ملک میں حقیقی تبدیلی لانا چاہتے ہیں، شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ملک کو معاشی طور پر مضبوط اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں۔

ملتان میں مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے میڈیا سے بات جست میں شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ادارے پاکستان کی اقتصادی صورتحال میں بہتری کی نوید سنارہے ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ، تجارتی خسارے میں کمی اور دیگر معاشی اشارے بہتری کو ظاہر کررہے ہیں جبکہ بیرون سرمایہ کار کمپنیاں اب پاکستان کا رخ کررہی ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ بیرونی سرمایہ کاری کی بدولت معیشت مظبوط اور روزگار میں اضافہ ہوگا جبکہ سی پیک اور ون بیلٹ اینڈ روڈ جیسے منصوبے ہماری حکومت کے شاندار منصوبے ہیں اور سی پیک خطے میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ون بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے ذریعے ڈیجیٹل رابطوں ، سیاحت ، ثقافتی روابط اور پائیدار ترقی جیسے ثمرات حاصل ہونگے جبکہ سی پیک دوسرے مرحلے میں داخل ہے اس میں توجہ صنعت سازی اور معاشی و معاشرتی ترقی پر مرکوز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سی پیک منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ” سی پیک اتھارٹی” قائم کردی ہے اور صنعتی ترقی کے لیے حکومت بہت جلد اقتصادی زونز قائم کرنے جارہی ہے۔

سی پیک کا کریڈٹ پچھلی حکومتوں کو بھی دیئگے، اسد عمرحکومت کے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقتدار کی کرسی پر ڈٹے رہنا ہماری منزل نہیں ہے، ملک میں حقیقی تبدیلی لانا چاہتے ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل سی پیک منصوبے پر بات کرتے ہوئے چینی سفیریاؤجنگ کاکہناہے کہ چین نےہمیشہ سیاسی مقاصد اور مخصوص حکومتوں سے بالاتر ہو کر پاکستان کی مدد کی اگرپاکستان مشکل میں ہو تو قرضوں کی واپسی کا تقاضا نہیں کیاجائے گا۔

امریکی نائب وزیرخارجہ ایلس ویلز کے سی پیک سےمتعلق بیان پرچینی سفیریاؤ جنگ نےشدید ردعمل کااظہار کرتے ہوئےکہا کہ امریکا نےپاکستان کی امدادسیاسی ترجیحات پرکیوں معطل کی۔

چینی سفیر نے کہا کہ 2013 میں پاکستان میں توانائی کا شدید بحران تھا۔ اس وقت امریکا کہاں تھا؟ امریکی کمپنیوں نے پاکستان میں پاور پلانٹ کیوں نہیں لگائے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.