سیکشن 30 کے مجسٹریٹ کو سزائے موت کے جرائم کے علاوہ تمام مقدمات کے ٹرائل کا اختیار حاصل ہے، لاہور ہائیکورٹ

image

لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ سیکشن 30 کے تحت بااختیار مجسٹریٹ سزائے موت کے جرائم کے علاوہ دیگر تمام جرائم کا ٹرائل کرنے کا اختیار رکھتا ہے، جبکہ شیڈول دوم کے آٹھویں کالم میں کورٹ آف سیشن درج ہونے سے مجسٹریٹ کا اختیارِ سماعت ختم نہیں ہوتا۔

جسٹس جواد ظفر نے شہری احمد سعید اختر کی درخواست پر 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی اور مجسٹریٹ و ایڈیشنل سیشن جج کے احکامات برقرار رکھے۔

عدالت نے فیصلے میں واضح کیا کہ تعزیراتِ پاکستان میں دفعہ 498-A کے اضافے کے باوجود مجسٹریٹ کا اختیارِ سماعت برقرار رہتا ہے اور مقدمے کو لازماً سیشن کورٹ منتقل کرنا ضروری نہیں۔ دفعہ 498-A کے تحت کم از کم سزا پانچ سال ہے، جو مجسٹریٹ کی سزا دینے کی مقررہ حد کے اندر آتی ہے۔

فیصلے کے مطابق کسی مقدمے کا ٹرائل کرنے کا اختیار اور سزا سنانے کا اختیار دو الگ قانونی معاملات ہیں۔ سیکشن 30 کا مجسٹریٹ سات سال سے زائد قید کی سزا نہیں دے سکتا، تاہم اسے مقدمے کی سماعت اور ٹرائل کا اختیار حاصل ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ سیکشن 28 اور 29 کے مقابلے میں سیکشن 30 کی خصوصی حیثیت ہے اور شیڈول دوم کا آٹھواں کالم اختیارِ سماعت کا حتمی پیمانہ نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ محض شیڈول کے آٹھویں کالم میں کورٹ آف سیشن کا اندراج ہونے کی بنیاد پر مقدمہ سیشن کورٹ منتقل کرنا قانونی طور پر درست نہیں۔ دورانِ ٹرائل چارج میں اضافے سے بھی مجسٹریٹ کا اختیارِ سماعت خودبخود ختم نہیں ہوتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ سزائے موت کے مستوجب جرائم صرف سیشن کورٹ میں چلائے جا سکتے ہیں اور ایسے مقدمات کا مجسٹریٹ کے ذریعے ٹرائل قانونی طور پر کالعدم ہوگا۔ اسی طرح ضابطہ فوجداری کی دفعات 346 اور 347 کا اطلاق مجسٹریٹ کی اپنی رائے اور قانونی تقاضوں سے مشروط ہے، یہ دفعات خودکار طور پر نافذ نہیں ہوتیں۔

فیصلے میں آرٹیکل 175(2) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ کسی عدالت کا اختیارِ سماعت صرف آئین یا قانون کے تحت متعین ہوتا ہے، فریقین کی رضامندی سے عدالت کو اختیار حاصل نہیں ہو سکتا۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ سمیت خصوصی قوانین کے تحت آنے والے جرائم مجسٹریٹ کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں۔

ہائیکورٹ کے مطابق دفعہ 498-A ناقابلِ دست اندازی پولیس جرم ہے اور مجسٹریٹ کے حکم کے بغیر اس کی تفتیش نہیں کی جا سکتی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US