فِلِن کروز میزائل: ممکنہ طور پر سستے اور چھوٹے نئے روسی ہتھیار میں کیا خصوصیات ہیں؟

اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بتائی جاتی ہے، جبکہ اس کی اندازاً مار 1,200 کلومیٹر ہے، اور یہ انتہائی کم بلندی (200 میٹر سے کم) سے لے کر 6 کلومیٹر تک کی بلندی پر پرواز کر سکتا ہے۔
Missile
Getty Images

2026 کے موسمِ گرما کے اختتام کے بعد سے روس یوکرین پر حملوں کے لیے فِلِن کروز میزائل استعمال کر رہا ہے۔ یہ میزائل نسبتاً چھوٹا اور ممکنہ طور پر کم لاگت والا ہے، لیکن اس کی بیان کردہ صلاحیتیں خاصی متاثر کن سمجھی جاتی ہیں۔

اس میزائل کے بارے میں ابھی مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم آن لائن ایک ایسے میزائل کے تباہ شدہ حصے کی تصویر سامنے آئی ہے جسے غالباً مار گرایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ 22 اکتوبر کو یوکرین کی وزارتِ دفاع کے مرکزی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے اس کے ڈیزائن، الیکٹرانک پرزوں اور انجن سے متعلق عمومی معلومات بھی شائع کی تھیں۔

فوجی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر روس بڑے پیمانے پر فِلِن میزائل تیار کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام پر نمایاں اضافی دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

میزائل کی خصوصیات

یوکرین کے مرکزی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے مطابق فِلِن کو ماسکو میں قائم مولنیا سائنٹیفک پروڈکشن ایسوسی ایشن نے تیار کیا ہے، جو ٹیکٹیکل میزائلز کارپوریشن کا حصہ ہے۔

یہ ایک چھوٹا اور ٹربو جیٹ انجن سے چلنے والا کروز میزائل ہے، جسے ایک بوسٹر کی مدد سے زمینی لانچر سے داغا جاتا ہے۔

اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بتائی جاتی ہے، جبکہ اس کی اندازاً مار 1,200 کلومیٹر ہے، اور یہ انتہائی کم بلندی (200 میٹر سے کم) سے لے کر 6 کلومیٹر تک کی بلندی پر پرواز کر سکتا ہے۔

یہ بیان کردہ زیادہ سے زیادہ خصوصیات ہیں، نہ کہ پرواز کے مختلف طریقوں کے آزادانہ تجربات کے نتائج۔

یوکرینی انٹیلی جنس کے مطابق فِلِن کے وارہیڈ کے دو ورژن ہیں: ایک 50 کلوگرام وزن کا اور دوسرا 100 کلوگرام وزن کا۔

جیرانیم خاندان کے لوئٹرنگ میونیشنز کے برعکس، جو بتدریج سست رفتار پسٹن انجن ڈرونز سے ٹربو جیٹ انجنوں سے چلنے والے تیز رفتار حملہ آور ہتھیاروں میں تبدیل ہو رہے ہیں، فِلِن کو ابتدا ہی سے ایک کروز میزائل کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔

یوکرینی صدارتی مشیر سرہی بیشکریستنوف لکھتے ہیں کہ ’میں کافی عرصے سے یہ پیش گوئی کرتا آ رہا ہوں کہ ہمارا دشمن اپنا وقت جیٹ انجن سے چلنے والے شاہد طرز کے ڈرونز پر نہیں بلکہ سستے کروز میزائلوں پر لگا رہا ہے۔‘

’یہ زیادہ تیز رفتار ہیں، زیادہ چالاکی سے حرکت کر سکتے ہیں، کم بلندی پر پرواز کر سکتے ہیں اور شاہد ڈرونز کے مقابلے میں بڑا وارہیڈ لے جا سکتے ہیں۔ انھیں ڈرون لانچنگ مراکز کی ضرورت نہیں ہوتی، ان میں سے بہت سے ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز سے بھی داغے جا سکتے ہیں۔ اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں روسی پرزہ جات سے تیار کیا جا سکتا ہے۔‘

