوید کی برہنہ لاش اُن کے گھر کے باتھ روم سے اس حالت میں برآمد ہوئی تھی کہ اُن کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منھ پر کپڑا تھا جبکہ گلے میں بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جسے شاور کے ساتھ باندھا گیا تھا۔

حنا جاوید کے قتل کا مقدمہ اُن کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز میں درج کیا گیا تھا اور اس میں حنا جاوید کے شوہر، سُسر اور ایک گھریلو ملازم کو نامزد کیا گیا تھا۔

قائمہ کمیٹی نے بھی پولیس کی تفتیش پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیس کے تمام پہلوؤں کا مزید جائزہ لیا جانا چاہیے اور ذمہ داروں کو کسی صورت رعایت نہیں ملنی چاہیے۔

مقتولہ کے اہلِ خانہ نے آزادانہ انکوائری اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا۔

پیپلز پارٹی کی رہنما آصفہ زرداری نے بھی پارلیمنٹ میں حنا جاوید کے اہلِ خانہ سے ملاقات کی۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پوسٹ میں انھوں نے لکھا ’ان کی وفات کے حالات تاحال تحقیقات کے مراحل میں ہیں اور ان کا خاندان انصاف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ میں نے اہلِ خانہ کو یقین دلایا کہ ہینا کے لیے انصاف کی جدوجہد میں میری مکمل حمایت ان کے ساتھ ہے۔‘

آصفہ زرداری نے مزید لکھا کہ ’اہلِ خانہ ایک جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اس کیس کی مکمل، جامع اور باریک بینی سے تحقیقات کو یقینی بنایا جا سکے۔ میری امید ہے کہ ان کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔

ڈی این اے ٹیسٹ سے گھریلو ملازم کے ملوث ہونے کے اشارے ملے، وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کا دعویٰ

اس سے پہلے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے نتائج اور پولی گرافک ٹیسٹ سے اشارہ ملتا ہے کہ راولپنڈی کی 45 سالہ خاتون حنا جاوید کے ساتھ قتل اور ریپ کا ارتکاب ملازم نے کیا ہے۔

سنیچر کو ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں مریم نواز کا ساتھ ہی یہ بھی کہنا تھا کہ اس کیس کی تفتیش جاری ہے۔

خیال رہے کہ مریم نواز جمعے اور سنیچر سے سوشل میڈیا پر خاصی متحرک ہیں۔ اُنھوں نے لاہور میں غیر ملکی خاتون سے مبینہ ریپ اور سکوٹر سوار طالبہ پر مبینہ تشدد کے کیس اور لاہور ہی میں ایکپیٹرول پمپ کے ایک ملازم پر مبینہ تشدد کے کیسز پر پنجاب حکومت کی بروقت کارروائی کا ذکر کیا۔

اس پر صحافی مبشر زیدی نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو لکھا کہ ’براہ مہربانی حنا جاوید کیس کو بھی دیکھیں۔‘

خیال رہے کہ راولپنڈی کی 45 سالہ خاتون حنا جاوید کے قتل کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے رواں ماہ اس مقدمے میں نامزد مقتولہ کے شوہر ڈاکٹر فیصل اصغر کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے اس مقدمے میں گرفتار دوسرے ملزم اور خاتون کے گھریلو ملازم ذیشان کو مرکزی ملزم قرار دیا تھا۔

دوسری جانب حنا جاوید کے اہلخانہ نے تحقیقاتی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ شواہد سے چھیڑ چھاڑ کر کے مقتولہ کے شوہر کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

20 اگست کی صبح حنا جاوید کی برہنہ لاش اُن کے گھر کے باتھ روم سے اس حالت میں برآمد ہوئی تھی کہ اُن کے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، منھ پر کپڑا تھا جبکہ گلے میں بجلی کی تار بندھی ہوئی تھی جسے شاور کے ساتھ باندھا گیا تھا۔

حنا جاوید کے قتل کا مقدمہ اُن کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز میں درج کیا گیا تھا اور اس میں حنا جاوید کے شوہر، سُسر اور ایک گھریلو ملازم کو نامزد کیا گیا تھا۔

Maryam Nawaz Sharif
Getty Images

تفتیشی ٹیم کا کیا کہنا ہے؟

پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز کے حکم پر اس مقدمے کی تفتیش کے لیے پنجاب پولیس کے اعلی افسران پر مشتمل ایک تفتیشی ٹیم بنائی گئی تھی جس کے انچارج کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ ہیں۔

سہیل ظفر چٹھہ نے بی بی سی نیوز اردو سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تفتیشی ٹیم نے اس مقدمے سے متعلق تمام شواہد کو مدِنظر رکھتے ہوئے اس مقدمے کی تفتیش کی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران پولیس کی جانب سے جمع کیے گئے شواہد اور ڈی این اے رپورٹس کو سامنے رکھتے ہوئے اس واقعہ کی ہر پہلو سے تفتیش کی گئی جبکہ ملزمان سے متعدد بار راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں جاکر کئی گھنٹے تفتیش بھی کی گئی۔

سی سی ڈی کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ شواہد کے مطابق ملزم ذیشان کا ڈی این اے میچ کر گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا مقتولہ کا خاوند بے گناہ ہے اور ’کسی کی فرمائش پر کسی بے گناہ کو گناہ گار قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملزم ذیشان نے حنا جاوید کے ساتھ ریپ کرنے کی کوشش کی تو مقتولہ کی طرف سے مزاحمت کی گئی اور پوسٹ مارٹم کے دوران مقتولہ کے ہاتھوں کی انگلیوں کے ناخنوں میں جو جلد کے ذرات ملے تھے وہ بھی ذیشان کے ساتھ میچ کر گئے ہیں۔

