پاکستانی لباس میں بھی اب پورے کپڑے نہیں ملتے؟ کنول آفتاب معروف برانڈز پر برس پڑیں

image

"میں پاکستانی کپڑوں کے برانڈز سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا اب پوری آستینوں اور مناسب ڈیزائن والے لباس بنانا مشکل ہوگیا ہے؟ ہر جگہ چھوٹی آستینیں، کھلے گلے اور کمر سے کھلے ہوئے کپڑے نظر آتے ہیں۔ جب ہم اپنی پسند کے مطابق تبدیلی کا کہتے ہیں تو صاف جواب ملتا ہے کہ ایسا ممکن نہیں۔ میں انفلوئنسر ہوں تو کیا ضروری ہے کہ ہر طرح کے کپڑے پہنوں؟ برانڈز کو ہماری پسند اور ضروریات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔"

یہ شکوہ معروف پاکستانی سوشل میڈیا انفلوئنسر کنول آفتاب نے اپنی حالیہ ویڈیو میں کیا، جس میں انہوں نے ملک کے مہنگے فیشن برانڈز کے لباس کے ڈیزائن پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔

کنول آفتاب کا کہنا تھا کہ وہ متعدد معروف برانڈز کے پاس جا چکی ہیں، لیکن جب بھی لباس میں پوری آستینیں لگوانے یا پشت کو ڈھانپنے کی درخواست کرتی ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ ڈیزائن میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اب پاکستان میں ایسے کپڑے پہننے والی خواتین کی کوئی اہمیت نہیں رہی جو مکمل اور باوقار لباس کو ترجیح دیتی ہیں؟ ان کے مطابق ہر خاتون کی پسند مختلف ہوتی ہے اور برانڈز کو صرف ایک مخصوص فیشن کے بجائے تمام صارفین کی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔

انفلوئنسر نے مزید کہا کہ چاہے کوئی خاتون دوپٹہ لیتی ہو یا نہ لیتی ہو، اسے اپنی پسند کے مطابق لباس منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔ فیشن کے نام پر ایک ہی طرز کے کپڑوں کو عام کرنا درست نہیں۔

واضح رہے کہ کنول آفتاب نے مئی 2026 میں اپنے شوہر ذوالقرنین سکندر کے ہمراہ حج ادا کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سر ڈھانپنے اور نسبتاً سادہ لباس پہننے کو ترجیح دینا شروع کردی۔ اس کے علاوہ ان کے وزن میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

کنول آفتاب نے پاکستانی فیشن کے بدلتے رجحانات پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے برانڈ مالکان سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے ملبوسات بھی تیار کریں جنہیں ہر عمر اور ہر پسند کی خواتین اطمینان سے پہن سکیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US