اپرکوہستان:داسوڈیم کی تعمیر پر مامور چینی کمپنی نےکام شروع کردیا

image
صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع اپر کوہستان میں داسو ڈیم کی تعمیر پر مامور چینی کمپنی نے ڈیم کی تعمیر کا کام آج بروز پیر 25 اکتوبر سے دوبارہ شروع کر دیا ہے۔

داسو ہائیڈ رو پاور پراجیکٹ پر 3 ماہ10 دن کام بند رہا۔ پیر 25 اکتوبر کو کام کے آغاز سے قبل برسین کے مقام پر دعائیہ تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں واپڈا اور چائینیز کمپنی کے افسران اور انتظامیہ نے شرکت کی۔ کمپنی انتظامیہ کے مطابق منصوبے پر کام کی مکمل بحالی مرحلہ وار ہوگی۔ پراجیکٹ پر کام کرنے والے مقامی اور غیر مقامی افراد کیلئے کرونا ویکسینیشن اور پولیس کلئیرنس سرٹیفیکیٹ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اپرکوہستان کے ڈپٹی کمشنر محمد عارف خان یوسفزئی نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات چیت میں داسو ڈیم پر آج سے کام شروع کرنے کی تصدیق کی ہے۔

سیکیورٹی میں اضافہحکومت کی جانب سے پراجیکٹ پر کام کرنے والے عملے کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، جب کہ داسو پاور پراجیکٹ کے علاقے میں پولیس کی 9 نئی چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔ ڈی پی او ملک اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ پراجیکٹ کی سیکیوریٹی کے لئے غیر معمولی اور فول پروف انتظامات کئے گئے ہیں۔

سیکیورٹی اداروں کے اہل کاروں پر مشتمل دستے رہائشی علاقے سے تعمیراتی کام کی جگہ پر تعینات کیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ داسو پاور پراجیکٹ پر کام رواں سال 14 جولائی کو ملازمین کو لے جانے والی بس میں دھماکے کے بعد بند کردیا گیا تھا۔ دھماکے میں 9 چائینیز اور 3 پاکستانیوں سمیت 12 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ بس چینی انجینیرز اور مقامی ملازمین پر مشتمل تعمیراتی ٹیم کو رہائشی کیمپوں سے کام کی جگہ لے کر جا رہی تھی۔

واقعہ کو پاکستانی حکام نے ابتدا میں حادثہ قرار دیا تھا، تاہم بعد میں سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے اسے دہشت گردی کا واقعہ تسلیم کیا۔ واقعہ کی تحقیقات کیلئے ہمسایہ ملک چین کے اعلیٰ سیکیورٹی، سیاسی اور سفارتی عہدیداروں کے علاوہ عالمی بینک کے نمائندوں نے بھی اپر کوہستان کا دورہ کیا تھا۔

ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک بھر میں سی پیک منصوبوں سمیت تقریباً 45 چینی کمپنیاں مختلف تعمیراتی منصبوں پر کام کر رہی ہیں۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.