چارلس یا ڈیانا، کس نے کس سے بے وفائی کی؟

جانے لیڈی ڈیانا نے عام لڑکیوں کی طرح وہ خواب دیکھے تھے یا نہیں جن میں کسی شہزادے کا انتظار رہتا ہے کہ ایک روز وہ آئے گا اور ساتھ لے جائے گا، تاہم ایسا ہوا ضرور، شہزادہ اور وہ بھی اُس برطانیہ کا، جو تقریباً آدھی دنیا پر حکومت کرتا رہا، بینڈ باجے اور بارات کے ساتھ پہنچ گیا، یہ دنیا کی سب سے یادگار شادی تھی جسے فیئری ٹیل میرج اور میرج آف دی سنچری کہا گیا، جس میں دس لاکھ افراد نے شرکت کی۔ دنیا بھر کے میڈیا نے کور کیا۔ کروڑوں لوگوں نے براہ راست دیکھا، تاہم یہ خوشگوار آغاز ناخوشگواری پر منتج ہوا۔

رہ گئے یہ سوال کہ  قصور کس کا تھا، چارلس اور ڈیانا ایک دوسرے کے لیے اچھے پارٹنر کیوں ثابت نہ ہو سکے، کس نے کس کی شخصیت کو گہنایا، چارلس نے ڈیانا یا ڈیانا نے پرنس کے ساتھ بے وفائی کی؟ تو ان کا جواب بھی ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔

مزید پڑھیںشہزادی ڈیانا کی باقیات چرانے کی پھر کوششNode ID: 100976ولیم اور ہیری کے بارے میں جھوٹ بولا گیا ،ارل اسپنسرNode ID: 101196ڈیانا کو ایشیائی لوگوں سے پیار کیوں تھا؟Node ID: 431416پرنس چارلس کی ابتدائی زندگیپرنس کا پورا نام چارلس فلپ آرتھر جارج ہے۔ وہ 14 نومبر 1948 کو بکھنگم پیلس میں ملکہ الزبتھ کے ہاں پیدا ہوئے۔ ملکہ ان کی پیدائش سے چار سال قبل ہی والد کنگ جارج ششم کی وفات کے بعد تخت کی حقدار بن چکی تھیں۔ 1952 میں برطانوی تخت سنبھالنے کے بعد شہزادہ چارلس کم سنی میں ہی تخت کے وارث بنے۔ جولائی 1969 میں چارلس کو بیس سال کی عمر میں اکیسواں پرنس آف ویلز بنایا گیا۔ برطانیہ کے شاہی خاندان میں یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ولی عہد کچھ عرصہ فوج میں گزارتے ہیں سو چارلس نے بھی برطانوی نیوی میں شمولیت اختیار کی اور پانچ سال تک خدمات انجام دیں، جبکہ دسمبر 1976 میں انہوں نے مکمل طور پر شاہی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 33 سال کی عمر میں انہوں نے لیڈی ڈیانا سے شادی کی تاہم پندرہ سال بعد طلاق کے بعد 2005 میں کمیلا پارکر کو شریک حیات بنایا، چارلس سیاسی معاملات میں مداخلت پر تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں برطانوی قانون کے مطابق ان کا عہدہ نمائشی نوعیت کا ہے اور وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔

لیڈی ڈیانا سے ملاقات1961 میں انگلینڈ کے شہر سینڈرنگھم میں پیدا ہونے والی ڈیانا قد کاٹھ، انداز اور حسن ہر لحاظ سے شہزادی تو تھیں لیکن تب تک گمنام رہیں، جب تک شہزادہ چارلس کی نظر میں نہ آئیں۔

چارلس اور لیڈی ڈیانا کے تعلقات میں تناؤ شروع سے ہی کمیلا پارکر نامی خاتون کی وجہ سے پیدا ہوا۔ فوٹو اے ایف پی ڈیانا کے والد نے پارک ہاؤس نامی گھر جو کہ ملکہ الزبتھ کی ملکیت تھا، کرائے پر لے رکھا تھا، اس لیے آنا جانا رہا۔ ڈیانا اور ان کی بہن سارہ اسی گھر میں جوان ہوئیں۔ ایک بار پرنس چارلس سے سامنا کیا ہوا کہ پرنس دل ہار بیٹھے اور ملکہ الزبتھ کو بتا دیا۔ اس وقت ڈیانا بیس برس کی بھی نہیں ہوئی تھیں اور چارلس تینتیس سال کے تھے، جلد ہی دونوں کی منگنی کر دی گئی اور 29 جولائی 1981 کو ان کی شادی ہوئی۔ ایک سال بعد پرنس ولیم اور 1984 میں ہیری کی پیدائش ہوئی، چارلس اور لیڈی ڈیانا کے تعلقات میں تناؤ شروع سے ہی کمیلا پارکر نامی خاتون کی وجہ سے پیدا ہوا، وہ جیسے جیسے چارلس کے قریب ہوئیں اور ان کا رویہ لیڈی ڈیانا سے سرد ہوتا چلا گیا، جس پر بات بڑھی اور اگست 1996 میں طلاق ہو گئی۔ اس سے اگلے سال ڈیانا فرانس میں ایک ٹریفک حادثے کی نذر ہو گئیں۔

