امریکہ میں تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل مشیگن کی اہم سینیٹ دوڑ میں غیر معمولی سیاسی تنازع سامنے آ گیا ہے۔ ڈیموکریٹک کانگریس رکن ہیلی سٹیونز نے اپنی جماعت کے امیدوار عبدل السید کے بجائے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کر دیا، ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اسے ’غداری‘ قرار دیا ہے۔
مشی گن کی ڈیموکریٹک رکن کانگریس ہیلی سٹیونز نے اپنی جماعت کے سینیٹ امیدوار عبدل السید کے بجائے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کیا ہےامریکہ میں کل، تین نومبر کو ہونے والے وسط مدتی (مڈٹرم) انتخابات سے قبل انتخابی مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ وہ انتخابات ہیں جن کے نتائج ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی رہ جانے والی مدتِ صدارت پر اہم اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
انتخابی مہم کے آخری دن میں مشیگن کی اہم سینیٹ نشست غیر معمولی سیاسی تنازع کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
ڈیموکریٹک کانگریس رکن ہیلی سٹیونز، جو پارٹی کی سینیٹ نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں، نے اپنی جماعت کے امیدوار عبدل السید کے بجائے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کر دیا۔
ہیلی سٹیونز اتوار کو اچانک ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کے ساتھ نمودار ہوئیں۔ اس موقع کے فوراً بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں انھوں نے کہا: ’میں عبدل کی انتخابی مہم کا حصہ نہیں ہوں۔ مشیگن کے باشندوں کے طور پر نفرت ہماری شناخت نہیں ہے اور اس وقت ہمیں اپنے ڈیموکریٹک امیدوار کی جانب سے یہی چیز مل رہی ہے۔‘
سٹیونز نے کہا: ’اسی لیے میں مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کر رہی ہوں۔‘
سٹیونز کے اس اقدام نے ان کے بہت سے ساتھی ڈیموکریٹس کو حیران کر دیا، جنھوں نے انتخابات سے صرف دو روز قبل پارٹی سے الگ ہو کر ریپبلکن امیدوار کی حمایت کرنے کے ان کے فیصلے کی مذمت کی۔
ایک ڈیموکریٹ رہنما نے اسے ’قابلِ مذمت غداری‘ قرار دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مشیگن سینیٹ کی ان چند نشستوں میں شامل ہے، جو سینیٹ کے کنٹرول کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
جبکہ ووٹنگ سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے فلوریڈا، آئیووا اور کنساس سمیت کئی ریاستوں میں جلسے کیے ہیں۔
ایندھن سمیت روزمرہ اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ووٹروں میں پائی جانے والی بے چینی کے درمیان ٹرمپ نے ان خدشات سے توجہ ہٹاتے ہوئے ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر وہ اقتدار میں آئے تو امریکی خاندان ’معاشی طور پر تباہ ہو جائیں گے۔‘

امریکہ میں انتخابات ہر دو سال بعد منعقد ہوتے ہیں اور جب یہ کسی منتخب صدر کی چار سالہ آئینی مدت کے وسط میں ہوں تو انھیں وسط مدتی یا مڈٹرم انتخابات کہا جاتا ہے۔
تین نومبر کو امریکی ووٹرز کانگریس کے ارکان کا انتخاب کریں گے۔ امریکی کانگریس دو حصوں پر مشتمل ہے، یعنی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) اور سینیٹ۔
کانگریس کی اہم ذمہ داری وفاقی قوانین بنانا اور انھیں منظور کرنا ہے، یعنی ایسے قوانین جو پورے ملک میں نافذ العمل ہوتے ہیں۔
مڈٹرم انتخابات کے نتائج یہ طے کریں گے کہ کانگریس پر کس سیاسی جماعت کا کنٹرول ہو گا، آیا صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی یا اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح ہو گا کہ صدر ٹرمپ کے لیے اپنی پالیسیوں اور منصوبوں پر عملدرآمد کتنا آسان یا مشکل رہے گا۔
ان انتخابات کے نتائج کو اس پیمانے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے کہ امریکی عوام اب تک صدر کی کارکردگی سے کس حد تک مطمئن ہیں۔
انتخابات کن سیٹوں اور عہدوں کے لیے ہو گا؟
کانگریس کے ایوانِ زیریں یعنی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ ایوان نمائندگان کے ارکان دو سال کی مقررہ مدت کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ عموماً نئے قوانین کی تجاویز اِسی ایوان میں پیش کی جاتی ہیں اور اُن پر بحث کی جاتی ہے۔
