برطانیہ میں امیگریشن قوانین سخت، مستقل رہائش کے لیے 30 سال انتظار کی شرط

image

برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے نئے امیگریشن قوانین کا اعلان کردیا، جس کے تحت بعض تارکین وطن کے لیے مستقل رہائش حاصل کرنے کی مدت 10 سے بڑھا کر 30 سال تک کردی گئی ہے۔

نئے قوانین کے مطابق کم آمدنی والے ورکرز کو مستقل رہائش کے لیے 10 سال انتظار کرنا ہوگا، جبکہ غیر قانونی تارکین وطن کے لیے یہ مدت 20 سال ہوگی۔ ملازمت یا تعلیم حاصل نہ کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو 30 سال انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔

دوسری جانب سوشل کیئر کے شعبے میں سالانہ 25 ہزار پاؤنڈ کمانے والے اہل ورکرز، جبکہ صحت و تعلیم کے شعبوں سے وابستہ افراد اور 50 ہزار پاؤنڈ سے زائد سالانہ آمدنی رکھنے والے اہل افراد پانچ سال بعد مستقل رہائش کی درخواست دے سکیں گے۔ مئی 2025 سے پہلے آنے والے بعض ورکرز بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

شبانہ محمود کے مطابق مجرمانہ ریکارڈ، انگریزی زبان کی شرط پوری نہ کرنے اور دیگر مالی تقاضے پورے نہ کرنے والوں کو مستقل رہائش سے انکار کیا جاسکتا ہے۔

ادھر برطانوی میڈیا کے مطابق نئے قوانین پر لیبر پارٹی کے بعض ارکان نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اصلاحات کا مقصد امیگریشن نظام کو مؤثر بنانا اور عوام پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US