کم از کم فِلِن میزائل کے بنیادی اجزا روس میں ہی تیار کیے جاتے ہیں۔ یہ ایک چھوٹے حجم کے آر-500 گیس ٹربائن انجن سے چلتا ہے، جسے روسی کمپنی رینولڈز تیار کرتی ہے۔

یہی انجن ایس-71کے کوور فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل اور ایس-71ایم مونوخروم فضائی لانچڈ لوئٹرنگ میونیشن میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ دونوں ہتھیار سوخوئی ڈیزائن بیورو نے تیار کیے ہیں اور حال ہی میں روسی فوج نے انہیں اختیار کیا ہے۔

اس سے قبل روسی ڈیزائن، جیسے جیرانی اور بینڈیرول جیٹ ڈرونز، چینی ساختہ انجن استعمال کرتے تھے جنھیں شہری استعمال کی مصنوعات کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے۔

یہ میزائل زیادہ خطرناک کیوں ہے؟

  • یہ انتہائی کم بلندی پر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ زمین کی ساخت کے مطابق پرواز کرنے والا کروز میزائل اچانک زمینی ریڈاروں کی نظروں میں آ سکتا ہے، جس سے اس کی نشاندہی، معلومات کی ترسیل اور اسے تباہ کرنے کے لیے دستیاب وقت کم ہو جاتا ہے۔
  • اس کی رفتار جیرانیم کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ دعویٰ کردہ 800 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار فِلِن کو نسبتاً سست رفتار انٹرسیپٹر ڈرونز کے لیے ایک انتہائی مشکل ہدف بنا دیتی ہے۔
  • اس کے پاس طاقتور وارہیڈ موجود ہے، جس کا وزن 100 کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے فِلِن بڑے کروز میزائلوں سے کم تر ہے، لیکن یہ جیرانیم کے مقابلے میں تقریباً دوگنا بھاری ہے اور بنیادی ڈھانچے، گوداموں، صنعتی تنصیبات اور دیگر اہداف پر حملوں کے لیے مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
  • یہ جامنگ کے خلاف مزاحمت رکھتا ہے۔ یوکرینی انٹیلی جنس کے مطابق میزائل میں 16 چینلز پر مشتمل جامنگ سے محفوظ کومیٹا سیٹلائٹ نیویگیشن ماڈیول استعمال کیا گیا ہے، جبکہ اس میں اِنرشیل نیویگیشن بھی شامل ہے، جو اسے الیکٹرانک وارفیئر کے اثرات سے نسبتاً محفوظ بناتی ہے۔
  • اس کی کم لاگت میں زیادہ پیداوار کے امکانات موجود ہیں۔ مرکب مواد (کمپوزٹ) کا استعمال، بعض پرزوں کی تیاری کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ اور معیاری الیکٹرانکس پیداوار کی لاگت کو نمایاں حد تک کم کر سکتے ہیں۔ اگرچہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ میزائل واقعی سستا ہے یا پہلے ہی ہزاروں کی تعداد میں تیار کیا جا رہا ہے، لیکن اس سے بڑے پیمانے پر حملوں کے ایک ممکنہ ہتھیار کے طور پر اس میں دلچسپی کی وضاحت ضرور ہوتی ہے۔

فِلِن کا توڑ کیا ہے؟

انٹرسیپٹر ڈرونز کے لیے اس میزائل کا تعاقب کرنا مشکل ہے، لیکن اس کی رفتار زیادہ تر جدید فضائی دفاعی نظاموں سے زیادہ نہیں ہے۔

فضائی دفاعی میزائل نظام اور لڑاکا طیارے کسی بھی کروز میزائل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم مؤثر اور یقینی روک تھام کے لیے کثیر الجہتی اور تہہ در تہہ فضائی دفاعی نظام درکار ہوتا ہے۔

طیارے کروز میزائلوں کو ان کے اہداف تک پہنچنے سے پہلے دور سے تباہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہر نسبتاً سستے ہدف کو گرانے کے لیے قیمتی اور محدود میزائل، جیسے AIM-9 سائیڈوائنڈر، استعمال کیے جائیں تو کامیاب دفاع بھی مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید یہ کہ چونکہ کروز میزائل انتہائی کم بلندی پر پرواز کر سکتے ہیں، اس لیے نسبتاً سادہ ذرائع، جیسے طیاروں کی توپوں، کے ذریعے انہیں نشانہ بنانا مشکل اور خطرناک ہوتا ہے۔