کس نے کس کی شخصیت کو گہنایا’ڈیانا سے شادی زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی‘ ایک جانب یہ بات پرنس چارلس نے ایک انٹرویو میں کہی تو دوسری جانب لیڈی ڈیانا کی وہ ٹیپ سامنے آئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ انہوں نے شادی کے شروع کے ایام میں کلائی کی نسیں کاٹ کر خودکشی کی کوشش کی تھی، شہزادے کے معاشقے کا علم ہونے کے بعد ہنی مون پیریڈ کے دوران کمیلا پارکر ڈیانا کے خواب میں مسلسل آتی رہیں۔ برطانوی اخبار دی سن کی رپورٹ کے مطابق شہزادی لیڈی ڈیانا کی زندگی خوشگوار نہیں تھی۔ ایسا ہی ذکر اینڈریو مارٹین کی کتاب میں بھی ملتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہنی مون کے بعد لیڈی ڈیانا کی زندگی تکلیف دہ ہوگئی تھی وہ خوفناک حد تک کمزور ہوگئی تھیں اور لوگوں نے ان کی صحت پر تبصرے بھی کرنا شروع کر دیے تھے، وہ انتہائی ڈپریشن کا شکار تھیں، بعد میں ڈیانا کے کچھ سکینڈلز سامنے آئے جن کا ذمہ دار انہوں نے پرنس چارلس کو قرار دیا تھا۔

چارلس اور ڈیانا شادی سے قبل 12 دفعہ ایک دوسرے سے ملے۔ فوٹو اے ایف پیدوسری جانب شہزادہ چارلس کی نئی بائیوگرافی میں کہا گیا ہے کہ وہ ڈیانا سے شادی پر دکھ کر اظہار کرتے ہیں۔ ’دی مرر‘ نے شہزادہ چارلس کے الفاظ نقل کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں اس شادی کے بارے میں سنگین نوعیت کے شبہات ہیں جس کا آنسوؤں پر اختتام ہوا۔ چارلس اور ڈیانا شادی سے قبل 12 دفعہ ایک دوسرے سے ملے، اس بائیوگرافی کے مصنف رابرٹ جابسن ہیں جو 30 سال سے شاہی رپورٹر ہیں، وہ تقریباً 18 ماہ تمام سرکاری دوروں پر شہزادہ چارلس کے ساتھ رہے۔ اس شادی کے بارے میں شہزادی ڈیانا کو بھی خدشات تھے، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چارلس کے والد شہزادہ فلپ بھی اس شادی کے حق میں نہیں تھے اس حوالے سے ان کی پرنس کے ساتھ بحث بھی ہوئی تھی اور بعدازاں وہ رضامند ہوئے تھے۔

چارلس اور لیڈی ڈیانا کی بہن سارہستمبر 2019 میں مغربی میڈیا میں یہ خبر سامنے آئی کہ شہزادہ چارلس کا لیڈی ڈیانا کی بہن سارہ سپنسر کے ساتھ بھی تعلق رہا اور ان کی ساتھ ٹہلتے ہوئے کچھ تصاویر بھی وائرل ہوئیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت جب شہزادہ چارلس کو شریک حیات کی تلاش کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا تھا، 1977 میں انھوں نے لیڈی سارہ سے ملاقات کی، اسی سال ان کی ملاقات لیڈی ڈیانا سے بھی ہوئی، لیڈی ڈیانا کی بہن لیڈی سارہ سپنسر کے ساتھ شہزادہ چارلس کا خفیہ معاشقہ رہا مگر سارہ نے شادی سے انکار کردیا تھا۔ برطانوی روزنامے کے مطابق چارلس اور سارہ خفیہ طور پر ایک دوسرے سے ملتے رہے، شہزادہ چارلس سوئس ریزورٹ گئے تو سارہ بھی ساتھ تھیں، ریزورٹ پر لیڈی سارا کا ایک صحافی سے بات کرنا چارلس کو پسند نہ آیا جس کے بعد یہ تعلق اچانک ختم ہوگیا۔ بعدازاں چارلس نے ڈیانا سے شادی کی۔

لیڈی ڈیانا کی خفیہ ٹیپسنوے کی دہائی کے آغاز میں لیڈی ڈیانا نے فن خطابت کو بہتر بنانے کے لیے پیٹر سیٹلین کی خدمات حاصل کی تھیں۔ فوٹو اے ایف پینوے کی دہائی کے آغاز میں لیڈی ڈیانا نے فن خطابت کو بہتر بنانے کے لیے پیٹر سیٹلین کی خدمات حاصل کی تھیں اور ٹیپس بھی انہوں نے ریکارڈ کیں جن میں مختلف مقامات پر ڈیانا مختلف معاملات پر اظہار رائے کرتی ہیں جن میں ازدواجی زندگی بھی شامل ہے۔ یہ تحریری شکل میں بھی سامنے آئے اور کتابوں میں بھی ان کا ذکر ہوا جب کہ 2017 میں چینل فور نامی ٹی وی نے اس پر ڈاکومنٹری ’اِن ہر اون ورڈز‘ بنا کر بھی چلانے کا اعلان کیا، جس پر ڈیانا کے دوستوں کی جانب سے اپیل کی گئی کہ چونکہ یہ مواد ذاتی زندگی سے متعلق ہے اس لیے نشر نہ کیا جائے تاہم اگست 2017 میں یہ ڈاکومنٹری نشر کی گئی اور اس وقت بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے۔

71 ویں سالگرہآج شہزادہ چارلس کی 71 ویں سالگرہ ہے، شاہی روایت کے مطابق آج وہ نجی اور عوامی تقریبات میں شرکت کر رہے ہیں، گھر والوں کے ہمراہ ان کی تصاویر شیئر کی جائیں گی ملکہ برطانیہ کی جانب سے ان کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں کیک کاٹا جائے گا۔

اس موقع پر برمنگھم پیلس یقیناً ڈیانا کو مس کرے گا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.