سہیل ظفر چٹھہ نے مزید دعویٰ کیا کہ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جب حنا جاوید نے مزاحمت کی تو ملزم ذیشان نے بیڈ پر بچھائی گئی چادر حنا جاوید کے گلے میں ڈال کر ان کا گلہ گھونٹ دیا اور ساتھ ساتھ مقتولہ کو تشدد کا نشانہ بھی بناتا رہا۔

تفتیشی ٹیم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملزم نے دوران تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے حنا جاوید کو قتل کرنے کے بعد ان کے ساتھ دو مرتبہ ریپ کیا جو کہ ڈی این اے رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملزم ذیشان پہلے سے جرائم یافتہ ہے اور اس پر دو تین مقدمات میں چالان بھی ہو چکا ہے۔

’انگلیوں کے نشانات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ ڈاکٹر فیصل اپنی اہلیہ کے قتل میں ملوث ہیں‘

تفتیشی ٹیم کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ کا کہنا ہے کہ بستر کی جس چادر سے ملزم ذیشان نے حنا جاوید کا گلہ گھونٹا تھا اس پر مقتولہ کے شوہر ڈاکٹر فیصل اصغر کی انگلیوں کے نشانات بھی پائے گئے تھے جبکہ کمرے کے دروازے کے ہینڈل پر بھی ڈاکٹر فیصل کی انگلیوں کے نشانات تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انگلیوں کے نشانات یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ ملزم فیصل اصغر حنا جاوید کے قتل میں ملوث ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ شواہد کسی طور پر حنا جاوید کے قتل کے ساتھ نہیں جوڑے جا سکتے۔

حنا جاوید کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں راولپنڈی کے سٹی چیف پولیس افسر ڈی آئی جی حسن مشتاق سکھیرا بھی شامل ہیں۔

تفتیشی ٹیم کے سربراہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم ڈاکٹر فیصل کے دماغ میں رسولی ہے اور اس کے علاوہ وہ دیگر بیماریوں میں بھی مبتلا ہیں جس کے باعث وہ ایک وقت میں بیس کے قریب گولیاں استعمال کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران میں ملزم فیصل اصغر کی سابقہ بیوی سے بھی رابطہ کیا گیا۔

سہیل ظفر چٹھہ کے بقول ملزم کی سابقہ اہلیہ کا کہنا تھا کہ ’فیصل اصغر نے تو کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کی اور جہاں پاچ یا پانچ سے زیادہ بندے جمع ہوتے تھے تو وہ خوف کے مارے وہاں سے چلے جاتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ مقتولہ حنا جاوید اور ان کے شوہر کے تعلقات کے بارے میں بھی چھان بین کی گئی اور اس متعلق مقتولہ کے خاندان کے کچھ افراد سے بات چیت بھی کی گئی۔

سی سی ڈی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مقتولہ حنا جاوید کی اپنی بہن سے واٹس ایپ کے ذریعے ہونے والی چیٹ کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں مقتولہ نے اپنی بہن سے اپنے شوہر کی طرف سے کسی تشدد کا ذکر نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حنا جاوید نے اپنی بہن سے صرف یہی بات کی تھی کہ ’ان کے شوہر حقوق زوجیت ادا نہیں کر رہے۔‘

انھوں نے کہا کہ تفتیشی ٹیم نے اپنی تفتیش مکمل کرکے اس کی رپورٹ وزیر اعلیٰ مریم نواز کو بھجوا دی ہے۔

Punjab police
Getty Images

’شواہد سے چھیڑ چھاڑ کر کے حنا جاوید کے شوہر کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے‘

واضح رہے کہ مقتولہ کے بھائی فہد جاوید نے اس واقعہ سے متعلق مقدمہ درج کرواتے ہوئے ڈاکٹر فیصل اصغر پر اپنی بہن کے قتل کا الزام عائد کیا تھا۔

اب حنا جاوید کے اہلخانہ نے پنجاب حکومت کی طرف سے بنائی گئی ہائی پاور انوسٹیگیشن ٹیم پر عدم اعتماد کرتے ہوئے اس ٹیم کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ پر جانبداری کا الزام لگایا ہے۔

متاثرہ خاندان کی جانب سے میڈیا کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حنا جاوید قتل کے مقدمے کی تفتیش کا رخ موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور پولیس ٹرائیل کورٹ میں اپنی مرضی کا چالان جمع کروانے کی کوشش کر رہی ہے۔

حنا جاوید کے بھائی نے الزام عائد کیا کہ اس واقعہ کا سارا ملبہ گھریلو ملازم پر ڈالنے اور شواہد سے چھیڑ چھاڑ کر کے مقتولہ کے خاوند کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ پولیس کا ملزمان کے ساتھ شروع سے ہی رویہ دوستانہ رہا ہے۔

فہد جاوید کا کہنا ہے کہ اب ان کے پاس اس بارے میں ٹرائل کورٹ میں پرائیویٹ کملپینٹ دائر کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔

یاد رہے کہ مقتولہ حنا جاوید پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینٹ کے سوشل میڈیا ونگ میں کام کرتی تھیں اور مقتولہ کے خاندان نے انصاف کی فراہمی کے حوالے سے وزارت قانون، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور انسانی حقوق سے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھی خطوط لکھے تھے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US