اس مسئلے کا ایک حل امریکی APKWS لیزر گائیڈنس سسٹمز کا استعمال ہے، جو معیاری غیر ہدایت یافتہ راکٹوں کو انتہائی درست ہدف شکن ہتھیاروں میں تبدیل کر دیتے ہیں۔

یوکرینی مسلح افواج کے زمینی فضائی دفاعی میزائل نظام بھی فِلِن کروز میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم یہاں بھی گولہ بارود کی قیمت اور محدود دستیابی اہم عوامل ہیں۔

کم لاگت اور بڑے پیمانے پر تیار کیے جانے والے مختصر فاصلے کے دفاعی ہتھیاروں کی تیاری اور پیداوار جدید فضائی دفاعی نظاموں کی ایک اہم ترجیح بنتی جا رہی ہے۔

ان میں ہلکے وزن کے انٹرسیپٹر میزائل اور کنٹرولڈ دھماکے والی تیز رفتار طیارہ شکن توپیں شامل ہیں، جیسے جرمن دفاعی کمپنی رائن میٹل کے تیار کردہ سکائی نیکس اور سکائی رینجر نظام۔ یہ نظام مؤثر اور نسبتاً کم لاگت والے ہیں، خصوصاً دفاع کی آخری لائن کے طور پر، لیکن ان کی کامیابی کے لیے ہدف کی بروقت نشاندہی اور موزوں فائرنگ حالات ضروری ہوتے ہیں۔

کم بلندی پر پرواز کرنے والے میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈاروں کے درمیان تعاون، بیرونی فضائی انتباہی نظام اور مختلف یونٹس کے درمیان معلومات کی تیز رفتار ترسیل ناگزیر ہے۔ جتنا پہلے کسی ہدف کا سراغ لگا لیا جائے، اسے تباہ کرنے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں۔

فِلِن کروز میزائل کتنا سنجیدہ خطرہ ہے؟

فِلِن کے پروٹوٹائپس کی موجودگی اور اس کی بیان کردہ خصوصیات کا یہ مطلب نہیں کہ روس پہلے ہی بڑی تعداد میں ایسے میزائل باقاعدگی سے استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یوکرین کے مرکزی انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ نے فِلِن کے الیکٹرانک نظام میں غیر ملکی ساختہ پرزہ جات کی نشاندہی کی ہے، جن میں 35 امریکی اور 22 چینی اجزا شامل ہیں۔

یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ روسی دفاعی صنعت اب بھی غیر ملکی الیکٹرانکس پر انحصار کرتی ہے، اگرچہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان پرزہ جات کی فراہمی کو آسانی سے روکا جا سکتا ہے۔

یوکرین ایئر ڈیفینس
Getty Images
زمین سے فضا میں مار کرنے والے یوکرینی میزائل

فِلِن کی اصل لاگت، پیداواری حجم اور استعمال کے بارے میں اب بھی غیر یقینی کی صورتحال موجود ہے۔ یوکرین کو اس سے بنیادی خطرہ ایک ایسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل کے طور پر ہے، جسے ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں تیار کیا جا سکتا ہے۔

اگر یہ میزائل واقعی کم لاگت میں تیار ہونے والا ثابت ہوتا ہے اور اسے بڑی تعداد میں بنایا جا سکتا ہے تو روسی فوج اسے روایتی کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ساتھ ڈرونز کے ہمراہ استعمال کرنے کے قابل ہو جائے گی۔ اس کے نتیجے میں یوکرین کو اپنے محدود فضائی دفاعی وسائل کو خطرات کی ایک وسیع تر رینج کے درمیان تقسیم کرنا پڑے گا۔

تاہم اگر اس کی پیداوار محدود رہتی ہے تو فِلِن ایک اضافی خطرہ تو ضرور ثابت ہوگا، لیکن ضروری نہیں کہ یہ فضائی جنگ کی مجموعی صورتحال کو بنیادی طور پر تبدیل کر دے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US