امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے۔ سامنے آنے والے انتخابی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے، جبکہ کئی اہم حلقوں میں ریپبلکن امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
رپورٹ کردہ اعداد و شمار کے مطابق 435 نشستوں پر مشتمل ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی تعداد 231 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ریپبلکنز کے حصے میں 139 نشستیں آئی ہیں۔ اس ایوان میں حکومت یا کسی جماعت کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے کم از کم 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں، جو ڈیموکریٹس حاصل کرچکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ میں بھی سیاسی طاقت کا توازن تبدیل ہوگیا ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس کی 20 نشستوں پر کامیابی کے بعد ان کی مجموعی تعداد 54 ہوگئی ہے، جبکہ ریپبلکنز 13 نشستیں حاصل کرکے 44 ارکان تک پہنچ گئے ہیں۔ 100 رکنی سینیٹ میں اکثریت کے لیے 51 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
ٹرمپ کا ہر امریکی کو 5 ہزار ڈالر دینے کا اعلان بھی ریپبلکنز کو کامیابی نہ دلواسکا
ان انتخابات کا ایک دلچسپ پہلو صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی شہریوں کے لیے کیا گیا مالی وعدہ بھی ہے۔ ٹرمپ نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ اگر ریپبلکن پارٹی انتخابات میں کامیاب ہوئی تو ہر بالغ امریکی شہری کو 5 ہزار ڈالر کا چیک دیا جائے گا۔ تاہم اس رقم کو صرف امریکا کے اندر خرچ کرنے کی شرط بھی رکھی گئی تھی۔
اس اعلان کے باوجود انتخابی نتائج ریپبلکنز کے حق میں نہیں آئے اور ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے میں کامیاب رہے۔
کانگریس میں اس تبدیلی کے بعد صدر ٹرمپ کے لیے آئندہ دو برس کے دوران قانون سازی، بجٹ کی منظوری اور اہم حکومتی فیصلوں پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹس کو حکومتی پالیسیوں کی نگرانی اور انتظامیہ سے جواب طلبی کے زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے۔
اگرچہ بعض حلقوں میں ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی تکمیل کا عمل جاری بتایا گیا ہے، تاہم رپورٹ کردہ انتخابی صورت حال امریکی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