دوسری جانب کانگریس کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہو گی۔ سینیٹرز چھ سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ سینیٹ کی اہم ذمہ داریوں میں ایوانِ نمائندگان سے منظور ہو کر آنے والے مجوزہ قوانین کی منظوری دینا یا انھیں مسترد کرنا شامل ہے۔
اِسی روز امریکہ کے بیشتر حصوں میں ووٹرز ریاستی سطح کے عہدیداروں کا بھی انتخاب کریں گے۔ خاص طور پر کیلیفورنیا، فلوریڈا، جارجیا اور مشی گن میں گورنر کے عہدوں کے لیے ہونے والے انتخابات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ انھیں اس انتخابی مرحلے کے اہم ترین مقابلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

اہم انتخابی ایشوز کیا ہیں؟
امریکی ووٹرز کی بڑی تعداد اس وقت معیشت کے مسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایندھن، اشیائے خور و نوش، رہائش اور صحت کی سہولیات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
امریکہ میں مہنگائی کی شرح اب بھی فیڈرل ریزرو کے ہدف کی سطح سے بلند ہے۔ اس کی ایک وجہ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کا مؤقف ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی محصولات (ٹیرف) سے متعلق پالیسیاں بھی امریکی صارفین کے لیے اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی ہیں۔
امیگریشن بھی انتخابات کا ایک اہم موضوع ہے۔ ریپبلکن پارٹی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم کے ایک بڑے وعدے کو پورا کرتے ہوئے سرحدی نگرانی سخت کی، جبکہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائی کا آغاز کیا، جو کئی مواقع پر تنازع کا سبب بھی بنی۔
دوسری جانب حالیہ ہفتوں میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کی دونوں بڑی جماعتوں کے کئی سیینئر سیاستدان آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے کے لیے ضابطہ سازی کی ضرورت پر متفق ہیں، تاہم وہ اس معاملے میں ٹرمپ سے اختلاف رکھتے ہیں، جنھوں نے اے آئی ٹیکنالوجی کی ترقی کو قوانین کے ذریعے محدود کرنے کی مخالفت کی ہے۔
کیا داؤ پر لگا ہوا ہے؟
امریکی کانگریس حکومت کے تین اہم ستونوں میں سے ایک ہے، جبکہ دیگر دو ستون صدارت اور عدلیہ ہیں۔ کانگریس پر کنٹرول اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ ملک میں قانون سازی کی سمت اور نوعیت کا تعین بڑی حد تک اسی کے ذریعے ہوتا ہے۔
اس وقت کانگریس کے دونوں ایوان، یعنی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) اور سینیٹ، ریپبلکن پارٹی کے کنٹرول میں ہیں، تاہم اس کی اکثریت بہت محدود ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن جماعت کے پاس 218 نشستیں ہیں، جو ایوان پر کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے درکار کم از کم تعداد ہے، جبکہ ایک آزاد رکن بھی عموماً ریپبلکن پارٹی کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں۔
سینیٹ میں رپبلکن پارٹی 53 نشستوں کی حامل ہے۔ ایوانِ بالا کا کنٹرول اسی صورت میں ڈیموکریٹس کے پاس جا سکتا ہے اگر وہ 51 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں، کیونکہ 50، 50 نشستوں کی صورت میں نائب صدر کا فیصلہ کن ووٹ نتیجے کا تعین کرتا ہے، اور موجودہ نائب صدر کا تعلق رپبلکن پارٹی سے ہے۔
اگر اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کم از کم ایک ایوان کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اسے اپنے مجوزہ قوانین کانگریس میں پیش کرنے اور ان پر پیش رفت کروانے کا زیادہ اختیار حاصل ہو جائے گا۔
سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر انتخابات ہوں گے: سینٹ کی موجودہ صورتحال اس تصویر میںکون جیت سکتا ہے؟
ماضی میں امریکی ووٹرز کا رجحان یہ رہا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت (برسراقتدار پارٹی) کو 'سزا' دیتے ہوئے اس کے خلاف ووٹ ڈالتے ہیں۔
حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح نسبتاً کم ہے۔ پولنگ سے متعلق ادارے سلور بلیٹن کے اعداد و شمار کے مطابق ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کا آغاز 50 فیصد سے کچھ زیادہ عوامی حمایت کے ساتھ کیا تھا، تاہم اکتوبر 2026 کے اوائل تک یہ شرح تقریباً 37 فیصد رہ گئی، جبکہ 61 فیصد افراد نے ان کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔
تاہم کانگریس کی تمام نشستیں پر یکساں یا سخت مقابلے کی توقع نہیں ہوتی۔ بعض حلقوں کو روایتی طور پر رپبلکن یا ڈیموکریٹک جماعتوں کا محفوظ گڑھ سمجھا جاتا ہے، جہاں نتائج عموماً پیش گوئی کے مطابق ہوتے ہیں۔
بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز نے سینٹ کی ایسی دس نشستوں پر مقابلے کی نشاندہی کی ہے جن پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے، اور ان میں آئیووا اور نیو ہیمپشائر جیسی ریاستیں شامل ہیں۔ اسی طرح ایوانِ نمائندگان کے 42 اہم مقابلوں کو بھی فیصلہ کن قرار دیا گیا ہے، جن میں ایریزونا اور اوہائیو کے حلقے نمایاں ہیں۔
اس سال انتخابات کے نتائج نسبتاً زیادہ غیر یقینی تصور کیے جا رہے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ دونوں جماعتوں کے درمیان ایوانِ نمائندگان کے انتخابی حلقوں کی نئی حد بندیوں پر جاری سیاسی کشمکش ہے۔
ریپبلکن پارٹی نے بعض ریاستوں میں اپنے لیے زیادہ سازگار انتخابی نقشے ترتیب دینے کی کوشش کی، جبکہ ڈیموکریٹس نے بھی اسی طرزِ عمل کو اختیار کرتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات کے مطابق حلقہ بندیاں بنانے کی کوشش کی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہی تنازع اس سال انتخابی نتائج کو مزید پیچیدہ اور غیر متوقع بنا سکتا ہے۔
ان انتخابات کا صدر ٹرمپ کے لیے کیا مطلب ہو گا؟
اگر ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں سے کسی ایک پر بھی کنٹرول حاصل کر لیتی ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے کانگریس سے نئے قوانین کی منظوری حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
ایسی صورت میں ٹرمپ کے داخلی پالیسی ایجنڈے اور مجوزہ منصوبوں کو شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اگرچہ ماضی میں وہ بعض معاملات میں اپنی جماعت کی مکمل حمایت کے بغیر بھی صدارتی اختیارات استعمال کرتے رہے ہیں۔
کسی ایک ایوان پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کا ایک اور اہم نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ کانگریس کی کمیٹیوں کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کے مختلف اقدامات کی تحقیقات شروع کر سکتے ہیں۔ ان تحقیقات میں مبینہ بدعنوانی، وائٹ ہاؤس میں تعمیر کیے گئے نئے بال روم اور امیگریشن ادارے آئی سی ای (ICE) کی کارروائیوں جیسے معاملات شامل ہو سکتے ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کی جانی چاہیے۔ مواخذے سے مراد کانگریس میں ایسے الزامات عائد کرنا ہے جو کسی فوجداری مقدمے کے بجائے ایک سیاسی ٹرائل کی بنیاد بنتے ہیں۔
دوسری جانب اگر رپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو صدر ٹرمپ اپنی مدتِ صدارت کے باقی عرصے میں اپنی پالیسیوں اور قانون سازی کے منصوبوں کو نسبتاً آسانی سے آگے بڑھا سکیں گے۔

2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے اس کے کیا معنی ہیں؟
صدر کا نام وسط مدتی انتخابات کے بیلٹ پیپر پر موجود نہیں ہوتا (یعنی یہ صدر کے انتخاب کا الیکشن نہیں ہے)، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے رپبلکن ووٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ ان انتخابات کو ان کی اب تک کی پالیسیوں اور اقدامات کی توثیق کے طور پر دیکھتے ہوئے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کریں۔
انتخابی نتائج خواہ جیسے بھی سامنے آئیں، سیاسی مبصرین انھیں اس پیمانے کے طور پر استعمال کریں گے کہ ٹرمپ کی قیادت میں ملک کے موجودہ حالات اور سمت کے بارے میں امریکی ووٹرز کیا رائے رکھتے ہیں۔
آئینی طور پر ٹرمپ تیسری بار صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتے۔ اس لیے وسط مدتی انتخابات کے بعد یہ بحث تیز ہونے کی توقع ہے کہ 2028 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی جانب سے ان کا جانشین کون ہو سکتا ہے۔
اسی طرح ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر بھی یہ قیاس آرائیاں زور پکڑیں گی کہ رپبلکن امیدوار کے مقابلے میں پارٹی کا صدارتی امیدوار کون ہو گا اور وہ 2028 میں وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں کس طرح حصہ لے گا۔