کترینہ کی شادی پر سکیورٹی سلمان خان کی ہوگی؟

image

بالی ووڈ اداکارہ کترینہ کیف اور اداکار وکی کوشل نے شادی کیلئے ممبئی ایئرپورٹ سے راجستھان کے لیے اڑان بھرلی۔

.کترینہ کی شادی کی تیاریوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں سب سے دلچسپ راجستھان وینیو پر کھڑے سکیورٹی گارڈز کی تصاویر ہیں

انڈیا ٹوڈے کی بالی ووڈ کے سپر اسٹار اور کترینہ کیف کے پرانے دوست سلمان خان کے گارڈز شادی کی سکیورٹی دینگے۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ سلمان خان کے پرسنل گارڈ ‘شیرا’ کی ٹیم نے کترینہ کیف کی شادی کے لیے سکیورٹی فراہم کی ہے۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا نے کترینہ اور وکی کوشل کی کورٹ میرج ہونے کا دعوی بھی کیا ہےجبکہ کترینہ کیف دسمبر کی 9 تاریخ کو راجستھان کے ایک پُر تعیش فورٹ میں اداکار وکی کوشل کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گی جبکہ اس جوڑی کی مہندی اور سنگیت کی رسمیں دسمبر کی 7 اور 8 تاریخ کو ہونا طے پائی ہیں۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کترینہ کیف اپنی والدہ، بہن اور دیگر اہل خانہ کے ہمراہ پانچ دسمبر کی شام گاڑی میں خاموشی سے وکی کوشال کے گھر پہنچیں اس موقع پر انہوں نے سفید رنگ کی عروسی ساڑھی زیب تن کی ہوئی تھیں۔

View this post on Instagram A post shared by Viral Bhayani (@viralbhayani)

بھارت کے معروف پپرازی وائرل بھیانی کی پوسٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ شادی 2 مختلف طریقوں سے انجام پائے گی، پہلے طریقے میں 7 پھیروں کے ساتھ ہندوانہ رسم و رواج کے تحت شادی کی رسم ہوگی جب کہ دوسرے طریقے میں وائٹ ویڈنگ کے تحت کترینہ اور وکی شادی کے بندھن میں بندھیں گے۔

View this post on Instagram A post shared by Viral Bhayani (@viralbhayani)

کترینہ کی شادی میں انڈین اور ویسٹرن اسٹائل دونوں اپنایا جائے گا جبکہ مہندی گالا نائٹ کیلئے 400 خواتین کے ہاتھ میں مہندی لگائی جائے گی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق کترینہ کیف اور وکی کوشل شادی کی تقاریب کی معلومات کو خفیہ رکھنے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

مدعو کیے گئے مہمان کسی کو بھی شادی سے متعلق نہیں بتائیں گے۔

شادی کی تقریب میں کسی قسم کی بھی فوٹو گرافی پر پابندی ہوگی۔

جوڑے کی تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر پابندی ہوگی۔

سوشل میڈیا پر تقریب کے مقام کی لوکیشن اپڈیٹ کرنے پر پابندی ہوگی۔

شرکت کرنے والے مہمان تقریب کے دوران کسی سے فون پر بات نہیں کریں گے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.