ریاستی دہشت گردی سے قوم کو غلام نہیں بنایا جاسکتا، شہباز شریف کی یاسین ملک کے جعلی مقدمے کی مذمت

image

وزیراعظم شہبازشریف نے ممتاز حریت راہنما محمد یاسین ملک کو دہشت گردی کے جعلی مقدمے میں ملوث کرنے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ بے مثال بہادری و حریت کی علامت اور ضمیر کے قیدی یاسین ملک کے خلاف بھارتی ہتھکنڈہ مسترد کرتے ہیں، یہ کشمیریوں کو جھکانے کی ناکام کوشش ہے، عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کونسل ماورائے قانون وانصاف اور انتقام پر مبنی بھارتی اقدام کا نوٹس لے۔

حکومت پاکستان عالمی وانسانی حقوق کے تمام اداروں اور اوآئی سی کے فورم پر یاسین ملک اورکشمیری قیادت کے خلاف انتقامی کارروائیوں کوپوری قوت سے اٹھائے گی، 5 اگست 2019 کے ناجائز اور غیرقانونی اقدامات کی طرح یاسین ملک کے خلاف مقدمہ بھی غیرقانونی اور ناجائز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 

جموں وکشمیر پر ناجائز قبضہ کرنے والا بھارت کشمیریوں کی نمائندہ حقیقی قیادت کو ختم کرنے کی سوچی سمجھی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہے، آزادی کشمیر کی نشانی سید علی گیلانی شہید کے جسد خاکی سے ڈرنے والا بھارت یاسین ملک کی حق گوئی سے خوف زدہ ہے۔

اشرف صحرائی شہید، ان کے شہید صاحبزادے سمیت ہزاروں شہداءکشمیر تحریک استصواب رائے کے حصول کی منزل کے سنگ ہائے میل ہیں، یہ سب شہداءجموں وکشمیر میں غیرقانونی طور پر قابض بھارت کے ظلم وبربریت اور ریاستی دہشت گردی کے ثبوت ہیں۔

پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت کے سیاہ قوانین اور عدالتی نظام عدل کے عالمی وفطری تقاضوں کے منافی ہے، مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ کسی قوم کو جبر وریاستی دہشت گردی ، سیاہ قوانین اور سزاﺅں سے غلام نہیں بنایا جاسکتا۔

ناجائز حکومت کے سیاہ قوانین سے مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو غلام نہیں بنایا جاسکتا، بہادر کشمیریوں کو ان کی بے مثال جدوجہد پر سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے اس مقصد کے لئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔

عالمی برادری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق تنازعہ جموں وکشمیر حل کرائے، پاکستان کی حکومت اور عوام کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کی ہر ممکن حمایت جاری رکھیں گے۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.