ٹی ایل پی کا احتجاج: فرانس کا شہریوں کو عارضی طور پر پاکستان چھوڑنے کا مشورہ

اسلام آباد — پاکستان کی وفاقی کابینہ نے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔ جب کہ پاکستان میں فرانسیسی سفارت خانے نے تمام فرانسیسی شہریوں کو عارضی طور پر پاکستان چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق گزشتہ کئی روز سے پاکستان میں جاری پُر تشدد مظاہروں کے بعد فرانس کے سفارت خانے نے اس بارے میں فیصلہ کیا ہے۔

فرانس کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ پاکستان میں فرانس کے مفادات کو لاحق سنگین خطرات کے باعث فرانسیسی شہریوں اور کمپنیوں کو عارضی طور پر ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں مقیم فرانس کے شہریوں کو سفارت خانے کی ارسال کی گئی ای میل میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی روانگی دستیاب کمرشل ایئر لائنز کے ذریعے انجام دی جائے گی۔

سفارت خانے کا کہنا ہے کہ اس نے احتیاطی طور پر پاکستان میں موجود شہریوں کو، اگر ممکن ہو تو، ملک چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ حالیہ احتجاج نے فرانس کے شہریوں کے لیے سیکیورٹی کے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ فرانس کا پاکستان میں سفارت خانہ بند نہیں ہوا البتہ محدود عملے کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

ٹی ایل پی کے خلاف 115 مقدمات درج، 2063 کارکنان گرفتاردوسری جانب پنجاب حکومت کی وفاق کو ارسال کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں کی ملک کے مختلف شہریوں میں ہنگامہ آرائی اور سڑکوں کی بندش سے معمولات متاثر ہوئے، پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار ہلاک جب کہ 580 زخمی ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق اس دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 30 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس نے ٹی ایل پی کے 2063 کارکن گرفتار کیے جب کہ ان کےخلاف 115مقدمات درج کیے گئے۔

ٹی ایل پی پر پابندی کی کابینہ سے منظوریتحریک لبیک پاکستان پر پابندی کے حوالے سے کابینہ نے منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔

سرکاری اعلامیے کے اجرا کے بعد الیکشن کمیشن کو بھی اس جماعت کے کالعدم ہونے کے حوالے سے آگاہ کیا جائے گا۔

ٹی ایل پی کے ارکان اسمبلی کو اجازت ہو گی کہ وہ آزاد حیثیت میں یا پھر کسی اور جماعت میں شامل ہو سکتے ہیں۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اس بارے میں ٹوئٹ کی تھی کہ تحریک لبیک پاکستان جیسے شدت پسند گروہ اسلام کی شناخت کو بدلنا اور تشدد، انتہاپسندی کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے گروہ کی کوششوں کو ناکام بنانا ہر مسلمان کا فرض ہے۔

دوسری جانب وزیرِ داخلہ شیخ رشید کا اس بارے میں کہنا تھا کہ سڑکوں پر کیا ہو رہا تھا پوری دنیا نے دیکھ لیا ہے۔ صورتِ حال خرابی کی طرف ‏جا رہی تھی۔ پابندی لگانا ضروری ہو گیا تھا۔

تحریک لبیک پاکستان سے معاہدے کے حوالے سے وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹی ایل پی ‏سے جو معاہدہ تھا وہ سابق وزیرِ داخلہ اعجاز شاہ نے کیا تھا۔ اب اس کے مسودے کے معاملے کو لے کر آگے بڑھا جا رہا تھا۔ ٹی ایل پی ‏والوں سے مسودے پر دو دن مذاکرات ہوتے رہے۔ وہ ایسا مسودہ چاہتے تھے جو کسی صورت قبول ‏نہیں کیا جا سکتا تھا۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

65